• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جہانگیر ترین کی رپورٹ کے بعد شہزاد اکبر کو عہدے سے ہٹا دینا چاہیے، عظمیٰ بخاری


پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین کی رپورٹ کے بعد شہزاد اکبر کو عہدے سے ہٹا دینا چاہیے، جہانگیر ترین گروپ کو این آر او مل گیا ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جہانگیر ترین کو شوگر اسکینڈل سے رہائی مل رہی ہے تو پھر شہزاد اکبر کو عہدے پر کیوں رکھا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں ایم پی اے میاں نوید کی ضمانت مسترد ہوئی، انہیں عدالت سے حراست میں لے لیا گیا، میاں نوید بھی سیاسی انتقام بھگتنے والے ایم پی ایز میں شامل ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے اپنےضلع میں نا صحت کی سہولیات ہیں نہ امن و مان ہے، پہلے ترین گروپ تو تھا ہی اب چھینہ گروپ نے بھی پر پرزے نکالے ہیں۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ شہزاد اکبر کا اپنےعہدے پر رہنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا، رنگ روڈ اسکینڈل کی مختلف شاخیں روز نکل کر سامنے آتی ہیں، اتنے بڑے اسکینڈل کی تحقیقات اینٹی کرپشن کرے گا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے نے وزیراعظم ہاؤس، زلفی بخاری، غلام سرور کےگھروں پر چھاپے مارے؟ آج تک جو تحقیقات ہو رہی ہیں اس میں کس کو گرفتار کیا گیا؟

انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کی بہن کے نام کی پراپرٹی بھی سامنے آئی ہے، غلام سرور نے پی آئی اے کی بھی تباہی کردی، آپ معیشت کےغلط اعداد و شمار دے کر اپنا رزلٹ کارڈ بدلنےکی کوشش نہ کریں، وقت آنے پر سب کیسز کھلیں گے۔

 عظمیٰ بخاری نے کہا کہ شہزاد اکبر نےاداروں کو اپنی مرضی سے استعمال کیا، سلمان شاہ اس پورے رنگ روڈ پراجیکٹ کو دیکھ رہےتھے، تمام منظوریاں بزدار صاحب کی مرضی سے ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بزدار صاحب اتنے دن سی ایم نہیں رہے جتنےدن انہیں جیل میں رہنا ہے، یہ تمام کوششیں کرکے دیکھ چکے اس کے باوجود کچھ بھی ثابت نہیں کرسکے۔

قومی خبریں سے مزید