• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جارہا ہے؟

کیا نیٹو کا ایجنڈا 2030 روس اور چین کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج یورپین دارالحکومت برسلز میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو سیکٹری جنرل کی ڈور سٹیپ سٹیٹمنٹ سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔

اس حوالے سے اپنی گفتگو اور بعد ازاں مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ روس کے ساتھ اس کے تعلقات سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سب سے نچلی سطح پر ہیں اور یہ روس کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے ہے۔

روس کے اپنے پڑوسیوں یوکرین اور جارجیا سے تعلقات ٹھیک نہیں، وہ سائبر اور ہائبرڈ حملے اور اتحادیوں کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے، یہ وہ چیز ہے جس نے ہمارے اور روس کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے، ہم اسے دیکھ رہے اور اس کے ساتھ ہی اپنے آپ کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم علاقے میں اپنی فوجی موجودگی اور اپنے دفاعی اخراجات میں 2014 سے مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، یہ ہمارے 2030 انیشیٹیو کا اہم حصہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم روس کے ساتھ بات چیت بھی جاری رکھیں گے کیونکہ بات چیت کمزوری کا اظہار نہیں بلکہ طاقت کا اظہار ہے، جب تک ہم اکٹھے اور مضبوط ہیں، ہم روس کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب چین کے بارے میں نیٹو سیکٹری جنرل نے کہا کہ وہ ہمارے دروازے پر آچکا ہے، ہم اسے سائبر اسپیس، افریقا اور سرد علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ ہمارے انفرااسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین نئے نیوکلیئر اور جدید ہتھیار بنارہا ہے، اس کا بھی رویہ جنوبی چین سمندر میں زبردستی والا ہے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چین ہماری اقدار کا حصہ نہیں، اس نے ہانگ کانگ میں جمہوری پراسیس پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس کا رویہ اپنی اقلیتوں کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں، وہ نئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دبا رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ برطانیہ میں ہونے والی نیٹو سمٹ سے پہلے ہم نے چین  کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا، ہم نے صرف 18 ماہ قبل چین کے حوالے سے الفاظ ادا کرنا شروع کیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ ہم چین کے ساتھ نئی سرد جنگ میں داخل نہیں ہو رہے اور نہ ہی چین ہمارا دشمن ہے۔

ہم ایک اتحاد کے طور پر اس خطرے کو ایڈریس کر رہے ہیں جو چین کی طرف سے آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو اتحاد نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ جیسے جیسے دنیا تبدیل ہوتی ہے، ہم بھی تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں سوال جواب سے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اس نیٹو سمٹ میں شریک تمام رہنماؤں کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اتحاد کے اہم موقع پر مل رہے ہیں اور آج ہم اپنے تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کریں گے۔

انہوں نے کہا ہمیں خطرات سے نمٹنے کیلئے اتحاد کی حیثیت سے انہیں مخاطب بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی مذکورہ خطرات کے اس پس منظر میں نیٹو رہنما آج ایک متفقہ مستقبل کے متنظر ایجنڈے 2030 پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے اجتماعی دفاع کو تقویت دینے اور اپنی لچک اور تیکنیک کو بہتر کرنے کیلئے نیٹو کی تاریخ میں پہلی بار آب و ہوا کو بھی سلامتی کا حصہ بنایا گیا ہے، اس کیلئے ہمیں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یورپین اتحادیوں اور کینیڈا نے گذشتہ 7 سال میں دفاع کےلئے 260 ارب ڈالر کا مزید اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہماری درخواست پر نیٹو رہنما دفاع کیلئے مزید سرمایہ کاری پر راضی ہوجائیں گے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید