• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز شریف بھائی کے ضمانتی ہیں جو آج تک واپس نہیں آئے، شہزاد اکبر


کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ عدالت نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا، شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل میں ہے، اسی لئے انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شہباز شریف اپنے بھائی کے ضمانتی ہیں جو آج تک واپس نہیں آئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم ہے نواز شریف مفرور ہیں ان کو ملک واپس آنا ہے، ن لیگ اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف سے متعلق حکم کیوں نہیں مانتی؟، آج ایف آئی اے کے بند دفتر پر دھاوا بولا گیا، مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ بند دفاتر میں درخواستیں پھینک کر آگئے ۔

وہ جیوکے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی گفتگو کی گئی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہزاد اکبر نے عمران خان کے حکم پر پی این آئی ایل میں شہباز شریف کا نام ڈالا،شہباز شریف کو روکنے کیلئے پی این آئی ایل استعمال کی گئی جس کی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ایف آئی اے کے دفتر جاکر عدالتی فیصلے کی کاپی اور آف لوڈنگ کا پروفارما جمع کروادیا ہے، عدالتی فیصلے کے بعد شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل سے نکالا جائے، جس دن ڈاکٹر نے سرٹیفکیٹ دیا کہ نواز شریف کا علاج مکمل ہوگیا وہ واپس آجائیں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ محمد بن سلمان اگلے دس سال میں درکار افرادی قوت کا بڑا حصہ پاکستان کو دینا چاہتے ہیں، سعودی حکام کے ساتھ سیکیورٹی صورتحال اور کشمیر پر تفصیل سے بات ہوئی، سعودی عرب کشمیر سے متعلق اپنی تاریخی پوزیشن پر آج بھی قائم ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نےکہا کہ شہباز شریف کیس میں کسی پارٹی کو نوٹس نہیں دیا گیا، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے کو نوٹس دیا جاتا تو عدالت کی بہتر معاونت کرسکتیں،تفتیشی ادارے نے کسی کا نام ای سی ایل کیلئے دینا ہوتا ہے تو پہلے اس شخص کا نام پی این آئی ایل پر ڈال دیا جاتا ہے۔

نیب نے کافی عرصے پہلے دو کیسوں میں شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل پر ڈالنے کی درخواست کی تھی، شہباز شریف سے متعلق عدالتی فیصلہ ایف آئی اے کو موصول نہیں ہوا ہے، عدالت نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم دیا۔

میری اطلاع کے مطابق شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل پر ہے،عدالت نے فیصلے میں پی این آئی ایل سے متعلق کچھ نہیں کہا ہے، اگر ن لیگ شہباز شریف سے متعلق پی این آئی ایل سے متعلق فیصلہ لے آتی تو ان کو آسانی ہوتی۔ 

شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف کا ماضی کا کنڈکٹ دیکھنا ہے وہ اپنے بھائی کے ضمانتی ہیں جو آج تک واپس نہیں آئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم ہے نواز شریف مفرور ہیں ان کو ملک واپس آنا ہے، ن لیگ اسلام آباد ہائیکورٹ کا نواز شریف سے متعلق حکم کیوں نہیں مانتی؟

آج ایف آئی اے کے بند دفتر پر دھاوا بولا گیا، ایف آئی اے آفس میں سیکیورٹی اسٹاف موجود تھا جس کو ڈرایا اور دھمکایا گیا،مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ بند دفاتر میں درخواستیں پھینک کر آگئے ہیں، تمام دفاتر بند ہیں، لوگ گھروں میں بیٹھے ہیں یہ پتا نہیں کس کو درخواست دے کر آئے۔ 

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بڑے اچھے اسپتال بنوائے وہ ان اسپتالوں میں اپناچیک اپ کرائیں ، نیب کی شہباز شریف کی ای سی ایل سے متعلق درخواست پراسس میں ہے، عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں،شہباز شریف کیس کے فیصلے سے متعلق آج اٹارنی جنرل سے مشاورت ہوئی،اٹارنی جنرل سے مشاورت ہوئی کہ حکومت کو شہباز شریف کیس پر فوری اپیل میں جانا چاہئے۔ 

شہزاد اکبر نے کہا کہ شہباز شریف کیس کا سامنا کریں، بے گناہ ہیں تو جلد از جلد مقدمے کا خاتمہ ہوناچاہئے،شہباز شریف کی دوسری بیگم تہمینہ کو پراپرٹی خرید کر دی گئی جس کی ادائیگی نصرت شہباز کے اکاؤنٹ سے کی گئی ، تہمینہ بی بی نے اپنے ٹیکس ڈیکلریشن میں ظاہر کیا کہ یہ پراپرٹی انہیں اپنے شوہر سے گفٹ ملی ہے، یہ لنک جو ثابت ہے اسے ضمانت کے فیصلے میں ایڈریس نہیں کیا گیا، نیب کو اس فیصلے پر اپیل میں جانا چاہئے۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف سے متعلق تحریری فیصلہ کیا، لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ دیا تو ایف آئی اے کی دو ڈپٹی ڈائریکٹر لاء عدالت میں موجود تھیں، طریقہ کار کے تحت عدالت میں ایف آئی اے کے نمائندے فیصلے کے تحت لسٹ سے نام نکلواتے ہیں، شہباز شریف کو روکنے کیلئے پی این آئی ایل استعمال کی گئی جس کی قانونی حیثیت نہیں ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں شہباز شریف کو ایک بار باہر جانے کی اجازت دی ہے۔ 

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے دفتر جاکر عدالتی فیصلے کی کاپی اور آف لوڈنگ کا پروفارما جمع کروادیا ہے، میں اور عطا تارڑ ایف آئی اے کے دفتر گئے تو انہوں ویٹنگ روم کا تالا کھول کر ہمیں بٹھایا، انہوں نے ہم سے ساری دستاویز لیں اور افسر کا انتظار کرنے کیلئے کہا، افسر تشریف لائے ہم نے تمام چیزیں انہیں دے کر واپس چلے آئے۔

اب ایف آئی اے نے ایک خط جاری کیا ہے کہ مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ نے ایف آئی اے کے دفتر پر دھاوا بولا ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہزاد اکبر نے عمران خان کے حکم پر پی این ائی ایل میں شہباز شریف کا نام ڈالا، عدالتی فیصلے کے بعد شہباز شریف کا نام پی این آئی ایل سے نکالا جائے۔

شہزاد اکبر اور فواد چوہدری نے عدالتی فیصلے کیخلاف لیگل ایکشن لینے کی بات کر کے توہین عدالت کی ہے، عدالتی فیصلے میں شہباز شریف کے واپس آنے کی 3جولائی کی تاریخ موجود ہے، جس دن ڈاکٹر نے سرٹیفکیٹ دیا کہ نواز شریف کا علاج مکمل ہوگیا وہ واپس آجائیں گے، نواز شریف نے اپنی بیٹی کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر نیب میں 145پیشیاں بھگتی ہیں، جب انصاف ہوتا نظر آئے گا اور فیصلوں میں نظر آئے گا ہم اس کا سامنا کریں گے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان ہر آڑے وقت میں ایک دوسرے کے کام آئے ہیں، ہم سعودی عرب اور امہ کے مفاد میں ہی گزارشات کررہے تھے، خطے کی بدلتی صورتحال دیکھیں تو پاکستان کا موقف وزنی تھا۔

محمد بن سلمان سعودی عرب میں بے پناہ تعمیر وترقی چاہتے ہیں اس کیلئے انہیں افرادی قوت درکار ہیں، پاکستانیوں نے سعودی عرب کی ترقی کیلئے بہت عمدہ کردہ ادا کیا ہے جسے وہ سراہتے ہیں، سعودی ولی عہد اگلے دس سال میں درکار افرادی قوت کا بڑا حصہ پاکستان کو دینا چاہتے ہیں، سعودی حکام کے ساتھ سیکیورٹی صورتحال پر بھی بہت اچھی گفتگو ہوئی ہے۔ 

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ کشمیر کے معاملہ پر بھی اچھی گفتگو ہوئی، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی حالت پر تفصیل سے بات ہوئی ہے۔

سعودی عرب کشمیر سے متعلق اپنی تاریخی پوزیشن پر آج بھی قائم ہے، بھارت نے کشمیر سے متعلق یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کیے،بھارت اپنے اقدامات پر نظرثانی اور کشمیریوں کیلئے آسانیاں پیدا کرے تو پاکستان میز پر بیٹھ کر معاملات حل کرنے کیلئے تیار ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید