• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’قاری محمد ابراہیمؒ‘‘ قرآنِ پاک کے عاشق اور ایک متبعِ سنت بزرگ

پروفیسر حافظ حسن عامر

عارفینِ حق دراصل وہ خدا شناس، صاحبانِ عرفان اور اربابِ بصیرت ہیں، جو لمحہ بھر بھی مولائے حقیقی کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔ ہر لحظہ اُس کی اطاعت اور بندگی پر کمر بستہ رہتے ہیں۔’’یک لحظہ غافل گشتم و صد سالہ راہم دُور شد‘‘یعنی ’’مَیں ایک لحظے کے لیے غافل ہوا اور راہ سے ایک سو سال دُور ہو گیا‘‘ کے مصداق، اپنے محبوبِ حقیقی، ربّ ِ کریم سے لمحہ بھر کی غفلت بھی صدیوں پر محیط غفلت کے مترادف تصوّر کرتے ہیں۔قرآن پاک ایسے ہی صاحبانِ معرفت کا ذکر اِن الفاظ میں کرتا ہے،’’وہ ایسے مرد ہیں کہ جنہیں تجارت اللہ سے غافل کرتی ہے اور نہ ہی خرید و فروخت(اللہ سے غافل کرتی ہے)‘‘(سورۂ نور 37)۔

یقیناً یہ دولتِ دنیا، مال و متاع، سامانِ عیش و طرب، یہ متاعِ قلیل،گل زارِ ہست و بود کا یہ سارا ہنگامہ اہلِ عرفان کے لیے محض دھوکا اور فریبِ نظر ہے۔ اِنہی عارفین میں سے ایک ،حضرت قاری محمّد ابراہیم نوراللہ مرقدہ بھی تھے۔آپ جامع الصفات بزرگ، ولیٔ کامل، درویش باصفا، قاریٔ قرآن، متبعِ سنّتِ نبویؐ ، عالم باعمل، فاضلِ طبّ و جراحت، تعبیرِ خواب کے ماہر، بلکہ اِس فن میں وحید العصر تھے۔ یہی سبب ہے کہ مشاہیرِ وقت، علماء اور صلحاء خوابوں کی تعبیر کے لیے آپ کی طرف رجوع کیا کرتے۔قاری صاحب نے مدرسہ سبحانیہ، دہلی سے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ 

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان تشریف لے آئے۔ کچھ عرصہ لاہور میں مقیم رہے اور پھر کراچی کے علاقے، جمشید روڈ پر مستقل سکونت اختیار کرلی۔ تاہم، یہاں بھی تعلیم و تعلّم کا سلسلہ جاری رہا۔ اُن کے علمِ حدیث میں استاد مولانا محمّد حقیق محدث رام پوریؒ تھے، جو مدرسہ عالیہ رام پور کے شیخ الحدیث تھے۔ آپ نے اُن سے بخاری اور مسلم شریف کا سبقاً سبقاً درس لیا۔ علاوہ ازیں، محدث العصر، علّامہ محمّد یوسف بنوری ؒ کے درسِ حدیث میں باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے تھے اور حضرت بنوری ؒاُن سے خاص شفقت فرمایا کرتے۔

قاری محمّد ابراہیم ؒتجوید و قرأت کے فن پر عبور رکھتے تھے۔آپ قرأتِ سبعہ کے ماہر تھے۔ اُن کے اساتذہ میں مولانا حامد حسین شامل تھے۔ بعد ازاں، قاری صاحب حجازِ مقدّس تشریف لے گئے اور مدینہ منوّرہ کےشیخ القراء ، شیخ حسن بن ابراہیم الشاعر کو پورا قرآنِ کریم سُنایا،جس پر اُنھوں نے آپ کے فن کی تحسین فرمائی اور اپنے ہاتھ سے سندِ فضیلت لکھ کر عطا فرمائی۔ شیخ حسن مدینہ منوّرہ کے معمّرترین قاری اور مسجدِ نبوی ﷺ میں روضۂ رسولﷺ کے جوار میں علمِ قرأت و تجوید کا درس دیا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے قاری ابراہیم کو کلام اللہ پڑھنے اور پڑھانے کا خاص ذوق عطا فرمایا تھا۔ اِس حوالے سے بجا طور پر اِس حدیثِ مبارکہ کے مصداق تھے کہ جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے، جو خود قرآن سیکھے اور دوسروں کو سِکھائے۔‘‘اگر کوئی ایسا شخص آپ سے ملاقات کے لیے آتا، جو اپنا تعارف بحیثیت قاری کرواتا، تو اُس سے تلاوت کی ضرور فرمائش کرتے۔کوئی کمی دیکھتے ،تو غلطی کی اصلاح فرماتے اور اہلِ فن سے رجوع کا مشورہ دیتے۔اللہ تعالیٰ نے اُنھیں حدیث اور علومِ حدیث کے مطالعے کا بھی بے پناہ شوق عطا کیا تھا۔ 

اُنھیں سیکڑوں احادیثِ مبارکہؐ حفظ تھیں۔ آپ کی نشست کے اطراف احادیث کی کتب کا انبار لگا ہوتا ۔ فرائض و واجبات، سنن و نوافل اور اورادِ مسنونہ کے بعد آپ کا زیادہ وقت کتبِ احادیث ہی کے مطالعے میں گزرتا۔ بالخصوص بخاری ومسلم کی شروح زیرِ مطالعہ رہتیں۔ رسول اللہ ﷺ سے محبّت ہر مومن کا سرمایۂ حیات ہے اور اہل اللہ کے نزدیک حبّ نبویؐ حاصلِ زندگی ہے، چناں چہ قاری صاحب بھی اپنے پہلو میں رسول اللہ ﷺ کی محبّت سے سرشار دِل رکھتے تھے۔ اُن کی گفتگو کا ہر زاویہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذاتِ والا صفات سے وابستہ ہوتا۔ رحمتِ مجسّم ﷺ کا ذکرِ ہوتا، تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ 

مدینہ طیّبہ کا نام انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ لیتے اور ہمیشہ مدینہ منوّرہ کا نام لینے کے بعد احتراماً’’ زادھا اللہ شرفاً و تعظیماً‘‘ کا اضافہ ضرور فرماتے۔گویا زبان ذکرِ الٰہی کے ساتھ ،ذکرِ محبوب ِ کبریاﷺ سے تر رہتی۔ رسولِ کریمﷺ کی سنّتِ مطہرہ سے بے پناہ محبّت کیا کرتے اور طریقِ نبویؐ کی پیروی میں کوشاں رہتے۔زندگی کا ہر لمحہ آپ ﷺ کی سنّتِ مبارکہ کے مطابق گزارنے کی سعی کرتے اور لوگوں کو بھی اتباعِ سنّت کی ترغیب دیتے۔ اُن کے نزدیک دنیا اور اس کی رنگینیوں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ ایسی دنیا داری سے گریزاں رہتے، جو یادِ الٰہی سے غافل کر دے۔ دنیوی سازوسامان اور عیش و عشرت کی چیزوں سے اپنا دامن بچا کر رکھا، دنیاداروں سے میل جول میں محتاط رہتے، اہل اللہ اور اہلِ علم کی صحبت پسند کرتے تھے۔ 

طریقت کے قادریہ سلسلے میں مجاز اور صاحبِ اجازت شیخ تھے۔ جلیل القدر روحانی بزرگ، غازیِ اسلام، حضرت شاہ عبدالغفور اخوندؒ (سوات) کے سلسلے سے تعلق رکھتے تھے اور تعبیرِ خواب کے علم میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔حالاں کہ خواب کی صحیح تعبیر، درست تفہیم، نیز تمثیلی اشارات، رموز سمجھنا اور عالمِ مثال سے اُس کی تطیبق کرکے صاحبِ خواب کے ذاتی احوال کے مطابق درست رہنمائی کرنا ایک ماہر معبیر ہی کا کام ہے اور یقیناً یہ کام وہی شخص کرسکتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے عالمِ امثال کا ادراک نصیب فرمایا ہو۔

موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے، جس سے فرار ممکن نہیں۔ ہر ذی روح کو اس کا ذائقہ چکھنا ہے اور ہر شخص کو ایک مقرّرہ وقت پر پیامِ اجل کے سامنے سپر انداز ہونا ہے۔ قاری ابراہیمؒ بھی ۱۱ جمادی الاوّل1324 ھ، مطابق 5اکتوبر 1995ء کو دارِفانی سے دارِ باقی کُوچ کرگئے، تو ہزاروں لواحقین، متعلقین اور متوسّلینِ روحانیت اِک شجرِسایہ دار سے محروم ہوگئے۔بلاشبہ، قاری صاحبؒ کے انتقال سے اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا۔