• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سنیما کلچرل ہر دور میں عوام الناس کے لیے سستی تفریح کا ایک بہت بڑا ذریعہ رہا ہے۔آج ہم عیدالفطر کے حوالے سے چند قابل ذکر یادگار سپرہٹ فلموں کا اگر ہم ذکر کرنا شروع کریں تو 1949ء میں عیدالفطر پر پہلی پنجابی فلم ’’پھیرے‘‘ کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ یہ فلم بروز بدھ 27؍جولائی عیدالفطر کے موقع پر لاہور کے پیلس سنیما پر ریلیز ہوئی اور مسلسل 25؍ہفتے چل کر سولو سلور جوبلی بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس فلم کی کامیابی سے پنجابی باکس آفس کی بنیاد پڑی۔

فلمساز، ہدایتکار اور اداکار نذیر اس فلم کے ہیرو اور سورن لتا نے ہیروئن کے کردار ادا کیے۔ 24؍مئی 1955ء کو عیدالفطر پر پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی اردو فلم ’’نوکر‘‘ ریلیز ہوئی۔ ایک بار پھر اداکار نذیر اور سورن لتا نے فلم بینوں کے دل جیت لیے تھے۔ اس فلم کے ساتھ ہدایت کار لقمان کی پنجابی نغماتی، رومانی فلم ’’پتن‘‘ بھی ریلیز ہوئی، جس میں مسرت نذیر اور سنتوش کمار نے مرکزی کردار کیے تھے۔ 1956ء میں پاکستانی سنیما کی پہلی رومانی نغمہ بار سپرہٹ فلم ’’انتظار‘‘ ریلیز ہوئی۔ فلم میں نورجہاں نے ہیروئن اور سنتوش کمار نے ہیرو کا کردار نبھایا۔ ’’انتظار‘‘ کے ساتھ اس عید پر صبیحہ اور سدھیر کی اردو فلم ’’چھوٹی بیگم‘‘ کا بزنس کراچی کے ایروز اور لاہور کے رتن سنیما میں بے حد تسلی بخش رہا، جب کہ تیسری فلم ’’انوکھی‘‘ اس عید پر پیش کی گئی، جس میں بھارتی اداکار شیلا رومانی نے ہیروئن کا کردار پلے کیا۔ 

معروف مزاحیہ اداکار لہری کی یہ پہلی فلم تھی۔ 2؍مئی 1956ء کی عیدالفطر کا ذکر بھی آل ٹائم رومانی، کلاسیک، نغماتی فلم ’’وعدہ‘‘ کے حوالے سے ہمیشہ سرفہرست رہے گا۔ فلم ساز و ہدایتکار ڈبلیوزیڈ احمد کی اس فلم میں صبیحہ اور سنتوش کی جوڑی نےخُوب صورت اداکاری کی۔1958ء مین ہدایت کار مسعود پرویز کی ’’زہرعشق‘‘ ہدایت کار فلم ساز شوکت حسین رضوی کی ’’جان بہار‘‘ اور ہدایت کار منشی دل کی ’’حسرت‘‘ نامی فلمیں ریلیز ہوئیں۔8؍مارچ 1962ء کو کراچی کے نشاط سنیما پر فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ ریلیز ہوئی، جو اس عید کی ایک قابل ذکر فلم ہے۔ اس فلم کے پروڈیوسر اور ہدایت کار فضل کریم فضلی تھے۔ لیجنڈ اداکار محمد علی اور اداکارہ زیبا کی یہ پہلی فلم تھی۔ 

اس فلم کے پریمیئر پر مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے شرکت کی تھی۔26؍فروری 1963ء کو پاکستانی سنیما ہائوسز پر شمیم آراء اور سدھیر کی ’’کالا پانی‘‘ نیلو، یاسمین، جمیلہ رزاق، اسلم پرویز اور الیاس کاشمیری کی ’’عشق پر زور نہیں‘‘ شمی اور سدھیر کی ’’بغاوت‘‘ نیلو اور حبیب کی پنجابی فلم ’’موج میلہ‘‘ عوام میں بے حد پسند کی گئیں۔ ’’عشق پر زور نہیں‘‘ اس عید پر بزنس میں سب سے آگے رہی۔ 15؍فروری 1964ء کو زیبا اور کمال کی نغماتی گھریلو سبق آموز فلم ’’توبہ‘‘ کا بزنس سب سے ٹاپ پر رہا۔ کراچی کے ایروز سنیما پر اس فلم نے شاندار گولڈن جوبلی منائی۔ ہدایت کار ایم جے رانا کی معاشرتی کلچرل پنجابی فلم ’’ڈاچی‘‘ بھی اس عید کی کام یاب ترین فلم ثابت ہوئی۔ 1968ء میں عیدالفطر کا تہوار دو مرتبہ آیا۔

ہدایت کار ظفر شباب کی گولڈن جوبلی فلم ’’سنگدل‘‘ ریلیز ہوئی۔ فلم کی کاسٹ میں دیبا، ندیم، صاعقہ، مسعود اختر، رنگیلا، ننھا اور زینت کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کے ساتھ کمال اور شمیم آراء کی اصلاحی سبق آموز فلم ’’دوسری ماں‘‘ کراچی کے جوبلی سنیما میں ریلیز ہوئی۔ اداکار اکمل اور فردوس کی اصلاحی پنجابی فلم روٹی نے بھی بہت شان دار بزنس کیا۔ اس فلم کو حیدر چوہدری نے ڈائریکٹ کی تھی، اس سال دوسری مرتبہ عید سعید کا تہوار 22دسمبر کو آیا۔ اس موقع پر محمد علی زیبا کی تاریخی کاسٹیوم فلم ’’تاج محل‘‘ کے ساتھ پہلی کلر پنجابی فلم پنج دریا اور بھٹی برادران کی سپر ہٹ پنجابی فلم سجن پیارابھی پیش کی گئیں۔

1969 کو ہدایت کار ایس سلیمان کی ’’بہاریں پھر بھی آئیں گی ‘‘ شمیم آرا اور محمد علی کی کلاسیکل نغماتی گھریلو فلم آنچ کی نمائش ہوئی۔ یکم دسمبر 1970کو پہلی گجراتی فلم ’’ماں تے ماں‘‘ ریلیز کی گئی، جو صرف کراچی، حیدرآباد، سکھر، اور سندھ کے دیگر چند شہروں میں ریلیز ہوئی۔ گجراتی کمیونٹی کے لوگوں نے اس فلم کا شاندار استقبال کیا۔ہدایت کار منور رشید کی تفریحی فلم ’’ روڈ ٹو سوات‘‘ ریلیز ہوئی جس میں کمال ،نسیمہ خان، لہری، ماہ پارہ، حنیف اور مقصود گولے والے نے مرکزی کردار ادا کیے۔

ساتھ ساتھ پنجابی فلم چڑھدا سورج نے باکس آفس پر شان دار کام یابی حاصل کی۔ 20نومبر1971کو فلموں کی ایک دل کش مالا پیش کی گئی۔ فلم ساز و ہدایت کار حسن طارق کی معاشرتی میوزیکل فلم ’’تہذیب‘‘نے لوگوں کی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہوئے سپر ہٹ بزنس کیا۔اس عید پر ہدایت کار ریاض شاہد کی کشمیر کے تنازع پر مبنی جرات آموز فلم ’’ یہ امن‘‘کراچی کی رینو اور لاہور کے مبارک سینما میں بےحد پسند کی گئی۔ محمد علی اور شمیم آرا کی آگ کا دریا طرز کی فلم خاک اور خون بھی اسی عید پر پیش کی گئیں۔ ایک سندھی فلم اندرون سندھ ،حیدر آباد، لاڑکانہ اور دیگر شہروں میں ’’محبوب مٹھا‘‘ کے نام سے ریلیز ہوئی۔1972کو ہدایت کار ایم اکرم کی پنجابی فلم سلطان نے باکس آفس پر سپر ہٹ بزنس کیا۔ 

سلطان راہی نے بہ طور سلطان کے کردار میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ ہدایت کار مصنف اور اداکار رنگیلا کی پنجابی فلم ’دو رنگیلے ‘‘ بھی ریلیز ہوئی۔ ’’جہاں برف گرتی ہے‘‘ کی نمائش بھی اسی عید پر ہوئی۔ شمیم آرا اور ندیم کی گھریلو اور نغماتی فلم ’’سہاگ‘‘ صرف کراچی سرکٹ میں اس عید پر ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں ٹی وی، کی مشہور اداکار ضیا محی الدین بھی شامل تھے۔ 

عیدالفطر کی ریلیز شدہ تمام فلموں کا تذکرہ کرنے کے لیے ایک تفصیلی مضمون درکار ہے، یہاں مختصر جائزہ چند قابل ذکر فلموں کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ عیدالفطر کی چند قابل ذکر فلموں کے ناموں کے بعد بات کو مکمل کرتے ہیں۔ 1975کی عیدالفطر پر صورت اور سیرت، گنوار ،دلربا ،بلونت کور اور ہتھکڑی نامی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ عیدالفطر کایہ ایک مختصر جائزہ سنگل اسکرین سینما ہائوسز کے حوالے سے پیش کیا گیا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید