آئی اے رحمٰن آخری سانس تک انقلابی رہے،مقررین
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئی اے رحمٰن آخری سانس تک انقلابی رہے،مقررین

لیڈز (پ ر) آئی اے رحمٰن نے صحافتی قلم کو ملک میں جاری طبقاتی ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف مہارت سے استعمال کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی ترقی پسند سیاست سے منسلک ہوگئے اور آخری سانس تک انقلابی رہے۔ انہوں نے ادیبوں اور صحافیوں کی تین نسلوں کی تربیت کی اور قلم کی خدمت کو پامال نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے چار مارشل لائوں کی مذمت کی جس کی پاداش میں انہیں ملازمت سے برخواست، دھمکیاں، پابندیاں اور جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی، آئی اے رحمن پاکستان میں انسانی حقوق کے باپ کا درجہ رکھتے تھے۔ عوامی ورکرز پارٹی برطانیہ کے آن لائن زوم پر تعزیتی ریفرنس سے مختلف مقررین نے اپنے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا، تقریب کی صدارت عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے صدر محبوب الٰہی بٹ نے کی جب کہ نظامت کے فرائض پرویز فتح اور نزہت عباس نے ادا کیے۔ تقریب سے اظہار خیال کرنے والوں میں بزرگ سوشلسٹ رہنما اور عوامی ورکرز پارٹی کے بانی صدر عابد حسن منٹو، ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کمیشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری اور ترقی پسند شاعر حارث خلیق، عوامی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری ممتاز قانون دان اختر حسین، بزرگ صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار حسین نقی، ممتاز ماہر تعلیم اور سوشلسٹ رہنما ڈاکٹر عاصم سجاد اختر، عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کی جنرل سیکرٹری عابدہ چوہدری ایڈووکیٹ، اسلام آباد سے ممتاز ماہر تعلیم اور سول رائٹس کی علم بردار ڈاکٹر فرزانہ باری، بزرگ ٹریڈ یونین رہنما اور ریلوے ورکرز یونین کے صدر منظور احمد رضی، انسانی حقوق اور خواتین کی برابری کی علم بردار صنوبر نادر اور عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے جنرل سیکرٹری لالہ محمد یونس شامل تھے، مقررین نے آئی اے رحمن کی68سالہ سیاسی، صحافتی اور انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد اور مستقل مزاجی کے پہلوئوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ1930ء میں متحدہ ہندوستان کی ریاست ہریانہ پیدا ہونے والے ابن عبدالرحمن نے آنکھ کھولی تو آزادی کی جنگ زوروں پر تھی۔ برطانوی سامراج نے مذہبی منافرت کی آگ بھڑکا دی۔ بھائی، بھائی کا دشمن بن گیا تو ان کے خاندان نے نئے بننے والے پاکستان کا رخ کیا۔ زیادہ تر خاندان ملتان میں آباد ہوگیا لیکن ان کا گھرانہ لاہور میں ہی رہا۔ دوران تعلیم ہی انہوں نے ترقی پسند سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا اور کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت کرلی۔ 1953ء میں ہماری اسٹیبلشمنٹ نے امریکی ایما پر پارٹی پر پابندی عائد کردی تو انہوں نے سماجی تبدیلی اور ملک میں جاری طبقاتی ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف قلم تو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا، اسپورٹس، آرٹ کے شعبوں سے ہوتے ہوئے فیض احمد فیض اور مظہر علی خان کے ساتھ اخبارات میں کام کیا وہ مختلف اخبارات کے ایڈیٹر بھی رہے۔ انہوں نے ایک سیاسی، صحافتی اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن کے طور پر68برس تک انتہائی سنجیدہ اور دبنگ انداز میں اپنا کردار ادا کیا۔ بعدازاں بار، بار مارشل لائوں اور ملک میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بنیاد رکھی اور دو دہائیوں تک اس کے ڈائریکٹر اور بعدازاں اس کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ انہوں نے پاکستان میں صحافیوں، مزدور انجمنوں، کسان، کارکنوں، خواتین کے حقوق کے علمبرداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مذہبی اقلیتوں کی تین نسلوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے50ء کی دہائی کے آغاز میں جس صحافتی سفر کا آغاز کیا، اپنے انتقال سے چار روز قبل بھی اخبار کے لیے اپنا مضمون لکھا۔ مقررین نے کہا کہ آئی اے رحمن جنہیں ہم پیار سے رحمن کہتے ہیں، انسانی عظمت کی سر بلندی اور سماجی تبدیلی کی تحریکوں کی صورت میں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے اور قلم کو سماجی تبدیلی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں ہماری رہنمائی کرتے رہیں گے۔ 
یورپ سے سے مزید