• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈیٹ لائن لندن … آصف ڈار
دنیا بھر کے سائنسدان2020ء کے آغاز سے ہی یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ اب کورونا وائرس نے کہیں نہیں جانا۔ یہ ہم سب کے ساتھ ہی رہے گا۔ جیسے فلو، زکام، ملیریا، ڈینگی، ٹی بی وغیرہ کے امراض دنیا میں موجود ہیں اور ان میں سے بعض وائرس کا فرسٹ اسٹیج میں خاتمہ ہوگیا مگر فلو، ملیریا وغیرہ کے لیے اب بھی لوگوں کو ویکسین لگائی جاتی ہے۔ جس طرح برطانیہ میں50سال کے اوپر کے لوگوں کو ہر سال سردیوں میں فلو جاب دی جاتی ہے۔ اسی طرح اب لگتا ہے کہ ہر سال سردی ہی میں لوگوں کو کورونا بوسٹر جاب بھی دی جایا کرے گی۔ یہ بھی درست ہے کہ اب بھی فلو سے ہر سال مغربی دنیا میں ہزاروں اموات ہوتی ہیں اور سائنسدانوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ کورونا وائرس سے بھی مستقبل میں محدود پیمانے پر اموات ہوسکتی ہیں تاہم اس وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس نے انسانوں کے ساتھ رہنا ہے اور انسانوں کو کورونا کے سنگ جینے کا ڈھنگ سیکھنا ہوگا۔ وہ ڈھنگ یہ ہے کہ ہر سال کورونا بوسٹر جاب لگوائیں اور بہت زیادہ احتیاط کریں۔ برطانیہ میں اگرچہ بڑے پیمانے پر ویکسین لگائے جانے کے بعد کورونا وائرس میں بڑی تعداد میں کمی آگئی تھی اور ہلاکتوں میں بھی زبردست کمی دیکھنے میں آئی مگر لاک ڈائون کو کھولنے اور انڈین وائرس کی آمد کی وجہ سے کورونا کیسوں کی تعداد ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور ہسپتالوں میں داخلے بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ غیر جانبدار سائنسی ماہرین اس نئی صورت حال کو انڈین وائرس کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر حکومت ہے کہ اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ انڈیا کی سفارت کاری بہت موثر ہے۔ خود برطانیہ کی حکومت کے اندر انڈین لابی حاوی نظر آتی ہے جبکہ اپوزیشن (لیبر پارٹی) نے بھی سچ بولنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر جریمی کوربن لیڈر ہوتے تو وزیراعظم بورس جانسن سے یہ ضرور پوچھتے کہ سائنسی ماہرین کے مشورہ کے باوجود انہوں نے انڈیا کو ریڈ لسٹ میں ڈالنے میں اتنی تاخیر کیوں کی کہ انڈین وائرس نے برطانیہ کو آن دبوچا، مگر کیئر اسٹارمر نے اس حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں کہا اور تو اور اب لیبر پارٹی بھی اس کو انڈین وائرس کی بجائے ’’ڈیلٹا وائرس‘‘ کہہ رہی ہے۔ انڈین سفارت کاری کی وجہ سے اس وائرس کا نام تک تبدیل کردیا گیا، حالانکہ ابھی کچھ عرصہ قبل تک امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو چینی وائرس کہہ کر پکارتے رہے ہیں اور ان کو کسی نے منع نہیں کیا مگر انڈیا کے خلاف برطانوی حکومت، اپوزیشن اور میڈیا کا بولنا انڈیا کو ناراض کرنے کے مترادف ہے اور یہ لوگ نہیں چاہتے کہ 1,3بلین لوگوں کی اس ’’منڈی‘‘ کو ناراض کریں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ برطانوی حکومت پاکستان، ترکی، مشرق وسطیٰ، افغانستان، بنگلہ دیش اور بعض دوسرے ممالک کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کے لیے انڈیا میں کورونا وائرس کے کیسوں میں کمی کا انتظار کررہی ہے تاکہ ان ممالک کو ریڈ لسٹ سے نکالنے پر انڈیا کہیں’’ناراض‘‘ ہی نہ ہوجائے۔
یورپ سے سے مزید