• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے ابتدا ہی میں ایک مقام آتا ہے جہاں گاڑیوں سے سڑک سے گزرنے کا محصول لیا جاتا ہے ۔ اس عمارت کا نام ٹول پلازا کسی زمانے میں ہوگا مگر اب تو سارا علاقہ ہی ٹول پلازا کہلاتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسے تقریباً سبھی لوگ’’ ٹول‘‘ (یعنی واوِ مجہول سے ) بولنے کی بجاے ’’ٹُول‘‘ (یعنی واو ِ معروف سے ) بولتے ہیں یعنی اسے ’’ٹُول پلازا‘‘ کہتے ہیں۔ آسان لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ اس کا صحیح تلفظ بول، کھول، ڈھول کا ہم قافیہ ہے لیکن اسے عام طور پر بھُول، دُھول اور پُھول کے قافیے کے طور پر بولا جاتا ہے۔

عرض یہ کرنا ہے کہ انگریزی میں ایک اورلفظ ’’ٹُول‘‘ (tool) اگر نہ ہوتا تو ہم کہتے کہ ٹول کو ٹُول بولتے رہیے اور جس طرح اردو والوں نے انگریزی کے کئی الفاظ کا تلفظ لسانی ضروریات اورصوتی مجبوریوں کے سبب بدل لیا ہے اس لفظ کو بھی اسی کھاتے میں ڈال دیتے ۔ لیکن ٹُول یا tool(بواوِ معروف )

انگریزی میں کسی اوزار یا آلے کو کہتے ہیں۔جبکہ ٹول یا toll (بواوِ مجہول) چنگی یا راہداری کے محصول کو کہتے ہیں، یوں سمجھ لیجیے کہ سڑک یا پُل پرسے گزرنے کا ٹیکس انگریزی میں ٹول (toll) کہلاتا ہے۔

اگلی بار جب حیدرآباد جانا ہو تو راستے میں ٹول پلازا پر ٹول ٹیکس (محصول) واوِ مجہول سے ادا کیجیے گا ورنہ اگر ٹُول (بواوِ معروف ) دینے کی کوشش کی تو اوزار دینے کی کوشش کرنے پر کوئی ناخوش گوار صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔