• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ضلع شہید بینظیر آباد کے 26 تھانوں میں سے 14 کی بلڈنگ نہیں

ایس ایس پی ضلع شہید بینظیر آباد تنویر حسین تنیو نے بتایا کہ پولیس کا محکمہ مختلف حوالے سے لاچارگی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلع شہید بینظیر آباد کے 26 تھانوں میں سے 14 کی بلڈنگ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے وسائل کی کمی کا یہ عالم ہے کہ ان کے پاس ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں اور اکثر پیٹرول کی کمی آڑے آتی ہے ۔ محکمہ پولیس میں اوپر سے لے کر نیچے تک ایسے جوان اور افسران کی اکثریت ہے، جن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ یا تو گھر بیٹھے تنخواہ وصول کریں یا مختلف بیماریوں کے بہانے سے لمبی چھٹی لے کر اپنے دیگر کام کاج نمٹائیں۔ 

محکمہ پولیس میں جس بات پر زور دیا جاتا ہے، وہ نفری کو متعین کرنا ہے، چاہے کوئی بڑا دن ہو یا امن و امان کی کوئی بگڑتی صورت حال۔ سب سے پہلے ایس ایس پی یا ڈی آئی جی بالا افسران یہی سوال کرتے ہیں کہ پولیس نفری متعین کردی گئی ہے یا نہیں ۔ اس کے مقابلے میں دنیا بھر میں جدید سائنسی آلات جسے سی سی ٹی وی کیمرہ کہا جاتا ہے، کے ذریعے امن و امان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے میں مدد لی جاتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرہ نہ تو بیمار ہوتا ہے اور نہ ہی اسے چھٹی کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی یہ جھوٹ بولتا ہے۔ 

لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت اپنی دوکانوں پر سی سی ٹی کیمرے تو نصب کرلیے، لیکن پولیس پر اب بھی دباؤ برقرار ہے اور کوئی معمولی یا بڑا واقعہ ہونے کی صورت میں پولیس نفری کی تعنیاتی ماضی کی طرح اب بھی ضروری قرار دی جاتی ہے۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو جب تک جدید خطوط کے تحت استوار نہیں کیا جائے گا، یہ پیچیدگیاں برقرار رہیں گی۔ انتہائی کم وسائل کے باوجود بھی پولیس کی کارکردگی اتنی بری نہیں ہے، حالانکہ پولیس دیگر محکموں کے حصے کا کام بھی اپنے کم وسائل کے ذریعے انجام دے رہی ہے۔ 

اس کی مثال دیتے ہوئے ایس ایس پی تنویر حسین تنیو کا کہنا تھا کہ نہ صرف قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے بلکہ سود خوری کے معاملات ہوں یا میاں بیوی کے جھگڑے پولیس اس میں اپنا کردار ادا کرتی ہے کہ جب کہ حد یہ ہے کہ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ایمبولینس بعد میں پہنچتی ہے اس سے قبل پولیس کی موبائل پہنچ کرزخمیوں کو اسپتال لانے میں مدد دیتی ہے ۔ اگر پولیس کے محکمے کو جدید خطوط پر استوا ر کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے سے اسی طرح جرائم ختم ہوسکتے ہیں، جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں جرائم کو ختم کیا گیا ہے ۔ قانون کے سقم کو دور کرنا اب وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔ 

اس سلسلے میں پاکستان پینل کوڈ اور قانون شہادت میں بھی بہت زیادہ تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ یورپ میں قید کی سزا کے ساتھ جرمانے کی سزا بھی جرائم کو روکنے میں معاونت ثابت ہوئی ہے اور اس سلسلے میں قانون شہادت میں بڑی تبدیلی ہمارے معاشرے سے جرم کوجڑ سے اکھیڑنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیے کہ مجرم کی قید پر حکومت کو اس کے کھانے پینے اور دیگر سہولت کی مد میں بھاری مصارف برداشت کرنے پڑتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ اگر مجرم پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے تو اس صورت میں بہت سے لوگ جنہیں اپنا گھر باراور دیگر جائیداد بیچ کر یہ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، یہ مجرم کو جرم سے باز رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 

ضلع شہید بینظیر آباد میں چھ ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرائے ہیں، جو کہ یہاں تاجر تنظیموں اور مختلف مخیر حضرات کے فنڈز سے نصب کئے گئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے بجائے حکومتی سطح پر یہ کام ہونا چائیے اور جس طرح کراچی ، لاہور ،اسلام باد میں سیف سٹی کے منصوبے کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے ہیں ، اسی طرح یہاں پر بھی یہ کام ہونا چائیے ۔ 

سندھ کے چار ڈویژنز جن میں کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور بینظیر آباد ڈویزن شامل ہیں، یہاں گٹکا ،مین پوری کی لعنت موجود ہے جو کہ ہماری نوجوان نسل کو کینسر زدہ کررہی ہے گو کہ اس سلسلے میں نئی قانون سازی بھی کی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود قانونی سقم سے فائدہ اٹھا کر منشیات فروش آزاد ہوجاتے ہیں اور پھر سے نئی توانائی کے ساتھ وہ معاشرے میں زہر پھیلانے کے لیے سرگرم عمل ہوجاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ محکمہ پولیس میں بنیادی تبدیلیاں اور انقلابی اصلاحات کے ذریعے جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید