• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قرنطینہ سے بچنے کیلئے برطانویوں کا ترکی سے سفر

راچڈیل(نمائندہ جنگ)ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کیلئے سفر کرنے والے برطانوی شہریوں نے حکومت کے منظورکردہ قرنطین ہوٹلوں میں مہنگے ترین قیام سے بچنے کیلئے ترکی کے راستےسے سفر شروع کر دیا، ترکی کے شہر استنبول کو استعمال کر کے برطانیہ میں 10 یوم کے قرنطین کے دوران بھاری اخراجات سے بچنا ممکن ہوگیا،برطانیہ کی طرف سے ریڈ لسٹ میں شامل کیے جانے والے ممالک کیلئے سفر کرنے والے تمام مسافروں پرلازم ہے کہ وہ اپنے خرچے پر 10 یوم تک ہوٹلوں میں قرنطین کریں گے کسی بھی قرنطین ہوٹل میں 10 یوم تک الگ تھلک رہنے کے لیے مسافروں کو 1750پائونڈ فی کس کے حساب سے اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں جو انتہائی مہنگا پیکیج ہے جن لوگوں نے یہ راستہ استعمال کیا ہے انہیں ہر صورت آئسولیشن اختیار کرنی چاہئے ،استنبول میں واقع ایک ہوٹل کارکن کے مطابق پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے شہریوں کو برطانیہ کے لیے ترکی سے پرواز کرتے دیکھا گیا یہ سب برطانیہ کی سرخ لسٹ والے ممالک میں شامل ہیں، پاکستان سے برطانیہ واپس آنے والے بیشتر مسافروں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ شادی کی تقریبات اور جنازوں میں شرکت کیلئے پاکستان گئے تھے ،بیشتر مسافروں کا موقف ہے کہ وہ سفری قوانین تبدیل ہونے کی صورت میں برطانیہ لوٹنے کیلئے قرنطین اختیار کرنے کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، بریڈ فورڈ میں اولمٹراکس ٹریول کے ٹریول ایجنٹ ایسچر خواجہ کے مطابق ان کے کلائنٹس جو پاکستان گئے تھے 9اپریل کو برطانیہ کی ممنوعہ فہرست میں شامل ہونے کے بعد انہیں واپسی پر بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے پاس ایسے صارفین کی کمی نہیں جو واپس آنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، ترکی میں انفیکشن بڑھنے کے باعث لاک ڈائون لگایا گیا مگر یہ برطانیہ کی ریڈ لسٹ میں شامل نہیں ہوا، ہوٹل میں 1750پائونڈ دینے کی بجائے یہاں سے 6سو پائونڈ میں ٹریول اور سفری مشکلات سے بچا جا سکتا ہے ،ترکی میں داخل ہونے والے کسی بھی شخص کا 72 گھنٹوں کے اندر منفی کوویڈ ٹیسٹ ہونا ضروری ہے، ملک چھوڑنے کے لئے ان کا منفی پی سی آر ٹیسٹ ہونا بھی لازم ہے تاہم غیر ملکی سیاحوں کو ترکی کے موجودہ لاک ڈاؤن قوانین سے استثنیٰ حاصل ہے۔ 
یورپ سے سے مزید