• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حذیفہ احمد

ماہرین فلکیات خلا میں پوشیدہ رازوں اور چیزوں کو تلا ش کرنے میں سر گرداں ہیں ۔اس ضمن میں سائنس دانوں نے خلا میں ایک اجنبی چیز تلا ش کی ہے ۔57 ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے یہ اجنبی چیز ’’ویگا ‘‘ کی سمت سے آئی تھی ۔ویگا ایک اجنبی ستارہ ہے جو ہماری زمین سے 237 کھرب کلو میٹر دورہے ۔ اس اجنبی چیز کی ہئیت لمبے سگار کی طر ح ہے جو ایک غیر معمولی جہاز جیسی ڈسک میں ڈھلا ہوا ہے ۔

جب تک یہ اجنبی چیز ماہرین کے مشاہدے میں آئی اُس وقت تک یہ ہمارے نظام شمسی میں موجود سورج کے سامنے سے گزر چکی تھی ۔اور اس نے یوٹرن لے کرایک مختلف سمت میں سفر شروع کردیا تھا ۔اس اجنبی شے کا نام ’’اومواموا‘‘(Oumuamua) رکھا گیا ہے ۔سب سے پہلے ماہرفلکیات رابرٹ ویرک نے اس کا پتہ لگایا تھا اور اس کی رفتار جاننے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یہ شے علم طبیعیات کے لیے ایک نئی شے ہے ۔یہ کوئی عام دم دار ستارہ یا سیارچہ نہیں تھا بلکہ یہ دوردراز کسی نامعلوم شمسی نظام سے آنے والی کوئی چیز تھی ۔

سائنسدانوں کو اس سے جڑے دو حقائق میں سب سے زیادہ دلچسپی ہے۔سب سے پہلے اس کی وہ پراسرار رفتار تھی جو سورج سے دور جاتے ہوئے مشاہدے میں آئی۔ اور اس رفتار کی وجہ سے اس کے بارے میں نظریہ قائم کرنا مشکل تھا کہ یہ شے کس مادّے کی بنی ہوئی ہے۔دوسری بات اس کی عجیب و غریب شکل ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ چیز جتنی چوڑی ہے اُس سے 10 گنا لمبی ہے۔ اومواموا سے پہلے خلا میں ملنے والی اس طرح کی لمبوتری چیز جتنی چوڑی تھی اس سے صرف تین گنا لمبی تھی۔ماہرین کو لگتا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں باقاعدگی سے ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں تک سفر کرنے والی ایسی اشیا آتی جاتی رہی ہوں گی ۔ 

جن میں سے بہت ساری اربوں سالوں تک ایک ستارے سے دوسرے ستاروں کے درمیان گھومتی رہی ہوں گی۔لیکن چوں کہ آج کل ہر رات سینکڑوں جدید آلات آسمان کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں، جن میں قطب جنوبی میں شدید برفباری میں لگے ٹیلی اسکوپ سے لے کر چلی کے اینڈیس پہاڑی سلسلے میں سورج کی کرنوں سے پُرنور ایٹاکاما لارج ملی میٹر ارے (الما) شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس سے پہلے ایسی ساخت کی کسی چیز کا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔پھر اوموامواکے نمودار ہونے کے بعد ایسا ہوا جو بالکل غیر متوقع تھا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ومواموا کی ایک دم دار ستارے یا سیارچے کے طور پرقطعی درجہ بند ی نہیں کی جاسکتی ۔ 

لیکن سائنس دانوں نے ہمیشہ قیاس کیا ہے کہ کہکشاؤں کے درمیان سفر کرنے والی زیادہ تر چیزیں دم دار ستارے ہو سکتی ہیں۔ہمارے اپنے نظام شمسی کے دور درازحصوں میں واقع کچھ دم دار ستارے سورج کی کشش ثقل کی گرفت میں آنے سے پہلے ممکن ہے کہ اصل میں مختلف کہکشاؤں کے درمیان سفر کرتے رہے ہوں ،تاہم زیادہ تر دم دار ستاروں کی دم ہوتی ہے۔ 

روشن دھواں خارج کرنے والی دم، جو ان کے پیچھے چلتی ہے اور جو اس وقت بنتی ہے جب وہ سورج کے قریب سے گزرتے ہیں اور یہ گرمی کی وجہ سے اپنے اندر جمی ہوئی گیسوں اور خلائی دھول کو خارج کرتے ہیں،مگر اجنبی خلائی شے اومواموانے ایسا نہیں کیا۔یہ حیرا ن کن بات تھی ،کیوں کہ اس کو نظام شمسی کی گہرائی میں سورج کی طرف لے گیا اور اس کا سورج سے فاصلہ صرف 0.26 اے یو تک رہ گیا تھا، یہ زمین سے سورج کے فاصلے کا ایک چوتھائی بنتا ہے۔آوی لوئب کے مطابق جب اعداد و شمار سامنے آئے تو انتہائی حیران کن تھے ۔

پہلے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شاید اس کا مطلب ہے کہ اومواموا ایک پتھریلا سیارچہ ہے، بعدازاں ایریزونا ا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر فلکیات اور سیاروں کے سائنسدان ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ اس میں سورج سے دور جاتے ہوئے تیزی آئی ہے۔واپس جاتے ہوئے سیارچوں کی رفتار میں تیزی آنا بالکل معمول کی بات ہے اور جب وہ سورج کے قریب پہنچ کر واپس جاتے ہیں تو اس تیز رفتاری کی وجہ اُن کی دم بن جاتی ہے جو ان کی رفتار کو بڑھا دیتی ہے، اس کے پیچھے سے گیسوں کا خارج ہونا وہی کام کرتا ہے جو راکٹ پر لگا انجن اسے دھکیلنے کے لیے کرتا ہے۔

آوی لوئب کا کہنا ہے کہ سورج کی کشش ثقل کی طاقت کے علاوہ اسے کوئی اور طاقت دھکا دے کر (سورج سے) دور لے جا رہی تھی۔اس دھکے کو سمجھنے کے لیے اس مادّے کی مقدار کے دسویں حصے کو بخارات بن کر اڑ جانے کی ضرورت تھی۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاید یہ چیز ایک ہائیڈروجن سے بنی برف کی چٹان تھی۔ منجمد ہائیڈروجن کا ایک دیو ہیکل تودہ جس کی ایسی دم بن سکتی تھی جو زمین سے نظر نہیں آتی۔

پہلے تو یہ کہ کسی نے بھی اس سے پہلے خلا میں ہائیڈروجن کی برف نہیں دیکھی تھی۔ آوی لوئب اور ان کے ساتھیوں کا استدلال تھا کہ یہ مادّہ اتنی دیر کے لیے اتنا ٹھنڈا نہیں رہ سکتا ہے کہ اومواموا جیسی بڑی چیز تشکیل پائے۔ اور یہ کہ اس کا نقطہ انجماد جو منفی 295 ڈگری سینٹی گریڈ ہے کائنات کے تحولی درجۂ حرارت سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔

اسٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ یہ کچھ ایسی چیز تھی، جس کے بارے میں سوچا ہی نہیں گیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہائیڈروجن بھی نہیں ہو سکتی تھی ،کیوں کہ کائنات بہت گرم ہے۔ اس خیال کی تائید کے لیے انہوں نے اس بات کا حساب لگایا کہ اومواموا کی سطح کتنی چمکیلی ہے اور یہ کتنی روشنی منعکس کرتی ہے اور اس کا موازنہ منجمد نائٹروجن کے ساتھ کیا۔ اس موازنے سے پتا چلا ہے کہ دونوں کے نتائج کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں۔

ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ یہ منجمد نائٹروجن کا ٹکڑا ہو ۔ ہمارے اپنے نظام شمسی کی ارتقا کائپر بیلٹ کے برفیلی علاقے میں ہزاروں ایسے ہی سیاروں کے ساتھ ہوئی تھی۔ اسٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ بالآخر نیپچون اس خطے سے گزرا اور اس سے بہت سارا مواد خارج ہوا۔ اور یہ سب شروعات میں ہوا تھا۔ 

ان کا خیال ہے کہ اومواموا تب سے ہی خلا کے انتہائی سرد اور وسیع خطے میں سفر کر رہا ہے۔گرچہ یہ چیز آخرکار بہت سال پہلے شمسی نظام کے بالکل بیرونی کنارے تک پہنچی ہو گی لیکن اس کا نظام شمسی کے انتہائی گرم وسطی خطے تک کے سفر میں بہت لمبا عرصہ لگا ہو گا۔یہ اس کی غیر معمولی شکل اور اس کی تیزرفتاری کی وضاحت کرتا ہے، کیوں کہ اس سے خارج ہونے والی نائٹروجن کے بخارات سے ایک پوشیدہ دم بنی ہو گی، جس نے اسے آگے بڑھنے میں مدد دی۔ ایلن جیکسن کا کہنا ہے کہ ہمارا ماحول زیادہ تر نائٹروجن گیس پر مبنی ہے اور آپ اس کے آر پار دیکھ سکتے ہیں۔ نائٹروجن گیس کا پتا لگانا مشکل ہوتا ہے۔

پلوٹو کی سطح اس کے حجم کا صرف چند فی صد ہے۔اس وقت ہم صرف ایسے سیارے دیکھ پاتے ہیں جو بالواسطہ دوسرے ستاروں کے مدار میں گردش کرتے ہیں اور یہ بات ہمارے علم میں اس طرح آتی ہے جب ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ سیارے اپنے ستارے کی کتنی روشنی روک پاتے ہیں جب وہ اس کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ان کی کشش ثقل ستارے کی روشنی کو کیسے متاثر کرتی ہے۔یہ فاصلے بہت زیادہ ہیں ۔ہم سے قریب ترین ستارہ پراکسیما سینچوری ہے جو 4.2 نوری سال (25 ٹریلین میل) دور ہے۔ اس تک کا سفر کرنے میں موجودہ دور کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہزاروں سال لگیں گے۔ 

اگر وائیجر جیسا خلائی جہاز جو اس وقت ہمارے نظام شمسی سے بالکل باہر کی جگہ کی چھان بین کر رہا ہے اس وقت زمین سے روانہ ہو تو یہ وہاں 75100 میں پہنچے گا۔ماہرین کے مطابق اومواموا جب ہمارے نظام شمسی میں داخل ہوا تو وہ تب بھی نسبتاً کافی بڑا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اُس وقت بھی ویسا ہی تھا جیسا یہ جس سیارے کا ٹکرا ہے اس کا حصہ ہوتے وقت اپنی اصلی حالت میں تھا۔ 

یہ خلا کے برفیلی ماحول میں ایک ارب سال کے نصف حصے تک سفر کے دوران محفوظ رہا ہے۔ اس تمام عرصے میں اس کا سامنا کبھی بھی کسی دوسرے ستارے سے نہیں ہوا سوائے اس وقت کے جب وہ ہمارے ستارے کے پاس آن پہنچا۔

اسٹیون ڈیسچ کا کہنا ہے کہ یہ شاید ایک نوری سال کے تھوڑے سے حصہ میں دوسرے درجنوں شمسی نظاموں سے گزرا ہو گا ،مگر یہ ہمارے سورج جیسے دوسرے کسی ستارے کے قریب سے گزر کر نہ بچ پاتا۔اومواموا کی ایک ممکنہ منجمد نائٹروجن کی چٹان کے طور پر شناخت سے پتا چلتا ہے کہ دوسرے شمسی نظام بھی ہمارے نظام شمسی کی طرح ہی ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید