• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیکریٹریٹ سطح کے اعلیٰ عہدے نجی شعبے کے ماہرین کو دینے کی تیاریاں

اسلام آباد (انصار عباسی) حکومت نے مختلف کیڈرز کے سویلین بیوروکریٹس کیلئے مختص سیکریٹریٹ کے اعلیٰ عہدے نجی شعبے سے وابستہ اور حکومت میں موجود تکنیکی ماہرین کو دینے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ 

باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اداروں کی اصلاحات پر مامور کابینہ کمیٹی نے پہلے ہی اپنی تجاویز کو مضبوط شکل دیدی ہے تاکہ بہترین پالیسی سازی کی خاطر سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے آنے والی اُسی افسران کی کھیپ کی بجائے بہترین دستیاب ٹیلنٹ کو سیکریٹریٹ کے عہدوں پر لایا جا سکے۔ 

ایک سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد باصلاحیت افراد کو حکومت میں کام کرنے پر راغب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مہارت (اسپیشلائزیشن) کے دور میں ہماری صلاحیت محدود ہے کیونکہ جنرل کیڈر سے تعلق رکھنے والے افسران سیکریٹریٹ کے تمام اعلیٰ عہدوں پر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ اکثر کیسز میں دیکھیں تو یہ لوگ کارکردگی بھی نہیں دکھاتے۔ 

ذریعے نے کہا کہ سیکریٹریٹ کے اعلیٰ عہدے، جو جنرل کیڈر کیلئے مختص تھے، نجی شعبے اور ساتھ ہی حکومت میں موجود تکنیکی ماہرین کیلئے کھولے جا رہے ہیں، حکومت کے پاس ماہرین کی قلت ہے جسے دیکھتے ہوئے ہم نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ 

کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ کے باعث کابینہ نے حال ہی میں سرکاری ملازمین، جو پی ایچ ڈی ہیں یا پھر بیرون ملک سے ماسٹرز ڈگری کے حامل ہیں، کو مینجمنٹ اسکیل پوزیشن (ایم پی) کیلئے درخواست دینے کا اہل قرار دیا ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ ایم پی اسکیل کے عہدوں کیلئے کوالیفائیڈ سرکاری ملازمین کو استعفیٰ دیے بغیر حکومت سے باہر کے لوگوں کے ساتھ مقابلے پر لانے کے معاملے پر حکومت پر تنقید ہو رہی ہے۔ 

یہ وضاحت دی جاتی ہے کہ کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے اجلاسوں میں اس بات پر محتاط بحث ہوئی تھی جس کے بعد ہی کابینہ نے حاضر سروس سرکاری ملازمین کو نجی شعبے کے لوگوں کے ساتھ مقابلے پر لانے کا فیصلہ کیا۔ 

کہا جاتا ہے کہ خفیہ منظوری اور بیوروکریٹک ہیرا پھیری کے حوالے سے اطلاعات حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے منطق یہ ہے کہ ہم اپنے انتہائی باصلاحیت اور بہترین یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی اور ماسٹرز کرنے والے افسران کو ڈونر ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن ان کی صلاحیت اور مہارت کو اپنی صلاحیت اور استعداد میں اضافے کیلئے استعمال نہیں کرتے۔ 

فیصلے کے مطابق، سرکاری ملازمین کیلئے کوئی کوٹہ یا ریزرویشن نہیں ہے اور انہیں حکومت سے باہر کے لوگوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہوگا۔ جنرل کیڈر کے افسران جن کے پاس پی ایچ ڈی یا ماسٹرز اور مطلوبہ تجربہ نہیں ہے، وہ ایم پی لیول کے عہدوں پر درخواست دینے کے اہل نہیں۔ 

وفاقی حکومت میں افسر کیڈر کے 29؍ ہزار عہدوں میں سے صرف 108؍ عہدے ایم پی اسکیل کے ہیں۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں درخواست دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہوگا اور ایسے لوگوں کیلئے مقابلے کا میدان سجے گا جو اہلیت کے معیار پر پورا اتریں گے اور کھلے اور مسابقتی عمل کے بعد لوگ منتخب ہوں گے۔ 

موجودہ قواعد کے مطابق استعفے کا مطلب سرکاری ملازمت سے مکمل طور پر قطع تعلقی ہوگی اور ایم پی عہدوں پر انہوں نے جو کچھ مہارت اور تجربہ حاصل کیا ہوگا اس سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے کی صلاحیت میں کمی آ جاتی ہے۔ ان عہدوں پر خدمات انجام دینے کی مدت زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہے۔

اہم خبریں سے مزید