• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کھلا تضاد … آصف محمود براہٹلوی
آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوگیا ہے۔ انتخابی مہم اور جوڑ توڑ تو گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ حکومت آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان ایک خط لکھنے کی وجہ سے جس میں مبینہ طور پر کورونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے انتخاباتکےدوماہ کا التوا کا لکھا گیا تھا حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے درمیان صورتحال خاصی تنائو کا شکار رہی۔اس غیر یقینی صورتحال کے دوران بھی غیر اعلانیہ الیکشن مہم اپنے عروج پر رہی۔ بالخصوص سیاسی جماعتوں کے درمیان کھینچا تانی، الیکٹ ایبل کو اپروچاور مستقبل کے سہانے خواب اپنی اپنی جماعتوں میں شمولیت اور جماعتوں کے اندر بھی اپنی اپنی لابنگ اور مرکزی قیادت تک رسائی حاصل کر نے کے لئے بھی مڈل قیادت کی کوششیں تیز رہی۔ یہ جوڑ توڑ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں کچھ زیادہ دیکھنے کو ملا اس میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اپنی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں اور اس جماعت میں معروف کاروباری شخصیت و وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مشیر برائے سرمایہ کاری سردار تنویر الیاس کی سابق سپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی انوارالحق کے ہمراہ ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد تو ٹھہرے ہوئے پانی میں طلاطم آگیا ہو۔ پھر کیا تھا کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے کارکنوں نے بیان بازی اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا۔ پھر ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی دو گروپس واضح ہوگئے، دونوں اپنے اپنے حامیوں کو ٹکٹ دلانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے لگے دونوں کے اپنی اپنی جگہ دعوے ہیں کہ ہمارے حامیوں کو زیادہ ٹکٹ ملے ہیں۔ اسی طرح سابق وزیراعظم و صدر سردار سکندر حیات خان نے بھی مسلم لیگ ن سے اپنی رفاقت ختم کرکے اپنی پرانی جماعت کو دوبارہ جوائن کر لیا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ لازمی کسی اشارے پو ہوا ہے وگر نہ سکندر حیات عمر کے اس حصے میں یہ پرواز نہ کرتے۔ آزاد کشمیر کی قائد حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں قیادت کی تبدیلی نہیں ہوئی وہ ایسے ہی انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں لیکن سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے بیماری کے باعث خود عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنے بیٹے کو سیاسی میدان میں اتارا۔ سیانے کہتے ہیں کہ اس سیٹ پر اب پی پی کی پوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ عموماً آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کے انتخابات سابقہ روایات کے مطابق اسلام آباد میں اقتدار والی جماعت کی حمایت یافتہ جماعت ہی اپنی کوششوں سے حاصل کرتی ہے۔ سابقہ ادوار میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل ہوا کرتی تھی۔ پھر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں قائم ہوگئی تو ان کادست شفقت ادھر آگیا، پھر پی پی والے اپنی جماعت کی پشت پنائی کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مرکز میں قائم ہے اور آزاد کشمیر میں ان کی اپنی جماعت اپنے آپ کو اقتدار کے بالکل قریب دیکھ رہی ہے لیکن جس طرح گلگت و بلتستان میں مسلم لیگ ن کے آٹھ بندے توڑے گئے تھے اور آزاد امیدواروں کی درپردہ حمایت سے حکمران جماعت حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی لیکن آزاد کشمیر کی انتخابی صورت حال قدرے مختلف ہے۔ ایک تو آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کا وہ مومنٹم ابھی تک نہ بن سکا، دوسرا آزاد کشمیر کے غالباً گیارہویں الیکشن ہیں مختلف جماعتوں گروپس اور برادری ازم کی وجہ سے کئی ایک خاندانوں کے اپنے اپنے حلقے ہیں جہاں سے تھوڑے بہت فرق سے تقریباً وہی شخصیات کامیاب ہوتی رہی ہیں۔ اب تک حکمران جماعت سے دو افراد یا تین وزیروں نے اپنی جماعت کو خیرآباد کہا۔ ایک تو سابق وزیراعظم سکندر حیات کے صاحبزادے اور چوہدری شہزاد اور پیر علی رضا جنہوں نے مسلم کانفرنس اور دو نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کیا خوب تبصرہ کیا کہ قبلہ پیر صاحب نے گزشتہ ساڑھے چار سال میں صرف پندرہ منٹ قرآن و سنت کی روشنی میں حلف برداری پر تقریر کی اور سب سے پہلے خود ہی اس حلف کی دھجیاں بکھیر دیں۔ خیر 25 جولائی کو آزاد کشمیر کی 33 اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی بارہ کل 45 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوں گے یقیناً ہر ایک جماعت کی کوشش ہوگی کہ وہ اکثریت حاصل کرے۔ لیکن اصل فیصلہ تو آزاد کشمیر کے غیو رعوام نے 25 جولائی کی شام کو کرنا ہے جس کا ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔
یورپ سے سے مزید