کراچی،اسلام آباد ( اسٹاف رپورٹر، خبر ایجنسیاں )وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ ن لیگی پالیسیوں نے 20ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ،ان کی ٹیم نے ملک کو دیوالیہ، زر مبادلہ ذخائر آدھے کردیئے۔
ٹیکس بڑھائے بغیر آمدنی دگنا کریں گے، خسارے میں چلنے والے بڑے اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کی جائے گی، مہنگائی کا مقابلہ کررہے ہیں، اپوزیشن کو حکومتی معاشی کامیابی ہضم نہیں ہورہی، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے سیمینار کئے۔
وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین نے کہاکہ ڈار کی غلطی عمران خان نے بھگتی، یکم جولائی 2021 سے ایف بی آر کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا جائے گا ،ٹیکس دہندگان از خود تشخیص کرسکیں گے جبکہ صرف 4 سے 5 فیصد کیسز آڈٹ کے لیے بھیجے جائیں گے۔
یہ آڈٹ ایف بی آر کی بجائے تیسرے فریق کے ذریعے ہو گا، یونیورسل ٹیکس سیلف اسسمینٹ اور صرف تیسرے فریق کے ذریعے آڈٹ پر اتفاق ہو چکا ہے،ٹیکس ڈیفالٹرز جیل جائینگے، ایف بی آر بھی شناختی کارڈ کا مطالبہ بند کرے۔
آئی ایم ایف ہمارے اوپر دباؤ ڈال رہا ہے کہ ہر قسم کی چھوٹ کو بند کردیا جائے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر 140ارب روپے کا اضافی ٹیکس عائد کیا جائے جس پر میں نے انکار کردیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے ورچیوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت کی معاشی ترقی اپوزیشن کو ہضم نہیں ہو رہی، (ن) لیگ کے دور میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم رکھا گیا۔
(ن) لیگ کے آخری 17 ماہ میں زرمبادلہ کے ذخائر نصف کر دیئے گئے، کرنٹ اکائونٹ خسارہ بلند ترین سطح پر تھا، اب معاشی شرح نمو چار فیصد سے زائد ہے، اگلے سال یہ شرح 5 فیصد اور اس سے اگلے سال 6 فیصد ہو گی، ہمارا ہدف ہے کہ ٹیکس ریونیو ہر سال 20 فیصد بڑھائیں، خسارے میں چلنے والے بڑے اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کی جائے گی۔
مزید ٹیکس لگانے کی بجائے ٹیکس کا دائرہ بڑھایا جائے گا، غربت میں کمی کیلئے غریب اور مستحق افراد کو براہ راست مالی معاونت اور گھر فراہم کئے جائینگے،شوکت ترین نےکہاکہ موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری کیلئے مختصر درمیانے اور طویل مدت کے منصوبے بنائے ہیں۔
ٹیکس محصولات میں ہر سال 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا اور اگلے دو سال میں ٹیکس وصولی کو 7 ٹریلین سے اوپر لے جائیں گے،پی ایس ڈی پی میں 38 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا، بجٹ میں زراعت ، برآمدی شعبے، آئی ٹی اور انڈسٹری کو سہولیات دی جائیں گی ، جبکہ 4 سے 6 ملین افراد کو گھر، قرضے، ہیلتھ کارڈ اور ہر خاندان کے ایک فرد کو فنی تعلیم فراہم کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں شوکت ترین نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ٹیکس وصولی کا 4700 ارب روپے کا ہدف پورا کیا جائے گا اور اگلے سال ہمارا ہدف 5.8 ٹریلین روپے ہو گا، ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ریٹیل اور دیگر صوبوں تک ٹیکس کا دائرہ بڑھائیں گے۔
آئی ایم ایف کو بتا دیا ہے کہ ٹیرف بڑھا کر غریبوں پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، ہم اس کا متبادل دینگے، وہ گردشی قرضے میں اضافہ روکنا چاہتے ہیں، ہم ایسے اقدامات کرینگے کہ یہ نہ بڑھے ۔
شوکت ترین نے کہا کہ ڈالر 154، 155 روپے پر اب مستحکم ہے ۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے بجٹ سیمینار میں غلط اعداد و شمار پیش کر کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔
(ن) لیگ کی معاشی ٹیم ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کے گئی تھی، موڈیز اور ففٹ جیسے عالمی اداروں نے ان کے دور میں پاکستان کی معیشت کی درجہ بندی کم کر دی تھی اور یہ خود اس وقت کہتے تھے کہ نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا، جب مسلم لیگ (ن) کا دور ختم ہوا تو ہمیں 10 ارب ڈالر قرضے واپس کرنا پڑ رہے تھے۔