• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بھارت میں کورونا کی ہولناک صورتحال کی وجوہات کیا ہیں؟


بھارت میں کورونا وائرس  کی ہولناک صورت حال کی وجوہات سامنے آگئی۔

حکمرانوں نے خود بڑے بڑے اجتماعات کیے، ایک لاکھ آبادی کے لیے صرف ڈھائی آئی سی یو رکھنے والا کمزور نظام صحت دھڑام سے گرگیا۔

متعددی امراض کے امریکی ماہر فہیم یونس نے بھارت میں کورونا کی تباہ کاریوں پر تجزیہ دیتے ہوئے حل بھی تجویز کردیا۔

کورونا وائرس  کی تیز پھیلنے والی برطانوی اور بھارتی اقسام کے وار بھی سامنے آئے اور نئے وائرس کی جانچ کرنے کے طریقہ کار جینوم سیکوئنسنگ کا نہ ہونا بھی خوفناک صورت حال کی وجہ بنا۔

  فہیم یونس نے کہا کہ یو کے اور انڈین ویرینٹ کے خلاف ویکسین موثر ہے، لہٰذا ویکسین لگائی جائے۔

دوسری طرف الہ آباد ہائی کورٹ نے بھارت میں آکسیجن کی فراہمی رکنے سے ہونے والی اموات کو مجرمانہ فعل اور نسلی کشی کے برابر جرم قرار دےدیا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا، ہائی کورٹ بینچ کے آرڈر میں ججوں نے کہا کہ انہیں جان کر سخت دکھ ہواکہ ملک میں کورونا مریضوں کی اموات محض آکسیجن کی فراہمی منقطع ہونے سے ہوئی۔

بینچ نے کہا کہ یہ ایک مجرمانہ فعل اور کسی نسل کشی سے کم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ بھارت میں آکیسجن کی قلت سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔

بھارت میں کورونا وائرس کی ابتر صورتحال ہے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں گزشتہ ہفتے دنیا بھر کے 46 فیصد کیس اورجنوب مشرقی ایشائی حصے کے 90 فیصد کیس رپورٹ ہوئے، دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی ہر چار میں سے ایک موت بھارت میں ہوئی۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتےدنیا بھرمیں کورونا وائرس کے 5.7 ملین نئے کیس اور 93 ہزار سے زائد اموات ہوئیں، جن میں سے 2.6 ملین کیس بھارت میں رپورٹ ہوئے۔

عالمی ادارہ کے مطابق یہ تعداد اس سے پہلے ہفتے کے مقابلے میں 20 فیصد زائد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایسا نظر آرہا ہے کہ بھارت کی وبا اس کے پڑوسی ملکوں میں بھی پھیل رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید