• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سگریٹ کی خریداری کی عمر 21 سال کرنے پر مشاورت کی جائے، ارکان پارلیمنٹ

لندن (پی اے) ارکان پارلیمنٹ نے 2030 تک تمباکو نوشی کی وبا کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئےسگریٹ کی خریداری کی عمر21 سال کرنے پر مشاورت کرنے کا مطالبہ کردیا۔ سگریٹ نوشی اور صحت سے متعلق آل پارٹی پارلیمانی گروپ میں شامل ارکان پارلیمنٹ نے بچوں کو نوجوانوں کو تمباکو نوشی کا عادی بننے سے روکنےاور لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے میں مدد دینے کیلئے18 تک کے بچوں کوسگریٹ کی فروخت پر پابندی کے قانون میں ترمیم کرکے سگریٹ کی فروخت کی ممانعت کیلئے عمر کی حد 21 سال کرنے کی سفارش کی ہے۔ صحت سے متعلق فلاحی اداروں اور میڈیکل سے متعلق تنظیموں نے ارکان پارلیمنٹ کی اس سفارش یا مطالبے کی حمایت کی ہے۔ مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ اورلارڈز نے متنبہ کیا ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کا خاتمہ کر کے ہی کورونا کے بعد معاشرے کی زیادہ بہتر اور منصفانہ طریقے سے تعمیر کرسکتی ہے اور حکومت کو 2030 تک برطانیہ کو سگریٹ نوشی سے پاک کرنے کیلئے ابھی سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال اور رواں سال بھی سگریٹ نوشی کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد کورونا کے سبب ہلاک ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں ان کمیونٹیز اور علاقوں میں، جہاں تمباکو نوشی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، لوگوں کو تمباکو نوشی ترک کرنے کیلئے اضافی سپورٹ کی فراہمی کیلئے ٹارگیٹڈ سرمایہ کاری کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ 76فیصد افراد نے حکومت کی جانب سے 2030 تک برطانیہ کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے عزم کی حمایت کی ہے جبکہ 77 فیصد نے تجویز کی ہے کہ سگریٹ کی صنعت پر ترک تمباکو نوشی کیلئے حکومت کے اقدامات کو کامیاب بنانے کیلئے خصوصی ٹیکس لگانے یا لائسنس فیس عائد کرنے کی حمایت کی ہے اور 63 فیصد نے سگریٹ کی فروخت کی ممانعت کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی حمایت کی ہے۔ آل پارٹی پارلیمانی گرو پ کے چیئرمین بوب بلیک مین کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں 2030 تک برطانیہ کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے عزم کی تکمیل کی راہ ہموار کردی ہے لیکن فنڈز فراہم کئے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔Asthma یوکے اوربرٹش لنگ فائونڈیشن کے امور خارجہ کے ڈائریکٹر ایلیسن کک کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سانس کے مرض میں ہونے والی 35 فیصدہلاکتوں کا سبب تمباکو نوشی ہوتا ہے۔ اب بھی پھیپھڑوں کی بیماریوں، جن میں پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہے، کا بڑا سبب تمباکو نوشی ہے۔

یورپ سے سے مزید