• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 1958ء کی بات ہے، اُن دنوں حیدرآباد میں دماغی مریضوں کا ایک اسپتال تھا،ڈاکٹر قاضی حیدر علی ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تھے ۔اس دور میں حیدرآباد کی آبادی بہت کم تھی لیکن پورے ملک کے لوگوں پر صدر ایوب خان کے نام سے لرزہ طاری رہتا تھا۔اُن دنوں حیدرآباد میں واقع دماغی مریضوں کی علاج گاہ میں میںڈاکٹر قاضی حیدر علی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے تعینات کیے گئے۔ 

لوگ اس اسپتال میں زیرعلاج ذہنی مریضوں کے معمولات زندگی کو محض تفریح طبع کے لئے دور دراز علاقوں سے دیکھنے کے لئے آتے تھے۔اسپتال کی انتظامیہ نے ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے 50پیسے کا ٹکٹ خریدنا لازمی قرار دے دیا۔اس اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں، مذہبی و سماجی رہنمائوں اور مریضوں کے عزیز و اقرباء اور لواحقین نے سخت احتجاج کیا۔بعدازاں حکام نےذہنی مریضوں کو دیکھنے والوں پر ٹکٹ عائد کرنے کو انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہوئے فوری طور سے اسے ختم کرنے کا حکم دیا۔

ذہنی مریضوں کی علاج گاہ پہلے لاڑکانہ میں قائم کی گئی تھی لیکن وہاں کی آب و ہوا مریضوں کو راس نہیںآرہی تھی اور وہ ذہنی طورپر صحت یاب ہونے کی بجائے مزید بیمار اور دماغی طور سے کمزور نظر آتے تھے۔محکمہ صحت کے حکام کو اسپتال کی منتقلی کے لیے حیدرآباد کی آب و ہوا اور پرسکون ماحول بہتر معلوم ہوا۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب سندھ کا دوسرا بڑا سرکاری اسپتال لیاقت میڈیکل یونیورسٹی و ہیلتھ سائنسز، محض ایک چھوٹی سی ڈسپنسری کے طورپر کام کررہا تھا۔

لاڑکانہ سے اس کی منتقلی کے لیے اراضی کی تلاش شروع ہوئی۔ اس کا قرعہ فال ،حیدرآباد کے سابق ڈسٹرکٹ سیشن جج، معروف علمی و کاروباری شخصیت دیوان دیارام گدو مل کے علاقے ٹنڈو گدو میں ان کی جاگیر کے لیے نکلا۔ ’’ پُن کا‘‘ یعنی نیکی کا فریضہ تصور کرتے ہوئے دیوان گدو مل کے اہل خانہ نے مینٹل اسپتال کو یہ اراضی تحفے میں دے دی۔ 1865کے دوران اس اسپتال کے تعمیراتی کاموں کے لئےفنڈز کی فراہمی کے لیے’’ چندہ مہم‘‘ شروع کی گئی، مگر وہ موثر ثابت نہیں ہوسکی۔ 1894کے دوران اس پاگل خانے کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ 25ایکڑ رقبے پر محیط اسپتال کی تعمیرمیں مجموعی طورپر 68ہزار، 4سو 41روپے کی لاگت آئی۔ جس میں نصف بمبئی کی معروف کاروباری شخصیت سر کائوس جی جہاں گیر نے ادا کی جب کہ بقیہ رقم برطانوی سرکار نے دی۔ 

اس اسپتال کو بمبئی کی اسی پارسی شخصیت کے نام سے منسوب کردیا۔ اس پاگل خانے میں سندھ سمیت برصغیر کے دور دراز علاقوں سے لائے گئے پاگلوں کے لئے علیحدہ علیحدہ وارڈ بنائے گئے تھے۔ ہر وارڈ میں بیت الخلاء بھی تعمیر کیے گئے تھے ۔اسپتال کے وارڈز کی دیواریں قد آدم سے نصف رکھی گئی تھیں، تاکہ مریضوں کی حرکات و سکنات کی نگرانی کی جاسکے۔ مینٹل اسپتال کے احاطے میں بیرون شہر کے طالب علموں کے لئے نئی عمارت تعمیرکراکے اسے نرسنگ ہاسٹل قرار دے دیا ہے۔ اس ہاسٹل کے تعمیراتی کاموں کے دوران انگریز سرکارکے دور میں تعمیر کردہ قدیم وارڈز بھی شامل کیے گئے۔ ان وارڈوں کی مجموعی تعداد 20ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہیں،ہر حصے میں 10کھولی نما وارڈ ہیں۔ ہر کھولی ہوادار ،روشن اور دروازے آہنی سلاخوں سے بنے ہیں۔ چوں کہ نئی عمارت کے سبب پرانی عمارتوں کو نظرانداز کرنا یہاں کی انتظامیہ کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے۔ 

چناں چہ اس پرانی عمارت کی طرف سے بھی چشم پوشی برتی گئی جس کی وجہ سے یہ بھوت بنگلہ نظر آتی ہے۔ وارڈوں میں اسپتال کا ناکارہ سامان، آلات و دیگر اشیاء کا قبرستان بنا دیاگیا۔ بارش اور زیرزمین پانی کے اضافے نے بھی اس کی شناخت کو مسخ کردیا ہے۔ اسی طرح حال ہی میں قدیم وارڈ نمبر 5اور وارڈ نمبر 8بھی لمبی جھاڑیوں میں چھپ گئےتھے۔ ان سرکنڈوں کی کٹائی کے دوران اچانک یہ وارڈ بھی انتظامیہ کی نظروں کےسامنے آئے تو اس کی فوری اطلاع متعلقہ شعبوں کو دی گئی۔ محکمہ ثقافت و آرکیالوجی حکومت سندھ و دیگر اداروں نے مذکورہ وارڈوں کا معائنہ کیا اور اس اسپتال کی دیواروں، پرانے وارڈوں اور برآمد ہونے والی اشیا ء کو تاریخی و ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔

1941کے دوران اسپتال کے احاطے میں مزید تعمیرات کے ذریعے وسعت دی گئی، جس میں انتظامی امور، بلاک، بیرونی مریضوں کے لئے اوپی ڈی سمیت دیگر وارڈز قائم کئے۔ پاکستان کے وجود میںآنے کے بعد بھی یہاں زیر علاج مریض اپنی آزاد مملکت کے قیام کے بارے میں لاعلم تھے۔ ان کے لواحقین برصغیر کے کونے کونے میں موجود تھے جو تقسیم ہند اور فسادات کے سبب لوٹ کر کبھی حیدرآبادنہیں آئے۔ ادھر ذہنی معذوری سے چھٹکارا حاصل کرکے تندرست ہونے والے افراد بھی بھارت کے شہروں میں مقیم اپنے اہل خانہ کے پاس جانے کے لئے بہ ضد رہتے تھے۔ علاج کے دوران کسی مریض کا انتقال یا دیہانت ہوجاتا تو اسے مقامی قبرستان میں دفنا دیا جاتا یا مرنے والےکی مذہبی رسومات کے مطابق کریا کرم کردیا جاتا۔ 

1980تک یہ پاگل خانہ، سرکائوس جی جہاں گیر مینٹل اسپتال کے طورپر کام کرتا رہا۔ بعدازاں اس کا نام سرکائوس جی انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری ارکھ دیا گیا۔ 2020میں یہ نام بھی تبدیل ہوکر’’ سر کائوس جی جہاں گیر انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری اینڈ بیہوٹری سائنس ‘‘ہوگیا۔ ادارے کا سندھ مینٹل اتھارٹی، لیاقت میڈیکل یونیورسٹی اینڈ ہیلتھ سائنسز(لمس) جام شورو اور محکمہ جنگلات کے علاوہ اسٹیٹ اسپتال کارسٹائرس برطانیہ سے الحاق ہے۔ اس کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے سالانہ 509012000روپے کا فنڈجاری کیا جاتا ہے۔ اسپتال کے ریکارڈ کے مطابق 307277000/-روپے تنخواہوں ، جب کہ 201735000روپے دیگر اخراجات کی مد میں خرچ ہوجاتے ہیں۔یہاں 65ڈاکٹرز، 23نرسنگ اسکول اسٹاف، 43نرسنگ اسٹاف، 139ہنر مند عملہ، 22 منسٹریل اسٹاف، 74غیر ہنرمند اسٹاف تعینات ہے۔

1931سے 1953تک اسپتال کےپہلے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ،ڈاکٹر ابراہیم خلیل شیخ ،پروفیسر ہونے کے باوجود اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے روزانہ اسپتال کے مقررہ وقت پر بائی سیکل پر آتے تھے۔ یہ و ہی ابراہیم خلیل ہیں جو سندھ کے پہلے ڈاکٹر تھے، جنہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے 1953کے دوران ڈاکٹروں کی بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا، انہوں نے وہاں پاکستان کی نمائندگی کی۔ڈاکٹر ابراہیم نے پاگل خانے میں اپنی مدت ملازمت کے دوران 3جلدوں پر مشتمل کتاب ’’عبرت کدہ‘‘ لکھی جس میں ذہنی و نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کے مسائل ، حالات و واقعات کو اجاگر کیا۔

سرکائوس جی جہاں گیر انسٹی ٹیوٹ آف سائیکاٹری کے شعبہ اوپی ڈی سے 2017 میں 74515، 2018میں 78198اسی طرح 2019کے دوران 11981اور 2020کے دوران 62088افراد نے علاج کے لئے رجوع کیا۔ واضح رہے کہ 2017کے دوران داخل ہونےوالے مریضوں کی تعدادجو سال کے ابتدائی ایام میں 501 تھی چند ماہ میں بڑھ کر 2ہزار ہوگئی۔لیکن 2019شروع ہوتے ہی اسپتال کے تمام مریضوں کو ڈسچارج کرنے کے علاوہ نئے مریضوں کا داخلہ بھی بند کردیا گیا۔ بعدازاں 2020کے دوران دوبارہ نئے مریضوں کو داخل کرکے علاج معالجہ شروع کیا گیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایشیا میں ذہنی امراض کا یہ اسپتال تجاوزات کا مرکز بن گیاتھا۔حال ہی میں کمشنر حیدرآباد نے خصوصی دلچسپی لے کر اسپتال میں قائم ہونے والی تجاوزات کا خاتمہ کرکے اسپتال کی اراضی کو واگزار کرایا۔

اسپتال کے احاطے میں انگریز دور کا کنواں بھی جھاڑیوں سے کٹائی کے دوران برآمد ہوا ۔ اس کنویں میں وہ آہنی چرخی بھی لگی ہوئی ملی ہے جس کے ذریعے یہاں داخل مریض، ان کے تیمارداروں کے علاوہ اسپتال کا عملہ صفائی ستھرائی کے لیے پانی بھرتا تھا، مگر اب یہ کنواں نا صرف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے بلکہ اس میں نجانے کتنی مدتوں سے اسپتال کا فضلہ پھینک کر اس کے شفاف اور میٹھے پانی کوآلودہ اور ناقابل استعمال بنا دیا۔ اسپتال کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں کوئی سرد خانہ نہیں ہے۔ 

اگر کسی مریض کا یہاں انتقال ہوجائے تو اس کی لاش نجی مردہ خانے میں رکھ دی جاتی ہے اور اس پر یومیہ اخراجات 2ہزار روپے یا اس سے زائد آتے ہیں۔ لواحقین کو اطلاع ملنے اور اس کے حیدرآباد پہنچنے تک ہزاروں روپے کے بل بن جاتے ہیں جو غریب لوگوں پر اضافی بوجھ ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکائوس جی انسٹی ٹیوٹ اسپتال میں نا صرف سردخانہ قائم کیا جائے بلکہ غیر ضروری بھرتیوں کو ختم کیا جائے، تاکہ اسپتال مزید اپنا فعال کردار ادا کرسکے۔