• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہوش خولہ راؤ، ٹنڈو الہ یار

’’چلو بچّو! جلدی کرو… ‘‘جاوید چچا کے اعلان کے ساتھ ہی بچّےدھڑا دھڑ سیڑھیاں اُترنے لگے، جو بالکل ’’ریڈی …گو‘‘ کیفیت میں کھڑے تھے، کیوں کہ چھوٹے چچاعید ملنے کا آغاز،تینوں بھائیوں کے بچّوںسمیت بڑے تایا کے گھر جا کر ہی کرتے۔ لڑکیاں ٹکا ٹک سینڈلز بجاتی، پرس ٹانگے، چشمے لگائے اُتریں اور پھر سب رستے سے عیدی کے کڑک نوٹوں کی آئس کریم، دہی بھلّے کھاتے تایا کے گھر پہنچے۔دروازہ تایا ابّو نے کھولا ،پہلے چھوٹے چاچا سے، پھر بچّوں کی فوج سے مل مل کران کے کندھے گِھس گئے۔

پھر ہم بچّوں نے مل کر تائی امّی کی پروا کیے بغیر گھر کی ایک ایک چیز اپنی جگہ سے ہلا ڈالی۔ جب در ودیوارہلنے کی نوبت آن پڑی تو تائی امّی نے ہمیں ایک جگہ ٹِکانے کے لیے ٹی وی لاؤنج میں مووی لگا دی اور مختلف انواع و اقسام کےلوازمات میز پر سجا دئیے۔ کچھ دیر ہم سب شدید مصروف رہے، پھر جیسے ہی لوازمات ختم ہوئے، پارہ صفت طبیعت بھی بے چین ہو گئی۔ لیکن اب کی بار پلان بنا کہ اب بقیہ رشتے داروں سے عیدی بٹوری جائے۔

ہم سب کزنز مہم پر نکل کھڑےہوئےاوربڑے تایا کے بچّے ملا کر کُل 29افراد کا قافلہ ابّا کے ماموں زاد بھائی کے ہاں پہنچا۔وہاںتائی امّاں نے دروازہ کھولا تو اس لاؤ لشکر کو دیکھ کر ایک دفعہ تو انھیں ہارٹ اٹیک آتے آتے بچا، مگر حوصلے کے ساتھ ہمیں اندرلے گئیں۔لاؤنج میں بٹھایا ،ویسے وہ ہماری آمد کے لیے ذہنی طور پر تیار تھیںکہ ہم ہر سال اسی طرح پورے خاندان میں عید ملنے جاتے ہیں۔

چینی گھولنےکی آواز سُن کر ہم نے بڑی ڈھٹائی ،بے شرمی سے کہا ’’تائی امّاں! چائے کا موڈ ہے۔‘‘ تو ان کی بیٹی، مرحبا چائے ، شربت دونوں لے آئی۔شربت سے منکر افراد تائی امّاں کے شربت سے واقف تھے،لیکن مرحبا کے ہاتھوں سے تیار بلیک ٹی کی سیرت توصُورت سے زیادہ بھیانک نکلی۔اب احوال کچھ یوں تھا کہ چائے والے شربت والوں کو، شربت والے چائے والوں کو مستقل آفر دے رہے تھے، ’’تُو پی لے، تُو پی لے …‘‘ تھوڑی دیر بعد مرحبا کی ایک دفعہ پھر ٹرے کے ساتھ آمد ہوئی تو ہم سب کے منہ سے دھیما سا’’ مرحبا‘‘ نکلا۔وہ ٹرے رکھ کر جیسے ہی گئی، ہم نے ٹرے میں جھانکا ایک پلیٹ میں بارہ نمک پارے اور دوسری میں میٹھا چیوڑاتھا۔

بارہ بچّوں نے بارہ نمک پارے کھائے اور باقی سترہ نمک پاروں سے مستفید ہونے سے رہ گئے۔یہ سترہ افراد بڑے کزنز تھے، اس مختصر مہمان نوازی کو دیکھ کر انہوں نے خودی کا مظاہرہ کیا اور آنکھ اٹھا کر ٹرے میں نہ دیکھا۔باقی بچّوں نےچیوڑے کی پلیٹ سے پہلے پہل مونگ پھلی ٹونگی، پھر آہستہ آہستہ سارا ہڑپ کر گئے۔

صائمہ آپی گھورتی رہیں، مگرہم بچّےغور و فکر والی حالت ميں نہ تھے۔ ’’مالِ غنیمت لُوٹ لیا ہو تو اب گھر چلیں؟‘‘فرزانہ باجی اٹھتے ہوئے بولیں ، توہم سب بچّوں نے کورس میں تائی اماں کو’’ عید مبارک، عید مبارک‘‘ کہنا شروع کر دیا، جب چار، پانچ بار عید مبارک دُہرا چُکے تو آخر کار تائی امّاں نے عیدی دے ہی دی، فی بچّہ 10 روپے…

اگلا ہدف ماجدہ چچی کا گھر تھا، وہاں ہماری اچھی تواضع ہوئی اور خُوب عیدی بھی بٹوری۔ پھپھو کے گھر پہنچنے تک شام ڈھل چُکی تھی۔’’ارے! ایسے ٹائم پر آئے ہو، تہوار کےدن سوکھے منہ کیسے بھیجوں؟‘‘پھپھو کی بات سُن کر انعم نےسدرہ کے کان میں کہا’’ٹائم پوچھ لو، کل اُسی ٹائم آجائیں گے۔‘‘ مگر فرزانہ باجی لحاظِ مروّت میں بولیں’’ پھپھو !کوئی بات نہیں تکلّفات میں نہ پڑیں۔‘‘ 

پھر بھی پھپھو زاد کھانا پینا لے ہی آئیں، تو ہم نے دھاوا بول دیا،تو مدیحہ آپی نے برتن اٹھا کر پھپھو زاد بہن کے حوالے کرتے ہوئے انکساری سے کہا ’’بس بچّوں کو کولڈرنک نہ دیں، یہ نہیں پیتے۔‘‘ ’’نہیں !ہم تو پیتے ہیں۔‘‘ہم تو پھر ہم تھے،ایسے کیسے کولڈر رنک ہاتھ سے جانے دیتے۔ اب برداشت کی حد ختم ہوچُکی تھی۔ سو،وہاں سے اجازت لی اور پھرگھر آ کر باجیوں سمیت تمام گھر والوں نے جو ہمارا’’ پیٹ بَھرا‘‘تو اگلے دن تک گالوں کی لالی تونہ گئی، البتہ ساری عیدی ضرور چھین لی گئی اور یوں ہماری عید ’’تمام‘‘ ہوئی۔