• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈیٹ لائن لندن… آصف ڈار
ابھی دو تین دہائیاں قبل تک یورپ اور دوسرے مغربی ممالک میں تارکین وطن کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور انہیں اکثر اوقات مقامی کمیونٹیز کے مقابلے میں ہر شعبہ زندگی میں رعایتیں دی جاتی رہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان ممالک میں قابل مثال لسانی و نسلی تعلقات قائم رہے ہیں اور ان معاشروں میں نفرت اور اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ تاہم اب چند دہائیوں سے مغرب میں بسنے والے تارکین وطن خصوصاً پاکستانیوں اور مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ دائیں بازو کے انتہا پسند یہ تصور کرتے ہیں کہ تارکین وطن نے ان کی ملازمتیں اور دوسرے حقوق چھین لئے ہیں چنانچہ انہیں ہر تارک وطن پاکستان کا مسلم نظر آتا ہے۔ اس لئے ان کے اندر ان کے خلاف لاوا پکتا رہتا ہے جو کبھی نیوزی لینڈ میں مسجد پر فائرنگ کے واقعہ کی صورت میں اور کبھی کینیڈا میں پاکستانی خاندان پر گاڑی چڑھانے جیسے گھنائونے واقعات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگرچہ سوائے ایک آدھ کے مغربی حکومتیں اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے سخت خلاف ہیں مگر ان حکومتوں نے اسلاموفوبیا کو ختم کرنے کے لئے نہ قانون سازی کی ہے اور نہ ہی کوئی ایسی بھرپور مہم چلائی ہے جس سے مغرب میں رہنے والے پاکستانی اور مسلمان خود کو ماضی کی طرح محفوظ تصور کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کینیڈا میں ایک ہی پاکستانی خاندان کی تین نسلوں کو گاڑی کے نیچے کچل دیا گیا۔ اس واقعہ کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے۔ خود کینیڈین وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران اس پر ساری کینیڈین قوم کی تشویش کا اظہار کیا تاہم کینیڈا کے تارکین وطن ان سے اور دوسرے مغربی لیڈروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کا سدباب کرنے کے لئے نہ صرف قانون سازی کریں بلکہ ایک بھرپور مہم کے ذریعے دائیں بازو کے انتہاپسندوں کو آئندہ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہونے سے روکیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ اگرچہ یہ واقعہ کینیڈا میں ہوا ہے مگر اس وقت برطانیہ سمیت تمام یورپ اور مغربی ممالک میں بسنے والے پاکستانی اور دوسرے ایشیائی خاندان سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ کوئی بھی ٹین ایجر کسی خاندان کو اپنے گھنائونے عزائم کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ کینیڈا میں 20 سالہ نوجوان پر محض قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے حالانکہ اس طرح کے ملزموں کو عبرتناک سزا دینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کوئی نسل پرست اس طرح کا کام کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک کو بھی مغربی ممالک کے ساتھ اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے حوالے سے مذاکرات کرنے چا ہئیں اور ان ممالک کو توہین اسلام پر سخت قانون سازی کے لئے دبائو ڈالنا چاہئے تاکہ کوئی بھی نوجوان تن تنہا اٹھ کر کوئی ایسا کام نہ کردے جس سے فرانس جیسی صورتحال پیدا ہو جائے۔
یورپ سے سے مزید