• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز سرگرم، اسلام آباد میں قومی حکومت کی سرگوشیاں

اسلام آباد (فاروق اقدس/نامہ نگار خصوصی) شہباز شریف اس وقت حکومت مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ خود حکومت ان کیخلاف جو اقدامات کر رہی ہے اس کی وجہ سے بھی بھرپور توجہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔

اگر عدالت کے حکم پر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جاتی تو وہ اس وقت لندن میں ہوتے لیکن اب وہ سیاسی سرگرمیوں میں انتہائی فعال اور متحرک ہیں جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صرف عید کے دن انہوں نے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں جن میں آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو، اختر مینگل بھی شامل تھے۔

 پندرہ سیاسی شخصیات سے فون پر انہیں عید کی مبارکباد دیتے ہوئے سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں مشاورت کی، انہوں نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلانے کے بارے میں بھی گفتگو کی ۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہباز شریف اپنی سیاسی فعالیت اور رابطوں سے حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ انہیں بیرون ملک جانے سے روکنے کا حکومتی فیصلہ غلط تھا جس پر انہیں پچھتانا بھی پڑسکتا ہے۔

عید کی چھٹیوں میں ہی شہباز شریف نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کے رابطوں کو بھی بحال کر دیا ہے اور اب وہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھی اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پارلیمانی ایوان میں بھرپور سیاست کریں گے۔

وفاقی دارالحکومت میں ایک بار پھر قومی حکومت کے قیام کے حوالے سے سرگوشیاں ہو رہی ہیں ،شہباز شریف کی لندن روانگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا تھا اور ایک سچی افواہ یہ بھی ہے کہ عشرت العباد کے وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہروں میں ٹیلی فونک رابطے ہوئے ہیں اور یہ رابطے کراچی کے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے مایوس ترین نتائج، غیرمقبولیت اور باہمی انتشار کے بعد ہوئے تھے۔

ایک اہم حکومتی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کابینہ کے اجلاس اور بعد میں بھی بعض مواقعوں پر بھی ایک موضوع کے حوالے سے قدرے افسردہ نظر آئے تاہم اس افسردگی کے بارے میں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کے وعدے پر مذکورہ ذریعے نے بتایا کہ وزیراعظم کو اس بات کا شدید دکھ ہے کہ ان کے بعض قریبی ساتھی جنہیں انہوں نے اہم مناصب پر فائز کیا وہ ان کے اعتماد پر پورے نہیں اتر رہے اور ان کے نام سکینڈلز اور مافیاز کے ساتھ آئے ہیں خاص طور پر راولپنڈی کے ’’رنگ روڈ‘‘ کے حالیہ سکینڈل پر وزیراعظم خاصے رنجیدہ تھے کیونکہ اس سکینڈل میں بھی ان کے ایک وزیر اور معاون خصوصی کا نام آرہا ہے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس جو 18 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے، اس کے حوالے سے خبر تویہ ہے کہ اپوزیشن اس اجلاس میں میاں شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی روکنے اور ای سی ایل میں نام ڈالنے کے حوالے سے ایوان میں بھرپور احتجاج کرے گی اور امکانات یہ ہیں کہ اس اجلاس میں چوہدری نثار رکنیت کا حلف اٹھا سکتے ہیں۔

انکے بارے میں یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر وہ 18 مئی کو پنجاب اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھا لیتے ہیں تو پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ وہی ہونگے جبکہ اس ضمن میں خود ان کی جانب سے کوئی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

اہم خبریں سے مزید