• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماہی گیروں کی 1200 لانچ واپس بُلا لیں، فشرمین کوآپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی


سمندری طوفان کے ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر کراچی کے ماہی گیروں کی 12 سو لانچوں کو واپس بلا لیا گیا۔ 

اس حوالے سے فشرمین کوآپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکیورٹی انچارج ناصر بنیری نے بتایا کہ ماہی گیر لانچِیں لے کر کراچی، ابراہیم حیدری، ٹھٹھہ یا گڈانی واپس آ چکے ہیں۔

ناصر بنیری نے کہا کہ مزید 1300 سے زائد چھوٹی بڑی لانچیں ماہی گیری کے لیے گہرے سمندر میں موجود ہیں.

اُنہوں نے کہا کہ ایف سی ایس کا عملہ میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کی مدد سے ماہی گیروں سے رابطہ کر رہا ہے۔ 

ناصر بونیری نے یہ بھی کہا کہ مچھیروں سے ان کی لانچوں پر موجود سیٹلائٹ فونز پر رابطہ کیا جا رہا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھ کہ ماہی گیروں کو سمندری طوفان کے خطرے کے علاقے سے نکالا جا رہا ہے۔ 

دوسری جانب اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز گوادر نے کہا کہ گوادر، پسنی اور اورماڑہ کے قریب سمندری صورتحال فی الحال معمول پر ہے جبکہ مکران کے ساحلی علاقوں میں ہوا رُک گئی حبس سے موسم گرم ہے۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز نے کہا کہ عید کے باعث ماہی گیروں نے شکار کے لیے سمندر کا رُخ نہیں کیا جبکہ کچھ کشتیوں کی گہرے سمندر میں موجودگی کی اطلاع ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سمندر میں موجود ماہی گیروں سے رابطہ کیا جارہا ہے، ماہی گیروں کو 20 مئی تک سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ماہی گیروں کی کشتیاں جیٹی اور دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کی جائیں گی، متوقع سمندری طوفان کے باعث صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے۔

سمندری صورتحال کے حوالے سے ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے کہا کہ سمندر میں ڈپریشن سائیکلون کی صورتحال اختیار کرچکا ہے۔

کمانڈر (ر) سلمان شاہ نے کہا کہ آئندہ دو روز میں صورتحال مزید واضح ہوگی جبکہ پی ڈی ایم اے کراچی ، ٹھٹھہ اور بدین سمیت ساحلی علاقوں کی ضلعی انتظامیہ سے مکمل رابطے میں ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ماہی گیر گہرے سمندر میں جانے سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ ماہی گیروں کو عمان یا بلوچستان کی سمندری حدود میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید