• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں زمینوں پر قبضے کیخلاف کمیشن بنایا جائے، ایم کیو ایم

کراچی( اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں زمینوں پر قبضے کیخلاف کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، مردم شماری میں ڈنڈی نہیں ڈنڈا مارا گيا ، دیوار سے لگانے کے بجائے دیوار میں چن دیا گيا ہے، دو سال سے تجاوزات ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے،سپریم کورٹ سے اپیل کی ہےکہ کراچی کے سیاسی و انسانی حقوق کی انکروچمنٹ کا بھی جائزہ لیا جائے، کراچی پر جعلی مردم شماری ،جعلی حلقہ بندیاں ، جعلی ڈومیسائل ، جعلی ڈگریاں ، جعلی لوگ ، جعلی الیکشن اور جعلی نتائج کے ذریعے انکروچمنٹ کی گئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایم کیو ایم (پاکستان) کے عارضی مرکز بہادر آباد میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے احکامات صادر کئے جارہے ہیں، ہم موجودہ چیف جسٹس اور اعلیٰ عدلیہ کا بہت احترام کرتے ہیں اور اب تک جتنا انصاف ہمیں ملا ہے وہ اعلیٰ عدلیہ سے ہی ملا ہے۔گزشتہ چند روز سے عدلیہ کے احکامات کو بنیاد بنا کرآپکے احکاما ت کی آڑ میں انتقامی کا رروائی اور لسانی تقسیم کو گہر ا کیا جا رہا ہے سندھ حکومت اندھا دھند تجاوزات گرا رہی ہے اس عمل کے دوران نہ صرف یہ کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے بلکہ عدالتی احکامات کی بھی دھجیاں اڑائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کر اچی میں تجا وازت کا خاتمہ ضروری ہے لیکن اس سے پہلے بنیا د ی انسانی ضروریا ت اور حقوق کی فر اہمی کو یقینی بنا نے کیلئے تر جیح بنیا دوں پر فیصلو ں کا اس شہر کو انتظار ہے آج بھی نقصان دھوکہ کھانے والوں کا ہورہا ہے کر اچی کے بارے میں احکاما ت کو صادر کر نے کیلئے اس شہر کی تر جیحات کو سامنے رکھا جا ئے اور جن افسران اور اداروں نے یہ لیزیں جاری کیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ سپریم کورٹ کے تجاوزات گرانےکے فیصلےکے ساتھ کھڑے ہیں،عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی آڑ میں جو ہو رہا ہے اس کبخلاف ہیں، فیصلوں پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور علاقوں کے چناؤ سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تجاوزات کی اجازت دینے والے ہی اب اسے گرا بھی رہے ہیں، تجاوزات کی اجازت دینے والوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس سے اپیل ہے ہمارے حقوق کی انکروچمنٹ پر بھی فیصلہ دیں۔ چیف جسٹس ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہو یہ سندھ سکریٹریٹ ہو یہ شہر کے دیگر ادارے اس میں 70سے 90فیصد افسران غیر مقامی ہیں اور انھوںنے یہ تجاوزات کسی کی محبت میں قائم نہیں کئے بلکہ کرپشن کا بازار گرم کیا گیا ۔منظور کاکا جیسے لوگ انصاف کا سامنا کئےبغیر ملک سے فرار کرادیئے جاتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر بھی غور کیا جائے جعلی مردم شماری کے ذریعے اس شہر کے وسائل پر قبضہ کیا گیا جعلی حلقہ بندیوں کے ذریعے نمائندگی چھینی گئی جعلی ڈومیسائل کے ذریعے شہر کراچی کے نوجوانوں سے ایک لاکھ نوکریاں چھینی گئیں اس پر بھی نوٹس لیا جانا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید