• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان سے سرحد پار حملے اور دراندازی معمول بن چکے، امریکی جریدہ

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

امریکی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان سے سرحد پار حملے اور دراندازی معمول بن چکے۔ 

امریکی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے سرحد پار دراندازی سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک متاثر ہیں۔ 

جریدے کے مطابق افغانستان مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں۔ 

امریکی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو موجود ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ داعش کی افغانستان میں موجودگی کے ثبوت عالمی شراکت داروں سے شیئر کیے جا چکے ہیں، پاکستان نہیں چاہتا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔

انہوں نے کہا کہ داعش حملوں کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید