• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’طلاق‘‘ مسلم سماج میں ایک ناپسندیدہ عمل ہے،لیکن ناگریز صورتِ حال میں اس عمل کو اپنانا بھی عین جائز قرار پاتا ہے، کسی بھی ملک کی فلمیں اس کے ماحول اور معاشرے کا عکس ضرور پیش کرتی ہیں۔ لہذا ’’ طلاق‘‘ جیسے قبیح فعل کو ہمارے ملک کی بیش تر فلموں میں نہ صرف موضوع بنایا گیا، بلکہ اس کے منفی اثرات ونتائج پربھی موثر انداز میں روشنی ڈالی گئی۔ 

پاکستان میں’’ طلاق‘‘ کے موضوع کا بھرپور احاطہ کرتے ہوئے بنائی جانے والی پہلی فلم ہدایت کار نذیر اجمیری کی سوشل ،ڈرامائی گھریلو فلم قسمت1956 تھی،جس میں لیڈر رول سنتوش کمار اور مسرت نذیر نے ادا کیے تھے۔ یہ ایک ایسے جوڑے کی کہانی تھی کہ جوخوش گوار انداز میں اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتا ہے، لیکن لوگوں کی پیدا کردہ غلط فہمیاں اور بدگمانیاں اس ہنستی بستی فیملی کو طلاق کے اختلاف اور فاصلوں کی خلیج میں دھکیل دیتی ہیں۔ 

ان اختلافات کے منفی اثرات ان کی کمسن بچی پر بھی پڑتے ہیں۔ ایک طویل ڈرامائی صورت حال اور جذباتی والمیہ واقعات کے بعد دکھایا گیا ہے کہ فلم کی ہیروئن اچانک ہڑبڑا کر نیند سے بیدار ہوتی ہے اور خدا کا شکر بجالاتی ہے کہ یہ محض ایک ڈراونا خواب تھا۔ حقیقت نہیں ’’ قسمت‘‘ اپنے وقت کی ایک کام یاب فلم تھی، جسے ہدایتکار ایس سلمان نے ’’ طلاق‘‘ کے عنوان سے ری میک کیا، جس میں شبنم اور شاہد نے مرکزی کردار ادا کیے تھے،لیکن یہ فلم باکس آفس پر رنگ نہ جماسکی۔

’’ طلاق‘‘ کے موضوع پر ہدایت کار جعفر بخاری نے1974میں فلم ’’جواب دو‘‘ بنائی، جس کی کہانی انور بٹالوی کی تحریر کردہ تھی اور اثرخیز مکالمات ریاض شاہد کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ یہ ایک ٹرائی اینگل اسٹوری تھی، جس میں محبت ،شادی،طلاق اور پچھتاوے کے بعد دوبارہ رجوع کی کوشش کو موضوع بنایا گیا تھا۔ فلم میں یوسف خان اور درپن کی ہیروئن زمرد تھیں۔ 

بہ طور ساتھی اداکارہ یا رقاصہ کے زمرد فلم بینوں کے لیے بھرپور اپیل رکھتی تھیں،لیکن بہ طور ہیروئن وہ اپنا کوئی مقام نہ بناسکیں۔ ہمیں بھی جینے دو اور کٹاری کے بعد ’’جواب دو‘‘ گو کہ زمرد نے اپنے کردار کو موثر بنانے کے لیے جان لڑا کرکام کیا،لیکن ہیروئن کی حیثیت سے وہ فلم میکرز اور فلم ویورز کی گڈ بک میں شامل نہ ہوسکیں۔’’جواب دو‘‘ باکس آفس پر کام یابی سے محروم رہی۔ ’’جواب دو‘‘ کی کہانی پر بھارت میں ’’نکاح‘‘ کے عنوان سے معیاری اور موثر فلم بنائی گئی ،جس نےباکس آفس پر شان دار کام یابی ملی اور اسی فلم سے سلمیٰ آغا کو عروج ملا۔ 1974میں نوابی ماحول اور رقاصاوں کے موضوع پر فلمیں بنانے کے اسپیشلسٹ حسن طارق نے ایک شاہ کار مووی ’’ دیدار‘‘ کے عنوان سے بنائی، جس میں طلاق اور حلالہ کو موضوع بناکر فلم بینوں کو جھنجھوڑ دینے والی کہانی نہایت موثر انداز میں سلو لائیڈ کی زینت بنائی گئی۔ 

یہ بھی ایک ٹرائی اینگل اسٹوری تھی، جس کی تکون میں حسین و بے مثل فن کارہ رانی ،چاکلیٹی ہیرو وحیدمراد اور خوبرو ہیرو شاہد شامل تھے۔ دیدار کی کہانی کچھ یُوں تھی کہ رانی اور وحید مراد،محبت کی شادی کرلیتے ہیں۔ وحید مراد کے والد آغا طالش، رانی کے والد درپن کو پرانی رنجش کے سبب نیچادکھانے کے لیے ان کی بیٹی رانی کو زبردستی طلاق دلوایتے ہیں۔ وحیدمراد روتے اور تڑپتے ہوئے بادل نخواستہ رانی کو طلاق تو دے دیتے ہیں، لیکن رانی کے بغیر زندگی گزارنا وحید کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے۔ سو وہ اپنے بہترین دوست نوابزادہ شاہ رخ(شاہد) کو مجبور کرتے ہیں کہ تم زینت(رانی) سے حلالہ کرلو۔ نکاح کے اگلے روزاس کے طلاق دے دینا، یُوں پھر میں دوبارہ زینت کو اپنالوں گا۔

شاہ رخ دوست کے اصرار پرزینت سے نکاح توکرلیتے ہیں،لیکن وہ اسے طلاق دینے کے وعدے سے پھر جاتے ہیں۔ پھر ایک بہت خُوب صورت اور جاندار ڈرامے کا آغاز ہوتا ہے، جس کے اختتام پر نواب زادہ شاہ رخ دوستی کا بھرم رکھنے کے لیے اپنی جان وار دیتے ہیں اور زینت یعنی رانی اور وحید مراد پھر سے ایک ہوجاتے ہیں۔دیدار کاشمار پاکستان حسن طارق کی بہترین اور مضبوط فلموں میں ہوتا ہے۔ تاہم یہ خُوب صورت معیاری اور جاندار فلم باکس آفس پر متوقع نتائج نہ دے سکی اور محض سلور جوبلی تک محدود رہی ۔

پاکستانی فلمی تاریخ کے کام یاب ترین ہدایت کار پرویز ملک نے ’’ طلاق‘‘ کے موضوع پراپنی نئی زندگی کی سب سے بڑی فلم ’’ قربانی‘‘ کے ٹائیٹل پر1981میں پردہ سیمیں پرپیش کی، جس کے مرکزی کردار پاکستانی سینما کی مقبول ترین جوڑی ندیم اور شبنم نے ادا کیے۔ یہ ایسے میاں بیوی کی کہانی تھی، جو ایک دل چسپ صورتِ حال میں اچانک ایک دوسرے کے شریک سفر بنے۔ 

شوہر جوگی تھا اور بیوی ٹی وی سنگر،شادی کے بعد شوہر کو یہ گوارا نہ تھا کہ اس کی بیوی شوبز میں رہ کر پبلک پراپرٹی کہلائے، لیکن بیوی اپنے گائیکی کے پیشے کو جاری رکھنے پر بضد تھی۔ اس مسئلے پر دونوں کے درمیان تکرار اس قدر بڑھی کہ نوبت ناراضگی،اختلافات اور علیحدگی تک جآپہنچتی ہے۔ بعد ازاں معاملات عدالت تک پہنچے اور طلا ق ہوگئی۔ دونوں کے پیار کی نشانی ایک کمسن بیٹا تھا، جو عدالت کے فیصلے کے مطابق مہینے کے چند دن ماں کے ساتھ اور چنددن باپ کے ساتھ گزارنے کا پابند تھا۔

جہاں میاں بیوی ایک دوسرے سے جدا ہوکر پچھتاوے کی زندگی گزار رہے تھے، وہیں ان کا دوحصوں میں بٹا ہوا بیٹا شدیدنفسیاتی اذیت اور کشمکش سے دوچار تھا۔ طلاق کے اس اذیت ناک عمل کے اثرات پھر یُوں ظاہر ہوئے کہ ایک باپ زندگی کی بازی ہار گیا۔ ہدایت کار پرویز ملک نے ’’قربانی‘‘ کو طلاق کے موضوع پر ایک غیر معمولی فلم بنانے میں کوئی کمی نہ چھوڑی، جب کہ لیجنڈری اسٹار ’’ندیم‘‘ نے اپنی فنی زندگی کی اعلیٰ ترین پرفارمنس پیش کی۔ماسٹر خرم نے ماں باپ کے اختلافات سے نفسیاتی طور پر متاثرہ بچے کے کردار میں حیران کن کارکردگی دکھائی، جب کہ شبنم کی پرفارمنس بھی بے مثل تھی۔ ’’ طلاق‘‘ کے موضوع پر مبنی فلموں میں ’’ قربانی‘‘ کام یابی کے اعتبار سے سب سے نمایاں فلم تھی، جس نے شان دار ڈائمنڈ جوبلی کا اعزاز حاصل کیا۔

1985میں ہدایت کار محمد جاوید فاضل نے میاں بیوی کے اختلافات اور ان کے مابین ’’طلاق‘‘ کے نتیجے میں ان کے بچے پر پڑنے والے شدید منفی اثرات پر بڑی مہارت اور مشاقی سے روشنی ڈالی۔اس موضوع سے متعلقہ ان کی فلم کا نام تھا ’’ ناراض‘‘، جس میں طلاق کی تباہ کاری سے متاثرہ بچے کا کردار خُوب صورت پر فارمر فیصل الرحمن نے کمال فن کے ساتھ ادا کیا تھا،جو ماں باپ کی چپقلش اور طلاق کے بعد ایک غیر متوازن شخصیت بن کر منشیات کی بُری لت میں پڑ جاتا ہے۔ ناراض ایک بہت ہی متاثرکن معیاری اور میسیج فل مووی تھی، جس نے بہت سے ایواڈز اپنے نام کیے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید