• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
ایران میں آئندہ ہفتے 18 جون کو الیکشن ہونے جارہے ہیں ۔ ہمارے ہاں بہت سے لوگ اپنی روزمرہ کی گفتگو مین اکثر خمینی کے انقلاب کی مثالیں دیتے ہیں اور پاکستان کو بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنے کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔اس قسم کے خونی انقلاب کو مسائل کا اصلی حل سمجھتے ہیں جس میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کو پکڑ پکڑ کر روزانہ تختۂ دار پر لٹکایا جاتا ہے۔حتیٰ کہ شاہ ایران کی مخالفت کرنے والے اپنے اتحادیوں کو بھی باری باری پھانسیوں کے ذریعے ختم کردیا گیا یا وہ ملک چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ آج ایران اظہارِ رائے کی آزادی میں دنیا بھر میں نچلی ترین سطح پر ہے۔ اس جمہوریت کا جائزہ لیتے ہیں اس وقت وہاں سات صدارتی امیدارمیدان میں ہیں ۔ سب کے سب کنزرویٹو سوچ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہاں مجموعی طور پر کل 592 امیدواروں نے صدارتی الیکشن کے لیے درخواستیں دیں جن میں سے صرف سات کی اہلیت منظور ہوئی۔ یہ منظوری گارڈین کونسل دیتی ہے۔ یہ گارڈین کونسل سپریم لیڈر آیت اللہ خا منہ ای کی جانب سے 12 قانونی ماہرین پر مشتمل کونسل ہے جس میں سے چھے ارکان تو براہ راست سپریم لیڈر کے نام زد کردہ ہوتے ہیں اور دوسرے چھے عدلیہ کے چیف کی جانب سے نام زد ہوتے ہیں ۔ عدلیہ کا چیف بھی سپریم لیڈر ہی منتخب کرتا ہے۔ لیکن وہ چھے افراد پر پارلیمنٹ کی منظوری بھی لیتے ہیں ۔اس گارڈین کونسل کو پارلیمنٹ قانون سازی پرویٹو کا حق حاصل ہے ۔ اس طرح اصل طاقت کا مرکز صدر نہیں بلکہ سپریم لیڈر ہی ہوتا ہے اور صدر کے اختیارات خاصے کنڑولڈ ہیں ۔ اس وقت آیت اللہ نہ صرف اسلامک ریپبلک کی پالیسیوں کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ تمام سیکورٹی سروسز بھی انہی کے ماتحت ہیں۔ صدرتو بجٹ بنانے کے علاوہ ایک علامتی جمہوری چہرہ ہی ہوتا ہے۔ گو کہ سپریم لیڈر کی مشاورتی کونسل میں بھی شامل ہوتا ہے۔ آ ئندہ ہفتے ہونے واے انتخابات میں ان 7 امیدواروں میں ابراہیم رئیسی کو سب سے آگے تصور کیا جارہا جو کہ اس وقت عدلیہ کے سربراہ بھی ہیں ۔انہیں سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے زیادہ سخت لائن لینے والا مانا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر سعید جلیل کو سمجھا جارہا ہےجو کہ احمدی نژاد کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ تھے۔محسن رضعی بھی مضبوط امیدوار ہیں ۔انہیں شیعہ روایت کا بنیاد پرست سمجھا جاتا ہے جو ایرا ن کی اسلامی انقلابی گارڈ زکے چیف رہ چکے ہیں۔ ان پر 1980میں سیاسی قیدیوں کو سب سے زیادہ موت کے گھاٹ اتارنے کا الزام بھی ہے۔ ان سات امیدواروں میں سے صرف ایک امیدوار ہے جو کہ محسن مہر علی زادہ ہے جسے ذرا معتدل یا موڈریٹ سمجھا جاتا ہے۔لیکن اتنے ایک سے بڑھ کر ایک ہارڈ لائنرز کے سامنے اس کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہے۔ یہ 2005 میں احمدی نژاد کے خلا ف بھی الیکشن لڑ چکا ہے اور صرف 4 فیصد ووٹ لیے تھے ۔ تجزیہ نگار ان انتخابات میں بہت کم ووٹ پڑنے کا عندیہ دے رہے ہیں جس کی وجہ خراب اقتصادی صورت حال بتائی جارہی ہے۔ جب کہ کوئی بھی امیدوار موجود ہاسٹیٹس کو کو توڑنے کا نہ اہل ہے نہ دعوے دار۔ اس وقت ایران میں بیروزگاری انتہاپر ہے عوام کی قوت خرید میں بہت کمی واقع ہوچکی ہے اور کسی بھی قسم کی بے چینی کا اظہار اسلامی انقلابی گارڈ بہت سختی سے کچل رہے ہیں ۔ یہ اسلامی انقلابی گارڈ ملک کی اسلامی سمت کو درست رکھنے اور شریعت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوںسے سختی سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس ادارے نے عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں Cyber account بنا رکھے ہیں ۔ اس اسلامی انقلابی گارڈ کے پنجے اتنے گڑ چکے ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے یا سوچنے کے باعث غائب ہوجانے یا ملک کو چھوڑنےکے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ خواتین کو اسلامی شعار کے مطابق رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مختلف چوکوں میں اخلاقی گارڈ بھی موجود ہوتی ہے جو زیادہ میک اپ کرکے باہر نکلنے والی خواتین کو نہ صرف روکتے ہیں بلکہ موقع پر ہی جرمانہ اور سزا کے لیے گرفتار بھی کرسکتے ہیں اس لیےعورتیں زیادہ تر باہر نکلنے سے گھبرا تی ہیں۔ ملازمتوں میں مردو کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا مکمل طور پر حکومتی کنٹرول میں ہے۔ دوسرے کسی آزاد مین میڈیا کو حکومتی پالیسی کے برعکس قطعی لب کشائی کی اجازت نہیں ہے۔ بالکل اسی طرز پر حکومتِ پاکستان بھی پرنٹ، ا لیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون سازی کررہی ہے۔ اس موضوع پر ہم آئندہ بات کریں گے۔ ایران میں اس وقت مذہبی لارڈ لائنزز کو آگے آتا دیکھ رہے ہیں۔ جب کہ لبرل اور جمہوری قوتوں کو marginaliseکیا جاچکا ہے۔ ایران میں صدارتی نظام کے باجود صدر کے اختیارات خاصے کنڑولڈ ہیں۔ سپریم لیڈر یا روحانی پیشوا ہی اصل میں اہم فیصلے کرتا ہے۔ البتہ موجودہ انتخاب صدارتی کے علاہ سپریم لیڈر کی جانشینی کے حل کے لیے بھی اہم ہے ۔ اس وقت سپریم لیڈر اور صدر خامنہ ای کا دوسرا بیٹا مجتبیٰ خامنہ ای اس کا اہم ترین امیدوار ہے۔ دوسرا امیدوار ابراہیم رئیسی ہے جسے دبائو کے ذریعےالیکشن کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ جس کا آئندہ ہفتے نتیجہ نکل آئے گا۔ اس تما م تر صورت حال سے یہ سمجھنے میں ذرا مشکل نہیں ہورہی کہ افغانستان ، ایران اور پاکستان مذہبی انتہا پسند خطے کی تشکیل کررہے ۔ ایران رضا شاہ پہلوی کے بعد ایک جمہوی ملک بننے کی بجائے مذہبی انتہا پسند ملک بن گیا ہے جس کی ابتدا آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں آنے والے انقلاب سے ہوتی ہے۔اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر کوئی اقتدار میں آنے لیے مذہب کا استعمال کرتاہے تو بات وہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔پھر واپس جمہوریت کی طرف ایک خطے پر گڑھی ہوئی ہے۔
یورپ سے سے مزید