آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جب ملت ہی نہ بن سکی تو قوم کا گروہ در گروہ تقسیم ہونا لازم ٹھہرا۔برادرم حامد میر نے اٹل حقیقت ہی کو تو دہرایا ہے”پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ نظریہ ہے“۔ نظریہ کے اسلام ہونے میں کوئی ابہام ہے ہی نہیں۔مالک ِکائنات نے آفرینش سے تاقیامت تک دین اسلام ہی کو تو پسند فرمایا ہے اور نبی آخرالزماں پر اس کی تکمیل کی۔
ہماری اشرافیہ نے دین کامل کوتختہ ِ مشق بنادیا۔آج اگر قیامت ٹوٹی ہے اور قوم پارہ پارہ نظر آتی ہے تواس کی وجہ ہی دین سے دوری ہے۔ بدقسمتی سے قوم نے ملک حاصل کیا ملک نے قوم کھو دی۔ہر آنے والی دہائی نئی تفریق اور نئی عصبیت کا تحفہ دے رہی ہے۔عالمی ریشہ دوانیاں عروج پر جبکہ بلوچستان، کراچی اوروطن عزیز کے طول و عرض میں آگ اور خون کی ہولی نوشتہ ِ دیواربن چکی۔ قائداعظم کی ریذیڈنسی پرحملہ ، وطن عزیز کی بچیوں اور رکھوالوں کا قتل ِ عام سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ نظریاتی اساس کی بیخ کنی کی کوشش ہی تو ہے جبکہ ہمارے راہبر دامے درمے سخنے ممدومعاون۔ جنہوں نے قوم بنانی تھی وہی عالمی ریشہ دوانیوں کو پروان چڑھا رہے ہیں ۔
شیخ سعدی نے توعروس البلادبغداد کی بربادی کا تاریخی نوحہ کہہ دیا۔ہماری کسمپرسی پر کون نوحہ خواں ہو گا۔ خلافت ِ عباسیہ کا آخری خلیفہ مستعصم باللہ ِ آراخلافت پرایسے متمکن ہوا کہ خلیفہ کی عظمت اور

رعب ودبدبہ سے بڑے اکابر، اشراف لرزہ بر اندام ۔ اکابرین کی دربار خلافت میں باز یابی بہ مشکل ہو پاتی۔ عیش و عشرت کا سامان تاحد ِ نگاہ بغداد میں وافر مقدار میں موجود۔ علم و فن اور حرفت معرفت میں اپنی مثال۔ تقریبات یا مرجع خلائق بننے کے لیے خلیفہ محترم کی سواری گزرنا ہوتی تو رستے رک جاتے ۔ بالا خانے خالی ہو جاتے۔ دربار ِعباسیہ کے باہر ایک پتھرمانند حجر اسود نصب تھا جس کو بڑے بڑے وزرا، عہدیدران ، اکابرین ، دانشورجھک کربوسہ دئیے بغیر داخل نہ ہوسکتے۔ شیخ سعدی نے بغداد کے طمطراق کا مشاہدہ بھی کیا اور پھر تاتاریوں کے ہاتھوں تاراج ہوتے ایسے دیکھا کہ محلات کی ڈیوڑھیوں سے خون باہر اُمڈ رہاتھا۔ ہلاکوخان کے خونخوار لشکر ِتیغ بے دریغ نے عباسیوں کا ایسا قلع قمع کیا کہ عرب سطوت کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ شیخ سعدی رقم کر گئے ”نازنیناںِ حرم کا خون ڈیوڑھی سے باہر آگیا اور دل کا خون ہماری آستین سے ٹپک پڑا(ترجمہ) “پھر کیاتاریخی نوحہ لکھا۔”آسمان پر لازم ہے کہ مستعصم کی تباہی پر زمین پر خون کی بارش برسائے اے میرے پیارے نبیﷺ اگر آپ قیامت ہی کو مرقد سے باہر نکلیں گے تو ابھی نکل آئیں قیامت تو آپکی امت پر آچکی (ترجمہ)“۔اب کہاں سے لائیں رازی و رومی ، سعدی واقبال جو ہمارا نوحہ لکھیں۔
ملک کے طول و عرض میں ہونے والی قتل و غارت ہسپتالوں، مسجدوں ، امام بارگاہوں کی ڈیوڑھیوں سے باہر آتے خون پرمر ثیے رقم کرنے والے خال خال۔ بلوچستان میں درندوں نے صرف معصوم انسانوں کا قتلِ عام نہیں کیا بلکہ امت کی واحدت کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضروب کیا ہے عالمی استعمارکے یہ گماشتے ، ملائیت ، قومیت ، لسانیت عصبیت پر قوم کو تقسیم در تقسیم کے عمل میں مصروف ہیں۔قوم بھی تو بے راہ روی پر چل پڑی ۔اللہ اور اس کے رسول سے بے رخی اختیار کر لی ۔ حکم تو واضح ہے ۔ اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو( سورة البقرہ)۔ حکمرانوں نے تو مثال بننا تھا۔”اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر (انفعال )“۔ ایمان والو کو تلقین کی جا رہی ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری میں غرق ہو جاؤ۔ایران کی مثال سامنے صرف اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما عظیم قوم بن گئی۔قائداعظم نے تو ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو یک جان بنا دیا۔ پاکستان کا مطلب اور تھا ہی کیا؟۔پاکستان بناتے وقت اللہ سے وعدہ بھی تو یہی تھا۔ ایک غیر مسلم نوجوان محقق ولیم مرٹزنے یہی تو ثابت کیا کہ پیرو مرشد کی تلقین اورپَندو نصیحت نے قائد کے تصورِ مسلم قومیت میں قرآن و سنت کی روح ڈال دی۔ دیدہ ور نے پھر پیچھے مڑ کر دیکھانہ ناصح کو مایوس کیا۔ مسلمانوں کو لاالہ اللہ کی لڑی میں پرو دیا۔ ملک آزاد ملا توقوم آباد نہ ہو سکی۔بدنصیبی قیادت کی خواہش میں جان کی بازی لگانے والے نظریہ کو مسخ کرنے میں جت گئے ۔تاویلات اور توجیہات جان لیوا بن چکیں۔ زاغوں کے تصرف میں عقابوں کا نشیمن ۔ایک قوم بنانے کے لیے جو رہنما اصول وضع کئے وہ ربط ملت کو پارہ پارہ کر گئے ۔ قوم کو مرکزِ ثقل سے دور کردیا گیا۔من حیث القوم خائن، دروغ گو اور اوباش بنانے کا ہر حربہ بروئے کار لایا گیا۔ اسلام پر براہ راست نشانہ داغناممکن نہ تھا۔سابقے لاحقے لگانے پڑے۔ سراسیمہ لیفٹ،لبرل فاشٹ، پراگندہ ملائیت ساعت بہ ساعت دین کامل کو اپنی کم علمی اور جہالت کی بھینٹ چڑھاچکے ۔ قرآن نے پہلی قوموں کی بربادی کی وجہ ہی یہی بتائی کہ یہود و نصاریٰ اور پچھلی قوموں نے چھوٹے موٹے فوائد کے لیے دین اسلام کی کُتر بونت کی۔ بانیان پاکستان نے تو قرار داد مقاصد کے ذریعے صراط المستقیم کا تعین کر دیا لیکن ذات کے اسیرقائدین اپنے مذموم مقاصد کی خاطر اسلام کی پیوند کاری میں جت گئے ۔ کبھی آمریت کو پروان چڑھانے کے لیے امیر المومنین بن گئے، جدید جمہوریت کی آڑ میں اقدار کا جنازہ نکالا،کبھی سوشلسٹ معیشت کا پیوند لگانے کی کوشش میں دہائیاں غرق ہو ئیں اور حالیہ فتنہ ”اسلامی فلاحی ریاست“ کے روپ میں۔ مارکیٹنگ جاری ہے۔ اسلام مولویوں، بابوؤں، سیاستدانوں ، دانشوروں کے مشق ستم کی زدمیں ۔
روائے دین وملت پارہ پارہ
قبائے ملک و دولت چاک در چاک
یہی حال تو تھا بغداد کا ،جب تاتاریوں نے خون کا غسل دیا۔ہمارے قائدین مرجعِ خلائق بننے کوبھی تڑپتے ہیں اور خلقت کوپراگندہ عزائم کا ایندھن بنانے میں مصروف بھی ۔یہ تصور بھی شرک ہے کہ دین کامل جوڑ توڑ ، حاشیہ آرائی، تزئین و آسائش، پیوند کاری کا متحمل ہو سکتا ہے۔
معذرت خواہانہ اصطلاحات قوم کو تتر بتر کرنے کا موجب ہی تو بنی ہیں۔ استعمار سے مستعار لی ہوئیں اصطلاحات” سوشلسٹ معیشت “، ”مغربی جمہوریت“ اور” فلاحی ریاست“ لادینیت کے پرچارک کے سواکچھ نہیں اگر پاکستانی قوم مسلمان قوم بننے سے دور ہو جائے اگر اسرائیل یہودیت سے جان چھڑوا لے تو دونوں ریاستوں کی وجہ وجود ہی ناجائزسمجھی جائے گی۔پیرومرشد سے معذرت کے ساتھ
مری نگاہ میں ہے یہ سیاست لادین
متاعِ تحریر ہوتی ہے جب نظر اسکی
کینزا ھر من و دوں نہاد و مردہ ضمیر
تو ہیں ھر اول’ِ’امت“ کلیسیا کے سفیر
جن لوگوں کو رشد و ہدایت عام کرنا تھی وہ تو اصطلاحات کا سودابیچنے میں لگ گئے ۔اسلام کو نظام حیات سمجھنے میں ذہنی لُکنت حائل ہوچکی۔ بانیان تو رہنما اصول وضع کرکے رخصت ہوئے ۔قائداعظم کی احتیاط کا عالم کہ سیکولر،فلاحی ،سوشلسٹ کے الفاظ منہ سے نہ نکلے مبادا غلط توجیہہ نہ ہو جائے ۔اشراف ،اکابرین نے پاکستان کو غریب کی جوروبنادیا اور خود ذاتی مفادات کے حصار میں مقید ۔ عوام الناس کے رجوع کی قدر کرنے کی بجائے دھوکہ دہی کاعالمی نظام رائج کرنے میں مگن۔ ہماری روایات جو معیار مقرر کرتی ہیں اس میں تو بکری کو دھوکا دینے والے سے حدیث مبارکہ بھی نہ لی گئی۔کیا قوم جوڑنے اور قیادت کے لیے ایسے قائدین پرانحصار ہو سکتا ہے جو اقتدار ، دولت، طاقت کو رب مان چکے ہوں۔ نظریاتی طورپر بانجھ ہوں۔ ایسے حالات میں انارکی، افراتفری، خوف ، وسوسے، بداعتمادی کی گرفت ہی تو تنگ ہو گی۔حالات ایسے چلتے رہے تو تاتاریوں کی ہولناکیوں کے بغیر ہی خاکم بدہن نیست و نابود ہو جائیں گے۔ طاقت ، مال و دولت اولاد کے عشاق تاریخ کا سبق پڑھ لیں یہ مال و زر اور اولادیں خلافتِ عباسیہ کو تاتاریوں سے نہ بچا سکیں۔ وطن ِ عزیز کی مختصر تاریخ کیاروایت کرتی ہے ؟ جاہ حشمت کی علامتیں ایوب خان، یحییٰ خان، بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر کتنے ناپائیدار ثابت ہوئے ۔ نواز شریف سلاخوں کے پیچھے کتنا نحیف و لاغر نظر آیا۔ عمران خان کے بلندی سے گرنے پر گودل و دماغ ماؤف ہو گئے مگرحضر ت انساں کی بے کسی کا تعین تو ہو گیا۔ اگرنابود و ناپید ہونا آشکار ہو ہی چکاتو پھر زعم کس بات کا۔ایمان لانے کے باوجود ضابطہ اخلاق ، اصول معیشت، رفاعی فلاحی نظام جیسی مغرب زدہ اصطلاحات چہ معنی۔ اگر چال بے ڈھنگی رہی تو نوحہ خواں بھی میسر نہ ہوں گے البتہ آنے والی قیامت نہ ٹلے گی۔ قیادت چاہیے مثل قائد کے جس کی پہلی پکار اور آخری آہ امت ِ واحدہ کے لئے وقف رہی۔ فرد کو ملت بنانا ہے تو راستہ ایک ہی ہے۔
یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لاالہ الا اللہ
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لاالہ الا اللہ

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں