• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیلجیئم، محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر تقریب کا انعقاد

بیلجیئم کے شہر اینٹورپن میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سالگرہ کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی ہے۔

اس تقریب کا اہتمام پارٹی کے سنیئر رہنما ملک محمد اجمل نے کیا تھا جس میں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی کے مقامی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رنگوں پر مشتمل کیک کاٹا گیا اور مقررین نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے یورپ میں سنیئر رہنما ملک محمد اجمل نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمارا عشق ہے کیوں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہماری پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے۔ 

انہوں نے محترمہ شہید کے ساتھ گزرے واقعات اور ان کی پاکستان کے لیے خدمات کو تاریخ کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی مسلسل وفاداری کے عزم کو دہرایا۔

پیپلز پارٹی کے ایک اور اہم رہنما ملک اخلاق احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بھٹو خاندان کا اہم کردار ہے، اسی ایٹمی طاقت کی بنا پر آج کوئی پاکستان کو گھور کر نہیں دیکھتا۔

بےنظیر بھٹو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی حقیقی سیاسی وارث تھیں جنہوں نے اپنی ذاتی قربانیوں کی بدولت پارٹی کارکنوں کے دل میں اپنی جگہ بنائی، یہی وجہ ہے کہ بھٹو کا عشق بے نظیر کے بعد بلاول بھٹو تک آپہنچا ہے۔

 انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکن بھی اس بات کو اب سمجھنے لگ گئے ہیں کہ بہت سے حکومتی اداروں کی سربراہی ایک خاص طبقے کے پاس کیوں ہے؟

پارٹی رہنما اور بہت سے دیگر عہدوں کے حامل راجہ طاہر نے کہا کہ ہر تعمیر کی ایک بنیاد ہوتی ہے، پیپلز پارٹی نے اس ملک کو آئینی بنیادیں فراہم کی ہیں، انہوں نے دعوٰی کیا کہ پاکستان کو فوجی قوت بنانے اور اس کی فوجی مضبوطی کے لیے جتنا کام پاکستان پیپلزپارٹی نے کیا ہے وہ کسی اور نے نہیں انجام دیا۔

سالگرہ کی اس تقریب میں پاکستان سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ افتخار احمد نے بذریعہ ٹیلیفون خطاب کرتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو، ان کے خاندان کی دیگر خواتین اور بھٹو خاندان کی لازوال سیاسی قربانیوں پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظیر کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی عوام کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا تھا جسے ایک عہد اور ایک ذمہ داری کے طور پر بے نظیر بھٹو نے آخر تک نبھایا اور ملک میں عوامی اور سیاسی نظام کی سربلندی کے لیے شہادت قبول کر لی۔

اس تقریب کی ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ اس میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض چوہدری محمد خلیل نے انجام دیئے جبکہ اس میں مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماؤں میاں ارشاد گجر اور چوہدری مشاہد نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ 

انہوں نے اس موقع پر ملک اجمل کی تعریف کرتے ہوئے تقریب میں اپنی موجودگی کو سیاسی کارکنوں کے درمیان ان کے پر خلوص کردار کی وجہ قرار دیا۔

ممتاز صحافی خالد حمید فاروقی نے شرکائے تقریب کی جانب سے خطاب کے اصرار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنوں کے درمیان خیال کے فرق کے باوجود موجود ہونا ایک اہم بات ہے۔

اس موقع پر انہوں نے شرکاء کو پیپلز پارٹی کے سیاسی کارناموں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آج کے یورپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہم وجہ محترمہ بے نظیر بھٹو بذات خود تھیں ۔ 

انہوں نے جدوجہد کے دنوں میں یہاں کی لیڈرشپ کے ساتھ جو تعلقات بنائے اس کا فائدہ بعد میں پاکستان کو پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان کا امیج تھیں، وہ پاکستان کی خوبصورتی، اس کی ثقافت اور ملکی نظام میں خواتین کی شرکت کا سب سے بڑا اشتہار تھیں، ان کی شہادت سے پاکستان ایک عظیم اثاثے سے محروم ہوگیا۔

علاوہ ازیں تقریب سے چوہدری طارق ایڈووکیٹ، ملک مسعود کھوکھر اور ملک زبیر نے بھی خطاب کیا جبکہ حافظ فہیم شہباز نے تلاوت کی سعادت حاصل کی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید