• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیرِ خزانہ شوکت ترین کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

وفاقی وزیرِخزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ موبائل کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا اور ایس ایم ایس پر ٹیکس لگانے کی وزیرِ اعظم عمران خان اور کابینہ نے مخالفت کی، جس کی وجہ سے اب موبائل کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا اور ایس ایم ایس پر ٹیکس عائد نہیں ہو گا۔

وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ روز پیش کیئے گئے بجٹ 22-2021ء کے حوالے سے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی، ان کے ہمراہ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار اور مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد بھی تھے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی موبائل فون کالز، ایس ایم ایس، ڈیٹا کے ریٹ میں کوئی اضافہ نہیں کر رہے، موبائل فون کالز، ایس ایم ایس، ڈیٹا کے ریٹ میں اضافے کی وزیرِ اعظم نے منظوری بھی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں غریبوں کے ساتھ کوئی سیاست نہیں کرنی، اخوت اور احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کو 3 لاکھ روپے تک کےقرضے دیں گے، 5 لاکھ روپے کا بغیر سود قرض 3 سال کے لیے دیا جائے گا، ملک کے ذرائع اور وسائل بینکوں کے پاس ہوتے ہیں حکومت کے پاس نہیں، کمرشل بینک کبھی عام آدمی اور کاشتکار کے قریب نہیں ہوتے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں کچھ سوجھ بوجھ دی ہے، اخوت نے ڈیڑھ سو ارب کے چھوٹے قرض دیئے جن کی ریکوری 99 فیصد ہے، ہم نے سوچا کہ ان کے ذریعے قرضے دیں، آر ایس پی اور اخوت کو گارنٹی دی ہے، 4 ملین نچلے طبقے سے پہلے رابطہ کریں گے۔

شوکت ترین نے کہا کہ کاشت کار کو ہر فصل کا ڈیڑھ لاکھ روپیہ دیں گے، شہری علاقوں میں خاندان کے 1 شخص کو 5 لاکھ کا قرض دیں گے تاکہ وہ کاروبار کر لے، اس بجٹ میں اللّٰہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ ہم غریبوں کے لیے وسیلہ بنیں، اب معاشی بہتری کے اثرات غریب تک پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ غریب کسان کو 5 لاکھ روپے تک بلا سود قرضہ دیں گے، ہر غریب گھرانے کو چھت فراہم کی جائے گی، صحت کارڈ ہیلتھ انشورنس ہے، ہر جگہ جو ہنر درکار ہے وہاں وہ ہنر سکھائیں گے، ہمارا چیلنج ہے کہ گروتھ کو مستحکم کرنا ہے، ہم نے کل گروتھ بجٹ پیش کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ غریب کسان کو 5 لاکھ روپے تک قرضہ دیں گے، اپنی چھت کے لیے 20 لاکھ روپے تک قرضہ دیں گے، برآمدات بڑھا کر ہمیں ڈالر کمانے ہیں، ہم نے معاشی ترقی والا بجٹ پیش کیا، ملک میں 70 سال سے غریب کو قرضہ نہیں ملا، تربیت نہیں ملی، ملک میں 70 سال سے چھوٹے کاشت کار کو کچھ نہیں ملا۔

ان کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں سے چھوٹے فلاحی بینکوں کو قرضے دیں گے، پہلے مرحلے میں 40 لاکھ لوگوں کو روزگار دیں گے، بینکوں کو چھوٹے کاشت کار اور غریبوں کی لسٹیں بھی دیں گے، غریب گھرانوں میں ایک شخص کو تربیت دیں گے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال 500 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کریں گے، بجلی اور گیس کے بلوں کے ذریعے نان فائلر تک پہنچ جائیں گے، بڑے ریٹیلرز کی 1500 ارب کی سیل ہے، تمام بڑے اسٹورز پر سیلز ٹیکس لگا دینا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ملک میں لاکھوں ریٹیلرز کچی رسیدوں پر کام کر رہے ہیں، گاہک دکاندار سے پکی رسید وصول کرے، پکی رسید پر ایک لاکھ روپے تک کے انعامات دیئے جائیں گے، ترکی اور باقی ملکوں میں ایسی کامیاب اسکیمیں آئیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مختلف شعبوں کو ٹیکس میں رعایت فراہم کی، ملک بھر میں صحت کارڈ فراہم کریں گے، 8 سے 10 سال میں ترقی کی شرح 20 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے، درآمدات اور برآمدات کے تناسب کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول کیلئے مستقبل کو مدِ نظر رکھ کر فیصلے کیئے، فنانشل سیکٹر کو بھی ہم نے ٹھیک کرنا ہے، آٹو انڈسٹری میں انوویشن لا رہے ہیں، پاور سیکٹر میں بہتری کیلئے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری پوزیشن کمزور ہو تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، برآمدات میں 20 فیصد گروتھ کی ضرورت ہے، ہمارے سیونگ ریٹ 15 فیصد اور سرمایہ کاری ریٹ 16 فیصد تک ہیں، ہمارے پاس ریونیو نہیں ہے تو گروتھ کہاں سے ہوگی، ریونیو کو بالحاظ جی ڈی پی 20 فیصد تک لے جانا ہوگا۔

شوکت ترین نے مزید کہا کہ رواں مالی سال 4700 ارب کی محصولات جمع کرنے کا ہدف ایف بی آر کو دیا ہے، اگلے مالی سال کیلئے ہدف 5800 ارب روپے کیا ہے، لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ 5800 ارب روپے کیسے جمع کیا جائے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ یہی مذاکرات ہو رہے ہیں کہ ٹیکس پر ٹیکس نہیں لگے گا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بڑے تاجروں کو پوائنٹ آف سیل کے تحت نظام میں لائیں گے، تمباکو سمیت 4 ایریاز پر ٹریک اینڈ ٹریس کا نظام لا رہے ہیں، رواں مالی سال انفورسمنٹ کے ذریعے 160 ارب روپے اکھٹے کیئے، ہول سیل مارکیٹ ہمیں بڑھانا ہو گی، مارکیٹ ریٹ اور دیگر مارکیٹ معاملات کو ٹھیک کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک زرعی اجناس نہیں بڑھائیں گے، مہنگائی کم نہیں ہو گی، کسانوں کو پیاز کے اچھے پیسے دینے ہیں، یہ حکومت کی نالائقی ہے کہ کسان کو پیاز کے 4 روپے ملتے ہیں، صارف کو 40 روپے دینا پڑتے ہیں، مڈل مین فصلوں پر 500 گنا منافع کھا رہا ہے، اب ڈپٹی کمشنر کو یہ سلسلہ روکنا ہو گا، ہمارے کسان کو اتنا مضبوط کریں کہ وہ سیدھا ہول سیل مارکیٹ میں جائے، ہمارے ریٹیل کے کسٹمر کا بھی استحصال ہو رہا ہے، ایک ایسا نظام لانا پڑے گا جہاں کسان کا استحصال نہ ہو۔

شوکت ترین نے کہا کہ ڈپٹی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو بتائیں گے کہ یہاں کوتاہی ہو رہی ہے قیمتوں میں، انتظامیہ کے ریفارمز بھی لازمی ہے، ان شاء اللّٰہ آپ دیکھیں گے کہ اصلاحات ہوں گی، ان شاء اللّٰہ ان کو ٹھیک کریں گے، جو ٹھیک نہیں ہو گا، انہیں ٹھیک کر دیں گے، میں خود ان لوگوں میں سے ہوں جو تنقید کرتے رہے ہیں، ان شاء اللّٰہ چیزیں ٹھیک ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے انکم ٹیکس پر 5 بلین بھی نہیں بڑھایا، بجٹ میں غریب عوام کا احساس کیا گیا، بجٹ میں شرح نمو 3 اعشاریہ 94 فیصد مقرر کرنے کا ہدف ہے، اپریل 2021ء میں 800 ملین ڈالر سر پلس تھا، ترقی پذیر ممالک میں بالواسطہ ٹیکسز بڑھتے ہیں، ہم جی ایس ٹی کو نیچے لا رہے ہیں۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ایکسپورٹ کو بڑھا کر جی ڈی پی کا 20 فیصد کرنا ہو گا، چین میں 70 سے 80 فیصد ان ڈائرکٹ ٹیکسز لگائے گئے، سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے صحت سہولت کارڈ کا اجراء کیا، چھوٹے قرض داروں سے 99 فیصد ریکوری کا تجربہ کر چکے، گروتھ نہ ہونے کے سبب ریونیو نہیں ملتا، ریونیو کو 10 فیصد سے بڑھانا ہوگا، بجٹ میں مختلف شعبوں کو ٹیکس میں رعایت فراہم کی، بھاری یوٹیلیٹی بلز دینے والے جو ٹیکس نہیں دے رہے ان سے لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت جاری ہے، ہماری منزل ایک ہے، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم مستحکم گروتھ کی جانب جائیں، آئی ایم ایف سے ہم نکلے نہیں ہیں، ان کے ساتھ ڈسکشن جاری ہے، ستمبر تک ہم اس ریویو کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، آئی ایم ایف 2 باتیں کر رہا ہے کہ ٹیرف بڑھا دیں اور ٹیکسز بڑھا دیں، ٹیرف کی بجائے ہم کیسپیسٹی یوٹیلائزیشن زیادہ کریں گے، ہم عام آدمی پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، جو لوگ انکم ٹیکس دے رہے ہیں ان پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، وزیرِ اعظم عمران خان قطعاً عام آدمی پر بوجھ ڈالنے کے حامی نہیں۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ فنانشل سیکٹر کو ٹھیک کرنا ہو گا، ہمارا ہر کام پروگریسیو طریقے سے ہو گا، پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کریں گے، ڈیولپنگ ملکوں میں ان ڈائریکٹر ٹیکس بڑھتے ہیں، چین میں 70، 80 فیصد شروع میں ان ڈائریکٹ ٹیکسز بڑھے تھے، ہم انٹرنیشنل مارکیٹ میں بھی پیسہ بڑھا سکتے ہیں، پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو 20 اور 16 ارب روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے 66 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، سندھ کو 12 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے گی، نئی مردم شماری کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں، کوویڈ کے لیے 100 ارب روپے مختص کیئے جا رہے ہیں، ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

شوکت ترین نے بتایا کہ ایم ایل ون منصوبہ 3 مراحل میں مکمل ہو گا، حکومت نے ایف بی آر میں خصوصی سیل بنایا ہے، ایف بی آر کا خصوصی سیل تاجروں کے مسائل حل کرے گا، ہماری سعودی عرب کے ساتھ انڈراسٹینڈنگ ہوگئی ہے، سعودی عرب سے ادھار تیل میں رعایت لیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ شبر زیدی کو انتہائی سخت ٹارگٹ دیا گیا اور وہ فلاپ ہونا ہی تھا، حکومت ٹیکس نظام کو مزید سادہ بنانے کی خواہاں ہے، ہم ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونےوالوں کے خلاف متحرک رہیں گے، مقامی طور پر بنائی جانے والی 800 سی سی گاڑیوں کے سیلز ٹیکس میں کمی کی جا رہی ہے، 800 سی سی گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ دی جا رہی ہے، گراس ریونیو کا تخمینہ 7 ہزار 909 ارب روپے ہے، 850 سی سی گاڑیاں بھی سستی ہونا شروع ہو جائیں گی، ہم منی بجٹ نہیں لائیں گے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ غریب لوگ علاج کے لیے زیور تک بیچ دیتے ہیں، حکومتی اسپتالوں کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے، بجٹ میں زراعت اور انڈسٹری سمیت مختلف شعبوں کو ٹیکس میں رعایت و مراعات دی گئی ہیں، پائیدار ترقی کے حصول کے لیے مستقبل کو مدِ نظر رکھ کر فیصلے کیئے، ریونیو کو 20 فیصد تک لے جانے سے استحکام آئے گا، مستحکم اور پائیدار ترقی کے لیے پیداوار بڑھانا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اہم اشیاء برآمد کی جا رہی ہیں، ڈالر نہیں کمائیں گے تو بوجھ بڑھتا چلا جائے گا، مقامی صنعت مضبوط ہو گی تو ایکسپورٹ کم ہو گی، ہاؤسنگ انڈسٹری نے ابھی چلنا شروع کیا ہے، مارشل لاء میں بھی ڈنڈے سے کام چلانے کی کوشش کی گئی لیکن کچھ نہیں ہوا، بینکس رقم دیں گے تو ریکوری بھی ہو جائے گی، ہاؤسنگ کے شعبے میں چالیس انڈسٹریز پھلتی پھولتی ہیں، پاور سیکٹر کی سبسڈیز میں اضافہ کیا گیا ہے۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ لائن لاسز کم اور ریکوری زیادہ کی جائے گی، ٹیکسٹائل سمیت اہم شعبوں پر توجہ دی گئی، میں حبیب بینک میں کروڑ پتی اسکیم لایا تھا، 3 مہینوں میں 40 ارب کے ڈپازٹس بڑھے تھے، ٹیکس دینے والوں کو مزید سہولتیں فراہم کریں گے، حکومت اس سلسلے میں سبسڈی دے گی، ویلیو ایڈ ڈٹیکسٹائل پر کسٹم ڈیوٹی کو ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کام کرنے اور نہ کرنے والوں میں واضح فرق ہونا چاہیئے، جو کچھ میرے ساتھ 3 ہفتے پہلے ہوا مجھے چلے جانا چاہیئے تھا، میں نے کہا کہ یہ خود سے فرض نہ کریں کہ ہم فیل ہو گئے، پہلے اکانومی کی گروتھ کم ہو رہی تھی، 2019ء میں گروتھ 2 اعشاریہ 1 پر آگئی تھی، کورونا وائرس کی وباء میں ہماری گروتھ منفی ہو گئی تھی، کورونا میں منفی پوائنٹ 5 گروتھ ہوگئی تھی۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ کچھ صحافی اکٹھے ہو کر ایف بی آر کو ویزٹ کر لیں، 4800 یوٹیلٹی اسٹورز کو 10 ہزار پر لے کر جائیں گے، اس سال اور اگلے سال پرفارمنس دیکھ لیجئے گا، بہتری آئے گی، ہم فوڈ خسارے کا ملک بن چکے ہیں، گندم اور دالوں کی برآمد پر کسی نے توجہ نہیں دی، زراعت، زراعت اور زراعت پر توجہ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا بڑا سیکٹرا ایکسپورٹس میں اضافہ ہے، ایکسپورٹس کو بڑھانے کیلئے اسپیشل اکنامک زون کو ٹیکس چھوٹ دی ہے، آئی ٹی سیکٹر سے ٹیکسز کی چھوٹ میں بڑا فیصلہ کیا گیا، آئی ٹی سیکٹر کیلئے ڈیوٹیز کو تقریباً ختم کر دیا ہے، صنعت مینو فیکچرنگ، خام مال سب کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا، ہاؤسنگ کا سیکٹر تیسری بڑی صنعت ہے، جس پر 74 سالوں میں کچھ نہیں ہوا، ہاؤسنگ سیکٹر کیلئے بینکوں سے رقم دلائیں گے، گھروں کی تعمیر کیلئے سود کی شرح میں کم از کم کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ قرضوں کی ادائیگی میں سود کی شرح پر کمی بہت ضروری ہے، ہاؤسنگ سیکٹر میں 40 سے 42 مزید سیکٹرز آتے ہیں، سیمنٹ سریے سے لے کر بہت سے سیکٹرز ہیں جو آگے بڑھیں گے، توانائی کا شعبہ انتہائی اہم ہے، اس بار توانائی کیلئے جتنا مانگا گیا ہم نے دے دیا، توانائی کے شعبے میں بہتری کیلئے اقدامات بہت ضروری ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کیپیسٹی کی مد میں ادائیگیوں کو کنٹرول کیا جائے گا، غریب کیلئے ٹیرف بڑھا دو یہ تو ہر بندے کے پاس آپشن ہے، ہم غریب کیلئے ٹیرف نہیں بڑھائیں گے یہ فیصلہ ہے، توانائی کے شعبے میں فنانشل استحکام لانا ہے، چکن فیڈز پر ڈیوٹیز اور سیلز ٹیکس ختم کر دیئے، پی ڈی ایل بڑھانے سے کوشش ہو گی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت نہ بڑھے، پر امید ہیں کہ مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت نہیں بڑھے گی۔

شوکت ترین نے کہا کہ پنشنز ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں، امریکا میں بڑی بڑی کارپوریشنز اس معاملے پر فیل ہوگئی تھیں، میں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ میں اس کی ذمے داری لیتا ہوں، اس میں ہم ریفارم کر رہے ہیں، اگلے 3 سے 6 مہینوں میں سب اس میں ریفارمز کو دیکھیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکلر ڈیبٹ اس لیے ہے کہ کہا گیا کہ ملک بھر میں ایک پرائس پر بجلی بیچیں گے، 2008ء سے سرکلر ڈیبٹ شروع ہوا ہے، 2013ء میں سرکلر ڈیبٹ زیرو ہوگیا اور پھر بڑھنا شروع ہو گیا، شوگر ڈرنکس پر ٹیکس کو 30 فیصد کر دیا گیا ہے، پچھلی مرتبہ ٹوبیکو انڈسٹری پر ہاتھ ہلکا رکھا، اس دفعہ 700 ارب روپے انکریمنٹل صوبوں کو جائے گا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہمارے لوگ ہمارا بہترین اثاثہ ہیں، ہماری ہیومن ریسورس کسی سے کم نہیں ہیں، ایک طریقہ ہے کہ آٹے پر دبا کر سبسڈی دیں، دوسرا طریقہ ہے کہ انکم بڑھائی جائے، نچلے طبقے کے گھرانے میں ایک فرد کو چاہیئے کہ کوئی ہنر سیکھ کر نوکری کرے، بہت سی چیزوں پر ہم نے سیلز ٹیکس معاف کیئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کیلئے ایمنسٹی اسکیم کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع ہو سکتی ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مدت میں توسیع پر بات چیت ہو رہی ہے، تعمیراتی شعبے کیلئےایمنسٹی میں سیکڑوں منصوبے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، ہم نے کل گروتھ بجٹ پیش کیا ہے، پاکستان کے غریب آدمی کو اب بہتری کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، معاشی بہتری کے اچھے اثرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بینکوں کے پاس وسائل موجود ہیں، 600 سے 700 ارب روپے قرض کی مد میں دیئے جائیں گے، بینکوں کو سمجھ بوجھ نہیں کہ کیسے ڈیل کرنا ہے، 6 سال کیلئے سود سے پاک قرض دیں گے، ہر گھر کو 20 لاکھ روپے مالیت کا گھر دیں گے، ٹریکٹر وغیرہ کی خریداری کیلئے 2 لاکھ کا قرضہ دیں گے، ہم برآمدات سے ڈالر کمائیں گے، ہماری برآمدات جی ڈی پی کا صرف 8 فیصد ہے، اگلے 8 سے 10 سال میں اسے 20 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے، بنگلا دیش اور بھارت ہم سے آگے ہیں۔

شوکت ترین کا کہنا ہے کہ سیونگ ریٹ بڑھا کر سرمایہ کاری کرنا پڑے گی، سیونگ اور سرمایہ کاری کا ریٹ 15 سے 16 فیصد ہے، گروتھ کے راستے میں پہلا مسئلہ ریوینیو کی قلت ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 20 فیصد تک لے جانا ہو گا، موجودہ مالی سال 4700 ارب روپے ٹیکس جمع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے خان صاحب کہتے ہیں، اس میں گھبرانے کی ضرورت نہیں، اگلے سال 500 ارب کے پالیسی ایکشن لے رہے ہیں، بجلی اور ٹیلی فون بل، بینک گوشواروں سمیت لوگوں کی سب معلومات ہیں، ہم ڈیٹا کی بنیاد پر لوگوں سے ٹیکس لیں گے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے یہ بھی بتایا کہ اس سال ٹیکس گوشواروں میں 3 لاکھ سے زیادہ اضافہ ہوا، اگلے سال 10 لاکھ سے زیادہ مزید افراد کو شامل کریں گے، 90 ارب روپے تو یہاں سے ہی حاصل ہو جائیں گے، بڑے بڑے ری ٹیلرز کی سیل 1500 ارب روپے کی ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید