• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیلامی کی بیع میں پیسے دے کر خریداروں کو بولی سے دست بردار کرنا

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ نیلامی کی بیع کے اندر دیگر خریدار لوگوں کو کچھ پیسہ دیے کر حق خریداری سے دستبردار کردینا شرعاً کیسا ہے؟ اور حق خریداری سے دستبردار ہونے کےلیے پیسہ لینا کیسا ہے؟ جیسا کہ بائع نے مبیع کی قیمت نیلامی میں ایک لاکھ روپے لگائی اور میں مبیع کی قیمت کو بڑھنے سے روکنے کےلیے دیگر مشتری حضرات کو کچھ پیسے دے کر حق خریداری سے روک دیتا ہوں کہ آپ ایک طرف ہوجاؤ ،تاکہ مبیع میں بائع کی مقرر کردہ قیمت پر خرید لوں تو اس طر ح میرا دیگر مشتریوں کو پیسہ دینا اور ان کا پیسہ لینا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں وضاحت فرمادیں۔

جواب:۔ بولی سے دست بردار ی کوئی ایسا حق نہیں ہے جس کا معاوضہ لینایا دینا درست ہو۔ مزید یہ کہ اس عمل میں بائع کا نقصان بھی ہے۔ بنابرایں یہ عمل ناجائز ہے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk