بیشتر افراد روایتی تدفین نہیں چاہتے، ایٹرنل ریفس
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیشتر افراد روایتی تدفین نہیں چاہتے، ایٹرنل ریفس

کراچی (نیوز ڈیسک) کووڈ 19وبائی بیماری دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کے لئے دل کی تکلیف کا باعث بنی ہے جو اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیشتر افراد تخلیقی طور پر سوچتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد اپنے جسم یا راکھ کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔فلوریڈا کی فرم ایٹرنل ریفس (ابدی مرجانی یا مونگے کی چٹان) کا کہنا ہے کہ وباء کے نتیجے میں اس کی کسی حد تک غیر معمولی خدمات میں دلچسپی کافی بڑھ گئی ہے۔ وہ 1998 سے نئے مرنے والوں کو سمندر کی سطح پر ان کی باقیات کو مصنوعی چٹانوں کی شکلوں (مرجانی یا مونگے کی چٹان) میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ وہ ایسا ان کی راکھ کو ماحول دوست کنکریٹ مکس میں شامل کرکے کرتی ہے۔ ایٹرنل ریف کے چیف ایگزیکٹو جارج گرینکل کا کہنا ہے کہ وبائی مرض نے دلچسپی کو بالکل تیز کردیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ وبائی مرض نے بہت سارے لوگوں کو روایتی تدفین کے علاوہ کسی اور چیز کے تصور تک پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ سال سے 2 ہزار سے زائد کمپنی کی ریفس کو امریکی مشرقی ساحل کے نزدیک 25 جگہوں پر رکھ دیا گیا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید