کراچی میں موٹر وے ایم 9 پر کاٹھور کے قریب تیز رفتاری کے ساتھ رانگ وے سے آنے والی مسافر بس آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، کئی دیگر گاڑیاں بھی زد میں آئیں جبکہ ایک مسافر وین کی چھت پر بیٹھے مسافر پل سے نیچے جا گرے، حادثے میں 13 افراد جاں بحق اور 6 بچے زخمی ہو گئے۔
حادثہ انصاری پل کے قریب اُس وقت پیش آیا جب ایک تیز رفتار مسافر بس رانگ وے سے سڑک پر آئی اور مخالف سمت سے آنے والے آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔
زور دار تصادم کے نتیجے میں کئی دیگر گاڑیاں بھی زد میں آئیں جنہیں شدید نقصان پہنچا جبکہ ایک مسافر وین کی چھت پر بیٹھے لوگ پل سے نیچے جا گرے۔
حادثے کے بعد پولیس، رینجرز، ایف ڈبلیو او، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹر وے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور ریسکیو آپریشن کا آغاز ہوا۔
لاشیں نکالنے کے بعد فائر بریگیڈ کی ٹیم کی جانب سے آئل ٹینکر پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا، حادثے کے بعد موٹر وے ایم نائن حیدرآباد سے کراچی جانے والے ٹریک پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور ہیوی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
حادثے کے نتیجے میں آئل ٹینکر کا ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ پولیس کے مطابق رانگ وے جانے والی مسافر بس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا جس کی تلاش کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
صدرِ مملکت آصف زرداری نے ٹریفک حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔
آئل ٹینکر کے جاں بحق ڈرائیور کے بھائی کا بیان
جاں بحق ڈرائیور کے بھائی شفیع اللّٰہ کا کہنا ہے کہ رفیع اللّٰہ ڈیرہ اسماعیل خان سے آئل لے کر کراچی آ رہا تھا، میں دوسرا آئل ٹینکر لا رہا تھا، میں رفیع اللّٰہ سے کچھ ہی منٹ کے فاصلے پر تھا۔
شفیع اللّٰہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھائی ٹینکر میں شدید زخمی حالت میں موجود تھا، جو ریسکیو اہلکاروں کے آنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔