• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائیکورٹ، کمشنر کراچی کا دودھ کی مقررہ قیمتوں پر فروخت میں ناکامی کا اعتراف

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے روبرو کمشنر کراچی نے اعتراف کیا ہے کہ مقرر کردہ قیمت پر دودھ کی فروخت میں وہ ناکام ہیں اور زائد قیمتوں پر دودھ فروخت کرنے والوں پر صرف جرمانے لگا کر چھوڑ دیا گیا اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف مزید کارروائیاں جاری ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ نے کمشنر کراچی کو دوھ کی قیمت کے تعین کے حوالے سے حکمت عملی طلب کرتے ہوئے کمشنر کراچی حکم دیا ہے کہ سرکاری قیمت پر دودھ کی فروخت یقینی بنائی جائے۔ جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ نے دودھ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف پاسبان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ اس دوران کمشنر کراچی کی جانب سے پیش رفت رپورٹ جمع کرائی گئی۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دودھ کی سرکاری قیمت94 روپے فی لیٹر ہے جبکہ شہر میں 120اور 130روپے فی لیٹر دودھ فروخت کیا جارہا ہے، زائد قیمت پر دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سماعت کے دوران کمشنر کراچی کے نمائندے نے عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم زائد قیمت پر دودھ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرکے جرمانے عائد کر رہے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے جرمانے لگانے سے کیا دودھ مقررہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے؟ آپ کے جرمانے لگانے سے عوام الناس کو کیا فائدہ ہوا؟ جس پر کمشنر کا نمائندہ کوئی جواب نہ دے سکا، عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ سرکاری نرخ پر دودھ کی فروخت یقینی بنائیں۔ اس موقع پر جسٹس ہیلپ لائن کے ندیم شیخ ایڈووکیٹ کی جانب سے مذکورہ آئینی درخواست میں فریق بننے کی درخواست دائر کی گئی، جس پر عدالت نے کمشنر کراچی سمیت دیگر مدعا علہیان کو نوٹس جاری کردیئے۔ بعد ازاں عدالت نے کمشنر کراچی کو دودھ کی قیمت کے تعین کے حوالے سے میکنزم پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 12 اگست تک ملتوی کردی۔

اہم خبریں سے مزید