• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جج نے عدلیہ کو بدنام کرکے حلف کی خلاف ورزی کی، سپریم کورٹ

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے بر طرف جج، شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ان کے وکیل نے موقف اپنایا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے لگائے گئے الزامات کی انکوائری کیے بغیر ہی درخواست گزار، شوکت عزیز صدیقی کے خلاف رپورٹ دی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی مدت ملازمت کا واحد محافظ سپریم جوڈیشل کونسل ہے لیکن سپریم جوڈیشل کونسل نے ان کے موکل کو صفائی کا موقع ہی نہیں دیا۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے تحریری بیان میں آئی ایس آئی اور افواج پاکستان کے چند افسران پرشوکت عزیز صدیقی کی جانب سے لگائے گئے تمام تر الزامات مسترد کردیئے ہیں۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریما رکس دیئے ہیں کہ اعلی عدلیہ کا جج عدلیہ کے تحفظ کا حلف اٹھاتا ہے لیکن درخواست گزار ،جج نے کھلے عام عدلیہ کو بدنام کرکے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے ، درخواست گزار نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اپنے عہدے کو نہیں سمجھا، کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق بھی آپ کے موکل نے عدلیہ کا دفاع کرنا تھا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریما رکس دیئے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے تسلیم شدہ حقائق کی بنیاد پر اوپن انکوائری کو مناسب نہیں سمجھا،اگر درخواست گزار سمجھتا ہے کہ انکوائری ضروری تھی تو عدالت کو مطمئن کیا جائے۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کے روز کیس کی سماعت کی تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل سہیل احمد پیش ہوئے اور عدالت میں پچھلی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کی جانب سے آ ئی ایس آئی اورا فواج پاکستان کے چند افسران پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے فیڈریشن کا تحریری جواب پیش کیا ۔انہوںنے جواب باآواز بلند پڑھ کر سنا یا کہ درخواست گزار کی جانب سے ان کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے عدالت میں کوئی موقف پیش نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آ ئی ایس آئی اورا فواج پاکستان کے چند افسران پر لگائے گئے الزامات من گھڑت،بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کے مو کل نے پچھلی سماعت پر کوئی نئی چیز نہیں بیان کی تھی ،انہوںنے جو کچھ بھی کہاہے وہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے جواب کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے موکل نے بیا ن حلفی پر مشتمل جواب جمع کروانے کی کوشش کی تھی لیکن اضافی دستاویزات پر ر جسٹرار افس نے اعتراضات لگا کر واپس کر دی تھی ۔دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے فاضل وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس د رخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے پہلے اپنے دلائل مکمل کرلیں،آپ اپنے دلائل کو آئین کے آرٹیکل 211 کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟آپ ایک جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کو لازمی قرار دینے کے حوالے اپنے موقف پر بھی دلائل مکمل کریں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر مملکت کی جانب سے نہیں تھا بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے خود شکایت پر نوٹس لیا تھا،جس پر فاضل وکیل نے کہا سپریم جوڈیشل کونسل اعلی عدلیہ کے ججوں کے تحفظ کا واحد ادارہ ہے ،کونسل نے نوٹس لے کر الزامات کی انکوائری کرنی تھی ،لیکن میرے موکل کو تو صفائی کا موقع ہی نہیں دیا گیا ،اگر کونسل صفائی کا موقع دیتی تو ان جرنیلوں کو بلایا جاتا اور ان سے سوال و جواب کرتے۔جسٹس بندیال نے کہا کہ درخواست گزار نے سب کے سامنے عدلیہ پر تنقید کی ہے اوربارایسوسی ایشن میں جاکر عدلیہ کو بدنام کیا۔فاضل وکیل نے کہا کہ یہ ان کی رائے تھی ، رائے دینے کی بنیاد پر کسی جج کو اس کے عہدہ سے برطرف نہیں کیا جاسکتا ہے،انکوائری ہوتی تو پتہ چلتا کہ رائے غلط ہے یا صحیح؟جسٹس عمر عطا ء بندیال نے کہا کہ آپ کے موکل کے پاس سب کے سامنے کھلے عام عدلیہ کو بدنام کرنے کا کیا جواز ہے؟وہ بار کی تقریب میں گئے اور جو دل میں آیا کہہ دیا، پبلک میں جا کر تقریر کی، جسٹس منیر کی تاریخ بیان کرتے کرتے موجودہ دور میں دیانتداری سے کام کرنے والے ججوں کو بھی مورود الزام ٹھہرا دیا۔ مجھے شاعری نہیں آتی ہے لیکن وہ کیا شعر ہےہائے اس زود پشیمان کا پشیماں ہوناجس پر درخواست گزار شوکت عزیز صدیقی نے سیٹ سے اٹھ کر شعر مکمل کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو مجھ پر پورا تر رہا ہے کہ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ،،ہائے اس زود پشیمان کا پشیماں ہونا، فاضل وکیل نے کہا کہ میرے موکل کی یہی استدعا تھی کی الزامات سے متعلق انکوائری کروائی جائے،ہر شخص تاریخ کی تشریح اپنے نکتہ نظر سے کرنے کا مجاز ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے موکل نے انکوائری کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو بھی لکھا تھا جس پر جسٹس عمر عطا ء بندیال نے کہا کہ پہلے تقریر کی گئی اور بعد میں چیف جسٹس کو لکھا گیا تھا ،فاضل وکیل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہوجانے کی بناء پر کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔

اہم خبریں سے مزید