• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذرائع ابلاغ کا کردار اور ذمہ داریاں (اسلامی تعلیمات کی روشنی میں)

مولانا نعمان نعیم

(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)

ارشادِ ربّانی ہے:اے پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے، وہ لوگوں تک پہنچا دو۔(سورۃالمائدہ)فرمایا گیا:آپﷺ دعوت دیجیے، اپنے رب کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ۔(سورۂ نحل)سورۂ آل عمران میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کےلیے وجود میں لائی گئی ہے ۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہو ‘‘۔

دین اسلام پوری دنیا اور تمام نوع انسانی کے لیے ہے، اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق و مالک ہے اور اس کائنات کا ذرہ ذرہ ایک ذات کی گواہی دیتا ہے۔ اس دین کو جو قبول کرتا ہے اس کے ذمہ اس پیغام حق کو پہنچانا دوسروں تک بھی واجب ہے۔اسلام چوں کہ رہتی دنیا تک لیے ایک جامع دین بن کر آیا ہے، اس لیے اس میں ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی ضابطہ اور قانون موجود ہے۔اسلام کے جس آفاقی پیغام کے ابلاغ وترسیل کا امت مسلمہ کو حکم دیا گیا ہے، کیا اس کی وسیع اور عالمی پیمانے پردعوت اور اشاعت، سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں ذرائع ابلاغ کے سہارے کے بغیر ممکن ہے۔ دنیا میں نت نئی ایجادات ،روزمرہ کا معمول بن گیا ہے جس کے نتیجے میں زندگی کے تمام شعبوں میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آج کے دور میں ذرائع ابلاغ کو ہر امیرغریب کے گھر پہنچا دیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ جب نبی بنائے گئے ، تو آپ ﷺنے اس کے اعلان اور ایمان کی دعوتِ عام کرنےکے لئے خاص طور پر صفا کی چوٹی کا انتخاب فرمایا ، یہ محض کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ، بلکہ اہل مکہ کا طریقہ تھا ، کہ جب بھی کسی اہم بات کی خبر دینی ہوتی ، صفا کی چوٹیوں پر چڑھ کر آواز لگاتے،یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی کہ کوئی اہم بات پیش آئی ہے ، جس سے لوگوں کو باخبر کرنا مقصود ہے ، اس لئے تمام اہل مکہ اہتمام کے ساتھ جمع ہوجاتے اور گوش برآواز ہوکر اس اعلان کو سنتے ، گویا یہ اس زمانے میں مکہ کا سب سے بڑا ذریعۂ ابلاغ تھا، جس طرح آج کسی خبر کو پہنچانے کے لئے ذرائع ابلاغ کا سہارا لیا جاتا ہے ، اسی طرح اس دور میں صفا کی پہاڑی سے اعلان کئے جاتے تھے ۔

سیرت طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺحج کے موقع پر بھی دعوتِ اسلام کا کام کیا کرتے تھے، حالاںکہ اس زمانے میں حج میں بہت سی منکرات اور برائیاں اہل مکہ نے اپنی طرف سے شامل کرلی تھیں ، یہاں تک کہ بعض لوگ احترام کے نام پر کعبہ کی بے احترامی کرتے تھے ، منیٰ اور عرفات میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کے بجائے لوگ اپنے آباء و اجداد کی تعریف کے نغمے گاتے اور اشعار پڑھتے تھے ، عکاظ کا میلہ تو خالص تجارتی میلہ تھا اور شراب و کباب کی محفلیں آراستہ کی جاتی تھیں جو عیش کوشیوں اور سرمستیوں، بلکہ بدمستیوں کے لوازم میں سے ہیں ، لیکن اس میلے میں بھی آپ ﷺ پہنچتے اور لوگوں تک حق کی دعوت پہنچاتے ، اہل مدینہ حج کے اجتماعات کی ہی برکت سے اسلام کے حلقہ بگوش ہوئے اورپھر ایسے جاں نثار ہوئے کہ تاریخ عالم میں ایسی جاں نثاری اور خودسپردگی کی مثال نہیں ملتی۔ 

ان اجتماعات میں جانا اور وہاں دعوتِ حق پہنچانا اس زمانے کے طاقتورترین اور وسیع الاثر ذرائع ابلاغ سے استفادہ کی بہترین مثال ہے ، اس لئے اپنے عہد کے ذرائع ابلاغ سے فائدہ اُٹھانا اور ان تک رسائی حاصل کرنا صرف مصلحت کا تقاضا نہیں ، بلکہ اسلامی تعلیمات اور رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی ہے ۔

اسلام نے فکر و نظر کی آزادی کے ساتھ ہمیشہ آزادیِ رائے کا احترام کیا ہے اور ہر کس و ناکس کو اپنی بات رکھنے کا فطری حق دیا ہے۔ اسلامی تاریخ اس قسم کے واقعات سے لبریز ہے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے کس درجہ شدت کے ساتھ حریتِ رائے کے تصور کی پرورش کی ہے اور اسے انسانی معاشرے کا لازمی جزو بنانے کی سعی کی ہے۔اسلام نے صرف آزاد مردو خواتین ہی نہیں، بلکہ غلاموں کو بھی اس حق سے محروم نہیں رکھا۔ غزوہٴ اُحد میں جب جلیل القدر صحابہٴ کرامؓ کی یہ رائے تھی کہ کفارِ مکہ سے جنگ کے لیے مدینے سے باہرنکلنا مناسب نہیں ہے اور یہیں رہ کر جنگ کی جائے، لیکن معقول اسباب کی بنیاد پرچند نوجوانوں کی یہ رائے تھی کہ جنگ کے لیے مدینے کی آبادی سے باہر نکلنا زیادہ مناسب ہے۔

اسی طرح غزوہٴ خندق کے موقع پر مدینے سے باہر خندق کھودنے کا فیصلہ آپ ﷺ کا ذاتی عمل نہیں تھا، بلکہ صحابہٴ کرام ؓاور حضرت سلمان فارسیؓ کے باہمی مشورے سے خندق کھودی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ اور حصرت عمرؓجنگی قیدیوں کے قتل اور انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے بارے میں مختلف الرائے تھے۔اسلام میں فکر و نظر کی آزادی کی ہی دین ہے کہ ایک عام آدمی بھی اپنے خلیفہ کا دست و بازو پکڑ سکتا ہےاور جب ایک قبطی نے حضرت عمروبن عاصؓ اور ان کے بیٹے کی شکایت دربارِ خلافت میں پیش کی تھی تو حضرت عمرؓ نے اس غلام کو فوری انصاف دلایا تھا، اس وقت کے حضرت عمرؓکے ارشادت پر مبنی یہ جملہ تو ہر کسی کے ذہنوں میں ہوگا کہ ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہونے والے بچے کو کسی کو غلام بنانے کا حق نہیں۔

اسلام میں قیاس کو چوتھا فقہی اصول قرار دیا گیاہے، فقہاء اور ائمہ کے درمیان مسائل میں اختلافِ اظہار رائے کی آزادی کی ایسی مثال ہے، جس سے دوسرے مذاہب و ادیان محروم ہیں۔معلوم ہواکہ اسلام آزادیِ فکر و نظر کا امین اور نقیب ہے۔ اس میں ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، بشر طیکہ اس کی رائے نصِ صریح سے متصادم نہ ہو۔

اسلام نے ہمیشہ شورائی نظامِ فکر و عمل کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی ہے ، جمہوری نظام میں جہاں ریاست اور ملک کے ہر کس و ناکس کو حکمرانوں کے انتخاب کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے، وہیں شورائی نظام میں یہ تعداد کم ہوجاتی ہے۔ شورائی نظام میں ہر فرد کی شرکت ضروری نہیں، بلکہ صرف اہل الرائے لوگ انتخاب کا قانونی حق رکھتے ہیں۔

اسلام نے فرد کے ساتھ ادارے اور ذرائعِ ابلاغ کو جتنی آزادیاں دی ہیں، ان میں ایک اہم حق احتجاج کا حق بھی ہے۔ ذرائعِ ابلاغ کو جہاں کہیں بھی ظلم اور نا انصافی ملے، اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے اور مظلوموں کی حمایت میں انسانی غیرت اور حمیت کا ثبوت دینا چا ہیے۔ قرآن کریم کی آیت ہے :اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو،اوراللہ (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے(سورۃ النساء)حدیث شریف ہے:ظالم و جابر حکمراں کے سامنے کلمہ حق کہنا اَفضل ترین جہاد ہے۔(ترمذی)

آج کل یہ خاص وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ چند ماہرین کو بلا کر کسی خاص موضوع پرمباحثے اور مذاکرے کراتے ہیں، اس میں موضوعات کی تحدید نہیں ہوتی، اس کا موضوع سیاسی بھی ہوتا ہے اور سماجی بھی، مذہبی بھی ہوتا ہے اور تعلیمی بھی۔ اس قسم کے مباحثوں میں ایک فریق دوسرے فریقِ مخالف کو شکست دینے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے فریقِ مخالف پر جرح و تنقید سے بھی کام لیتا ہے۔ اسلام نے اس قسم کے مباحثے اور مکالمے کی آزادی دی ہے، بشرطیکہ اس میں کسی قسم کے خلافِ شرع امر کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو اور تنقید و جرح تعمیری ہو، تخریبی نہ ہو۔بات وزن دار ہو، دلائل سے مزین ہو، اس سے کسی کے مذہبی جذبات مجروح نہ ہوتے ہوں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے۔اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو،مگر عمدہ طریقے سے‘‘۔( سورۃالعنکبوت:۴۶)آیت میں اگر چہ خطاب یہود سے ہے،لیکن اس کے عموم پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔

اقرباء اور رشتے داروں کے خلاف گواہی دینے کی آزادی بھی ذرائع ابلاغ کو حاصل ہے، جس کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ چاہے وہ اس کے اقربا اور رشتے داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ شریعت کا حدود و تعزیر پر مبنی نظامِ عدل و انصاف کی روشنی کاایک مینارہ ہے، جس میں بادشاہ و رعایا اور امیر و غریب سب برابر ہیں۔ اس نظام میں ہر حق دار ، خواہ وہ ظالم ہو یامظلوم، کے حق کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس نظام میں نہ کسی پر ظلم و زیادتی ہوگی، نہ استحقاق سے زیادہ اسے سزا دی جائے گی۔

ذرائع ابلاغ کو چاہیے کہ وہ کسی خبر سے عوام کو باخبر کرنے اور کسی جرم اور بد عنوانی کا پردہ فاش کرنے میں مصلحت سے کام نہ لیں،کیوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمھارے اپنے خلاف پڑتی ہو، یاوالدین اور قریبی رشتے داروں کے خلاف۔وہ شخص(جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جارہا ہے) چاہے امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں قسم کے لوگوں کا (تم سے)زیادہ خیر خواہ ہے، لہٰذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو۔(سورۃالنساء:۱۳۵)

اسلام نے کسی کی نجی زندگی میں تو مداخلت سے منع کیا ہے، لیکن اگر کسی شخص کی حرکت و عمل سے مفادِ عامہ پر ضرب پڑتی ہو تو ایسے جرم کا پردہ فاش کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم میں کسی کی ٹوہ میں لگنے سے منع کیا گیا ہے،لیکن اگر کسی مشتبہ شخص کے بارے میں معتبر ذرائع سے معلوم ہوجائے کہ وہ کوئی خطرناک کام کرنے جارہا ہے، تو اس کے جرم کو طشت ازبام کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ عوام کی ذہن سازی میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔حمایت و مخالفت کی مختلف شکلیں اس وقت دیکھنے کو ملتی ہیں۔ شریعت نے حمایت ومخالفت کا بھی اصول متعین کردیا ہے۔ کسی سے محبت بھی ہو تو اللہ کے لیے اور کسی سے بغض و عداوت بھی ہو تو اللہ کے لیے۔ حمایت و مخالفت کو سفارش کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ کسی کی سفارش اسی بنیاد پر کی جائے کہ وہ شخص واقعی اس عہدے یا مرتبے کا مستحق ہو۔لیکن ذرائع ابلاغ کو ان امور میں سفارش سے باز رہنا چاہے جن کا تعلق حدودوقصاص سے ہے۔

خلاصہ یہ کہ ذرائع ابلاغ کی مثال چھری کی ہے کہ اس کے ذریعے پھل بھی کاٹا جاسکتا ہے اور کسی کی گردن بھی۔ وہ محتسب کا کردار ادا کرکے کسی کی جان اور عزت و آبرو بھی بچا سکتا ہے اور کسی رہزن کا بھیس بدل کر کسی کی جان اور عزت و آبرو سے کھیل بھی سکتا ہے۔ وہ ظلم وستم اور جبر و تشدد کی حمایت اور بے حیائی اور بد اخلاقی کا پرچار بھی کرسکتا ہے اور اصلاح و تبلیغ کے میدان میں مصلح و مبلغ کا رول بھی ادا کرسکتا ہے۔