• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت متنازع علاقہ کو مزید تقسیم کرنے کی سازش کررہا ہے، پروفیسر ظفر خان

لوٹن( شہزاد علی)ممتاز کشمیری اکیڈمک پروفیسر راجہ ظفر خان نے بھارتی افواج کی نقل و حرکت اور حالیہ سرگرمیوں پر اظہار تشویش کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کی بعض حالیہ فوجی اور سیاسی سرگرمیوں پر جے کے ایل ایف کے ڈپلومیٹک بیورو نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی طور پر متنازع علاقے کو مزید تقسیم کرنے کی ہندوستان کی مذموم سازشوں کی ایک کڑی ہے جس کی فرنٹ شدید مذمت کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ متعصب حکمران پارٹی مقبوضہ کشمیر میں اپنے سیاسی اور نظریاتی مقاصد کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہے، جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر راجہ ظفر خان جو چیرمین جے کے ایل ایف ڈپلومیٹک بیورو ہیں نے ایک خصوصی بیان میں واضح کیا ہے کہ 5 اگست 2019 کو ہندوستان کی بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے سیاسی، قانونی اور جغرافیائی جارحیت کی۔ جس سے جموں کشمیر کے خلاف شہریوں کو ریاست سے ان کے حقوق اور شناخت سے محروم کر دیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر کے تمام خطوں کے عوام کو بھارت کی ایک اور جارحیت کی لہر کو روکنے کے چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے بنیادی مفادات، بنیادی انسانی، شہری اور سیاسی حقوق اور آزادیاں بحال ہو سکیں۔ ظفر خان نے ہندوستانی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر کے جغرافیائی اور معاشرتی بگاڑ کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کےنو آبادیاتی طریقہ کار بشمول اسرائیلی ماڈل کی مخالفت کی ہے، انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جبری طور پر منقسم کشمیری جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف آباد ہیں، جن کاحق آزادی و خودمختاری موروثی اور ناقابل تنسیخ ہے اور یہ کہ کشمیری اپنی خود مختاری کے حق سے دستبردار نہیں ہونگے۔ جے کے ایل ایف کے ڈپلومیٹک بیورو کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مقامی اور معاشرتی تسلط پیدا کرنے اور مقامی لوگوں کو نقل مکانی کرنے اور ان کے ذریعہ معاش کو متاثر کرنے کے مقاصد سے سے وادی کشمیر یا کسی اور خطہ کشمیر میں تبدیلی سے بحران پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقصد مزید جموں وکشمیر میں بی جے پی کے ذریعہ بڑے پیمانے پر انتخابی سیاست کے مذموم مقاصد کی تکمیل ہے، جس کی کشمیری پر زور مذمت کرتے ہیں ظفر خان نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ مداخلت کریں اور مودی سرکار کے جموں کشمیر کے لوگوں کے خلاف جارحیت کے ذریعہ مذموم مقاصد سے باز رکھیں، انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل مسٹر انتونیو گٹیرس سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کی جانب سے ہندوستان اور پاکستان سے مساوی حل کے لئے سہ فریقی مذاکرات کے عمل پر زور دیں تاکہ دہائیوں پرانا مسئلہ کشمیر حل ہو سکے۔
یورپ سے سے مزید