• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سشانت کی زندگی پر مبنی فلم کو نشر کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)دہلی ہائی کورٹ نے بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بننے والی فلم ’نیائے دا جسٹس‘ کو نشر کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ گزشتہ سال 14 جون کو خودکشی کرنے والے بھارتی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر بننے والی یہ فلم جمعے کو ریلیز ہوگی۔بھارتی میڈیا کے مطابق جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کے والد کرشنا کشور سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ فلم خاندان کے افراد کی مرضی کے بغیر عکسبند کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ’فلم ساز صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس موقع کو کیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس نوعیت کی کسی ویب سیریز، کتاب یا کسی اور مواد کو شائع یا نشر کیا گیا تو یہ متوفی اور متاثرین کے حق کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔‘کرشنا کشور نے فلم ساز آریاببر پر سشانت سنگھ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے، ذہنی دباؤ اور ہراسمنٹ پر دو کروڑ روپے ہرجانے کا دعوی بھی کیا تھا۔بھارتی فلم ساز آریا ببر نے گزشتہ سال اگست میں سشانت سنگھ کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان کیا تھا۔گذشتہ سال اسی مہینے کی 14 تاریخ کو انڈسٹری میں ’سیلف میڈ ایکٹر‘ سمجھے جانے والے سشانت سنگھ راجپوت اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے مقدمے پر سماعت کرتے ہوئے تفتیشی ادارے سی بی آئی کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔تفتیش کے دوران اس واقعے میں منشیات کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا تھا جس نے بولی وڈ میں منشیات کے کثرت سے استعمال کی بحث کو جنم دیا تھا۔دیپکا پاڈوکون سمیت کئی فنکار بھی تحقیقات کے گھیرے میں آئے اور انہیں انسداد منشیات بیورو طلب کیا گیا۔ اداکارہ ریا چکرورتی کو بھی منشیات کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دل لگی سے مزید