بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ڈھاکہ-15 کے پارلیمانی حلقے سے کامیابی حاصل کر لی ہے، الیکشن کمیشن نے باضابطہ اعلان کردیا۔
الیکشن کمیشن بنگلادیش کے مطابق شفیق الرحمان نے 85 ہزار 131 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے قریبی حریف، بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار شفیق الاسلام خان کو 63 ہزار 517 ووٹ ملے۔ اس طرح شفیق الرحمان نے 21 ہزار 614 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔
جمعرات کی شام جماعتِ اسلامی نے ڈھاکہ-15 کے حلقے میں ووٹوں کی گنتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا۔ جماعت کے مطابق جب ڈھاکا کے دیگر حلقوں کے نتائج الیکشن کمیشن کو موصول ہو رہے تھے، تو ڈھاکا- 15 کے نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر کی گئی۔
ڈھاکا-15 حلقے میں رجسٹرڈ ووٹروں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 51 ہزار 718 ہے، جن میں 1 لاکھ 79 ہزار 616 مرد اور 1 لاکھ 72 ہزار 98 خواتین شامل ہیں، جبکہ چار تیسری جنس کے ووٹرز بھی رجسٹرڈ ہیں۔
اس حلقے سے مجموعی طور پر 8 امیدوار مدمقابل تھے۔
دوسری جانب بنگلادیشی سینئر سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر احمد کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد 77 نشستوں پر کامیاب ہوا، اسلامی اندولن بنگلادیش نے ایک نشست اور آزاد امیدوار 7 نشستوں پر کامیاب رہے۔
بنگلادیشی الیکشن کمیشن نے 297 نشستوں کے باضابطہ نتائج جاری کر دیے، دیگر 2 نشستوں کے نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم میں 60.26 فیصد ووٹرز نے ریفرنڈم کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
جماعتِ اسلامی نے تاحال شکست تسلیم نہیں کی اور کہا ہے کہ وہ ووٹوں کی گنتی سے مطمئن نہیں ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔
خیال رہے کہ بنگلادیش میں قومی انتخابات کے لیے 299 نشستوں اور ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی، ریٹرننگ افسران کو 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل ووٹ موصول ہوئے، پوسٹل ووٹز ایپ کے ذریعے لیے گئے۔