• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن
ہمیں اس معاملے کی تہہ تک تو نہیں پہنچنا کہ دنیا میں جو عالمی سطح پر ابتری پھیلی ہے اور شیرازہ بکھر رہا ہے وہ کیوں ہے، کس وجہ سے ہے؟ کیونکہ ہم تو اپنے تئیں ہی اندازے لگا کر کہہ دیتے ہیں کہ یہ ہمارے اعمال کا شاخسانہ ہے کہ ہم مسلمان اپنی کرتوت و عمل کی وجہ سے اس سزا کے حق دار ٹھہرے ہیں کیونکہ اگر ہم اچھے مسلمان ہوتے تو کبھی عام لوگوں کابرا نہ چاہتےکہ انہیں مہنگی اشیاء نہ بیچیں اور اگر سستی چیزیں بیچنے کا خیال آبھی گیا تو اتنی ناقص ہوتی ہیں کہ ملاوٹ کی میل سامنے نظر آتی ہے۔ دودھ میں گدلا پانی سے گوشت تک مردار جانوروں کے کھلائے جاتے ہیں آزمائش کے اس دور میں جہاں ایک صحت مند، چلتا پھرتا شخص دنوں میں کورونا کا شکار ہو کر لقمۂ اجل بن رہا ہے وہاں آپس کی عداوتیں، بدنظمی اور معاشرتی انتشار تو ان برے حالات میں سرے ہی سے ختم ہو جانا چاہئے تھے مگر کینہ پروری اور فساد ی ذہن لوگ جب تک ہیں تو وہ قوم و ملک کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہیں گے۔ آج دنیا بھر کا موضوع ایک ہی ہے بلکہ گزشتہ سال سے ہمارے کان ایک ہی موضوع پر اٹکے ہوئے ہیں۔ کانوں کو جو آوازیں سنائی دے رہی ہیں وہ یہ ہیں کہ کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ، دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات 32 لاکھ سے بڑھ کر48 لاکھ ہوگئی۔ متاثرین، وائرس، اموات، ہوسپٹل، آکسیجن، وینٹی لیٹر وغیرہ وغیرہ۔ تو کورونا وائرس کے گرد گھومتے حالات نے اچانک پلٹا کھایا اور ہر طرف ہفتہ بھر سے دنیا کا موضوع طلاق کی طرف ہوگیا۔ تھوڑی دیر کو توجہ تقسیم ہوکر طلاق کی طر چلی گئی ۔ موضوع صرف طلاق نہیں ہے بلکہ نہایت مہنگی طلاق ہے وہ بھی عام لوگوں کی نہیں بلکہ نہایت امیر شخص یعنی بل گیٹس کی ہے۔ اب اس ضمن میں کیا کیا کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں۔ لطیفے بنائے جا رہے ہیں پیسے گنوائے جا رہے ہیں جو اسکی بیگم کو طلاق کی صورت میں ملے ہیں۔ باقی مہنگی طلاقوں سے موازنہ کیا جارہا ہے کہ کیاں کس نے طلاق کی مد میں حاصل کیا۔ دنیا بھر کی مہنگی طلاقوں کو کھنگالا جا رہا ہے کہ کون سے دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں جنہوں نے اپنی بیگم سے جدا ہونے کی قیمت بھی چکائی اور بے وفائی بھی برداشت کی وغیرہ وغیرہ۔ ہفتہ بھر سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بل گیٹس اور ملنڈا گیٹس کی جانب ہے اور ا ن کی نصف حصے کی دولت کے تخمینے کی جانب ہے۔ وہ جو روزانہ کورونا کیسز اور موتیں گنوائی جا رہی تھیں اس کی جگہ اب طلاقیں اور دولت کے تخمینے لگائے جا رہے ہیں۔ ہفتے بھر سے محسوس ہو رہا ہے کہ اب صرف ایک موضوع ہے جو تمام دنیا کا مطمعٔ نظر ٹھہرا، وہ ہے امیر ترین شخص کا اعزاز رکھنے والے مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس کی طویل رفاقتی زندگی میں بھونچال۔ برسوں کا ساتھ چھوٹ گیا۔ لگتا ہے بل گیٹس کی طلاق کیا ہوئی کہ کورونا وائرس کے پھیلے بادل چھٹ گئے۔ جہاں بتایا جا رہا تھا کہ مریضوں کی تعداد دو کروڑ کے قریب ہو گئی ہے اب اسکی جگہ بتایا جا رہا ہے کہ مہنگی ترین طلاق کی آدھی دولت ملنڈا گیٹس کو ملی گی یعنی تقریباً 73 ارب ڈالر کیونکہ کل اثاثے 146 ارب ڈالر ہیں تو اس کا نصف اتنا ہی بنتا ہے، پھر جہاں بتایا جا رہا تھا کہ 317900 ہلاکتیں ہوئی ہیں تو وہاں کسی دوسری مہنگی طلاق کی خبر نکال لائے کہ ای کامرس کمپنی ایمیزون کے بانی کی طلاق بھی مہنگی تھی اور جیف بیروز نے اہلیہ میکننزی کو 38 ارب ڈالر ادا کئے تھے۔ پھر جہاں کورونا کی ویکسی نیشن کی کمی اور آکسیجن اور ہسپتال میں کم ہوئے بستروں کی تعداد میں کمی گنوائی جاتی تھی وہاں بل گیٹس کی طلاق امریکی بزنس مین ایلک ویلڈرسٹین کی ہے جس میں انہوں نے اہلیہ جوسلین ویلڈرسٹین کو ڈھائی ارب ڈالر ادا کئے تھے اس کے علاوہ ہر سال 10 کروڑ ڈالر بھی ادا کرتے رہے۔ اسی طلاق کی رقم سے جوسلین ایک کروڑ ڈالر کی سرجری بھی کراچکی ہیں اسی بنا پر انہیں ’’کیٹ وومن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اسکے بعد سنا ہے کہ عدالت نے انہیں منع کردیا تھا کہ طلاق سے حاصل ہونے والی رقم کو پلاسٹک سرجری پر خرچ نہ کیا جائے۔ ویسے عدالت کو منع تو نہیں کرنا چاہئے تھا کہ طلاق سے ملنے والی رقم سے سرجری نہ کرائی جائے۔ اسکے پیسے ہیں وہ جہاں چاہے خرچ کرے کیا عدالت نے وہ پیسے سوشل ورک کیلئے یا فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کو دلائے تھے یا پھر کورونا کے لئے آکسیجن یا و یکسی نیشن یا پھر ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کے علاج کیلئے دلائے تھے۔ ویسے سرجریز پر اتنا پیسہ خراب کرنا کیا معنی ! اب سوال یہ ہے کہ اتنے برسوں کی رفاقت کے بعد طلاق ہی کیوں؟ میاں بیوی نہایت محنت سے دولت اکھٹی کرتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں، اچھے مستقبل کیلئے کہ آرام دہ اور آسودہ زندگی گزار سکیں اور جب تمام تر پاپڑ بیل کر کھانے کی باری آتی ہے، مل بیٹھنے کا مزہ آتا ہے، سکون ایک دوسرے میں اور راحت ایک دوسرے کی سنگت میں گزارنے کا وقت آتا ہے تو ایک دوسرے کے ساتھ رہنا محال دکھائی دیتا ہے۔ گھروں میں کمرے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ جو دولت مل کر بنائی تھی اسی کو بانٹنے کا وقت آجاتا ہے گھر برائے فروخت کے بورڈ لگ جاتے ہیں دوسری جائیداد بھی تقسیم ہونے لگتی ہے وہ ہی جو محنت سے مل کر بنائی تھی اس کا بٹوارا شروع ہو جاتا ہے۔ ویسے عمر کے اس حصے میں جب مفاہمت اور مصلحت کے تحت بہت کچھ برداشت کیا جاسکتا ہے تو یہ کیوں نہیں سوچا جاسکتا کہ عمر کا آخری حصہ بھی اسی ساتھی کے ساتھ گزار دیا جائے۔ ویسے بل گیٹس کی طلاق نے کورونا کا فکر کم کردیا۔
یورپ سے سے مزید