• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز کو روکے جانے پر حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، حامد میر


کراچی (ٹی وی رپورٹ ) جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ شہباز شریف کو روکے جانے پر حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، باہر جانے کا ہوگیا تو پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ مک مکا ہے اور شہباز شریف کو ایف آئی اے نے روکا ہے تو میں سمجھتا ہوں ان کو فائدہ ہوا ہے، سابق وزیر خزانہ پاکستان حفیظ پاشا نے کہاکہ ہم سب چاہتے ہیں معیشت بہتر ہوسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کے پاس گنجائش ہے اور کس حد تک ہے کہ آپ اپنی شرح نمو کو بڑھائیں آ پ کا بجٹ کا خسارہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ حامیر میر نے کہا کہ حکومت شہبازشریف کو باہر جانے کی اجازت نہیں دینا چاہتی ،جب ہائی کورٹ نے فیصلہ دے دیا تھا تو ان کے ایئرپورٹ پہنچنے سے کئی گھنٹے پہلے فواد چوہدری نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ شہباز شریف پر بہت سے مقدمات ہیں اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ وہ پاکستان سے باہر نہ جائیں اور ساتھی وزراء نے بھی اس طرح کے بیان دئیے تھے۔ ٹیکنیکل مسائل جو بھی ہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کریں گے اور شہباز شریف کو بھی یہ اندازہ ہے کہ عید تک حکومت انہیں باہر نہیں جانے دے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ شہبازشریف باہر جائیں اور ایف آئی اے کو بھی حکم دیا گیا کہ ان کو روکا جائے۔ ان واقعات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جب شہباز شریف کے باہر جانے کا ہوگیا تو پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ مک مکا ہے اور شہباز شریف کو ایف آئی اے نے روکا ہے تو میں سمجھتا ہوں ان کو فائدہ ہوا ہے اور شہباز شریف کو عمران خان کی حکومت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔عدالت کا جو تفصیلی فیصلہ ہے اس میں عدالت کہہ رہی ہے شہباز شریف نے رشوت نہیں لی جب کہ فواد چوہدری اور شہزاد اکبر کہہ رہے ہیں انہوں نے رشوت لی ہے ہمارے پاس ثبوت کا انبار ہے اس وقت صورتحال اپوزیشن بمقابلہ حکومت نہیں ہے ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت بمقابلہ کورٹس ہے۔یہ میرا حق ہے اس فیصلے کے ریو میں جایا جاسکتا ہے لیکن فیصلے کی دھجیاں کرنا توہین عدالت ہے اور اس طرح کے کام اپوزیشن کرتی ہے حکومت نہیں کرتی ہے۔ شہباز شریف سے پرسوں ملاقات ہوئی تھی اور وہ بیمار لگ رہے تھے بہت سے لوگ کہتے ہیں یاسمین راشد بھی بیمار ہیں شہباز شریف کو بھی چاہیے یہیں علاج کروائیں بات درست ہے لیکن سیاسی ہے ۔ شہباز شریف عید کے بعد اگر چلے جاتے ہیں تو جلدی واپس آجائیں گے واپس انہوں نے ہر صورت میں آنا تھا انہیں روک کر حکومت نے اپنے لیے کوئی فائدہ نہیں کیا۔ نوے کی دہائی سے شہباز شریف کا ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ وہ باہر جانے کے بعد واپس آتے ہیں ایسا پانچ چھ دفعہ ہوچکا ہے اور وہ واپس آکر اپنے کیسز لڑتے ہیں، نوازشریف کا معاملہ مختلف ہے جب وہ باہر گئے تو کویڈ کی صورتحال بدل گئی تھی لیکن اس کے باوجود ہم نے یہی کہا تھا کہ عدالت کے دئیے ہوئے ٹائم پر نوازشریف کو واپس آنا چاہیے۔شہباز شریف کو جب بھی گرفتار کیا جاتا ہے اس میں صرف حکومت کی مرضی شامل نہیں ہوتی اور لوگوں کی بھی ہوتی ہے پچھلے سال آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جب شہبازشریف کو گرفتار کیا گیا تھا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اے پی سی کے اجلاس میں جو نوازشریف کی تقریر تھی اس کو نہیں روکا اور اے پی سی کے اعلامیہ کو بھی شہباز شریف نے انڈوز کردیا ۔میاں جاوید لطیف کی سپورٹ میں مریم نواز نے ٹوئٹ کیا ہے اور آج بھی ہماری پارٹی میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جاوید لطیف کو سپورٹ نہیں کیاجارہااگر آپ کو لگ رہا ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جارہا ہے تو ہم کل پرسوں پریس کانفرنس کردیتے ہیں ۔ جب ریلیف ملنے لگتا ہے تو پارٹی خاموش ہوجاتی ہے اس کے جواب میں کہا کہ ایسا نہیں ہوتا لیکن یقینا حدت گھٹ جاتی ہے جب آپ کو ریلیف مل رہا ہوتا ہے جب آپ پر متواتر ظلم ہو رہا ہو یعنی میں مثال دیتا ہوں جس دن وزیراعظم نے کہا کہ میں رانا ثنا کو مونچھوں سے پکڑ کر کال کوٹھری میں ڈالوں گا اس کے بعد 35 کلو ہیرؤن نکل آئی تو اس وقت جو حدت یا غم ہوگا وہ یکسر مختلف ہوتا ہے اس دن کے مقابلے میں جس دن آپ کی ضمانت ہوجائے۔ سابق وزیر خزانہ پاکستان حفیظ پاشا نے کہاکہ ہم سب چاہتے ہیں معیشت بہتر ہوسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کے پاس گنجائش ہے اور کس حد تک ہے کہ آپ اپنی شرح نمو کو بڑھائیں آ پ کا بجٹ کا خسارہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔

اہم خبریں سے مزید