• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاق کے ٹیکس کی بلاول کو کیا فکر ہے؟، شہباز گِل

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گِل نے کہا ہے اچھی طرح علم ہے کہ بلاول پرچی چیئرمین ہیں، وفاق کے ٹیکس کی بلاول کو کیا فکر ہے؟ حکومت سندھ نے نان ٹیکس ریونیو کا ہدف بھی حاصل نہیں کیا، یہ اتنی نکمی ہے کہ ان سے اپنا ٹارگٹ حاصل نہیں ہوتا۔

گورنرہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل نے کہا کہ ڈاکو چور بھی اس طرح حکومت نہیں چلاتے، ایان ایکسپریس کی فلائٹ خالی آتی اور جاتی بھر کے تھی، سارا پیسہ باہر چلا جاتا تھا۔

شہباز گِل نے کہاکہ 5200 ارب سندھ کے عوام کے نام پر پیسہ آیا، آدھے سے زیادہ یہ لے اڑے، سندھ حکومت نے نان ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 50 ارب رکھا لیکن حاصل 12 ارب کیا، آپ تو اتنے نکمے ہیں کہ آپ سے اپنا رکھا گیا ٹارگٹ حاصل نہیں ہوتا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ یہ میں نہیں کہہ رہا، یہ دستاویزات کہہ رہی ہیں، مجھے نہیں پتہ کہ اس میں کیا سچ کیا جھوٹ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم آپ کو کھانے نہیں دیں گے، ٹیکس پیئر کا پیسہ آپ کے پاس ہوتا ہے، یہ کیش رکھا کیوں ہے؟ کہاں سے آئے یہ جھمکے کس نے دیے یہ جھمکے؟ کیش میں تو آپ لتھڑے تھے عوام پر کیوں نہیں لگایا۔

شہباز گِل نے کہاکہ سندھ پولیس کی انہوں نے کیا حالت کی ہوئی ہے آپ جانتے ہیں، سندھ پولیس کے کیلئے 102 ارب روپے رکھے، صرف 93 ارب خرچ کئے، ایگری کلچر کیلئے 14 ارب رکھے تھے اس میں سے بھی 4 سے 5 ارب بچا لیے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کراچی اور سندھ نے ہمیں بھاری مینڈیٹ دیا، سندھ کے عوام کو جواب دہ ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ سارے وڈیروں نے ایگر یکلچرٹیکس 61 کروڑ روپے دیا، انہیں13 سال ہوگئے لوٹ مار کرتے ہوئے،بلاول گدھوں کاذکراس لئے کرتے ہیں کہ سندھ کے اسکولوں میں گدھے بندھے ہیں۔

شہباز گِل نے کہاکہ میں کسی کو گدھا نہیں کہہ رہا، سارے وڈیرے مگرمچھ ہیں،آپ کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ہمیں سندھ میں نالی اور گٹر کا کام بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت ہماری حکومت نے غریبوں کی بھرپورمدد کی،وفاق نے سات سوارب سبسڈی دی ،صوبے نے 12 ارب دیئے،ٹرانسپورٹ کے لئے 539ملین رکھے گئے خرچ 311 ملین کئے گئے۔

شہباز گِل نے بتایا کہ وفاق نے اس دفعہ ٹیکس زیادہ جمع کیا، یہاں ہیلتھ کارڈ نہیں دیے گئے، سندھ میں تو لوگ بیمار ہی نہیں ہوتے، کتے کاٹنےکی ویکسین کیوں نہیں لی؟آپ ہر چیز میں ناکام ہیں یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔

شہباز گل نے کہاکہ ہم کیوں سندھ کو محروم کریں گے؟ یہ کوئی پرائی جگہ ہے کہ کم پیسہ دیں گے،جب پیسہ ملتا ہے تو سوال تو پوچھیں گے، ہم انہیں کیش بالکل نہیں دیں گے، ہم نے ایک دفعہ بھی این ایف سی سے کم حصہ نہیں دیا، پیسہ آپ پر نہیں لگتا ایان علی لے اڑتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ یہ تنخواہوں میں اضافے کا کریڈٹ لیتے ہیں، یہ اضافہ وفاق کے پیسوں کی وجہ سے ہوا،اگر آپ وفاق کو اتنا مس کرتے ہیں تو ایپلی کیشن دیں کہ آپ کچھ نہیں کرسکتے وفاق ٹیک اوور کر لے گا۔

معاون خصوصی نے کہاکہ سندھ نے کوویڈ پر 20 ارب روپے خرچ کیے، یہ پیسے آخر کس چیز پر خرچ کیے گئے؟ ویکسین تو وفاق نے فراہم کی تھیں اور آپ کے حصے سے زیادہ آپ کو ویکسین فراہم کی،یہ بھی کوئی پڑھا لکھا کورونا لگتا ہے۔

شہباز گل نے کہاکہ ڈاکٹر فیصل اور اسد عمر نے ان سے پوچھا کہ آپ ویکسین کیوں نہیں منگواتے؟ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ صحت صوبائی معاملہ ہے،انہیں ویکسین کیلئے کسی این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان لوگوں نے تمام بیراجوں کا دورہ کیا یہ ایک جگہ بھی پانی کی چوری نہیں دکھا سکے۔


قومی خبریں سے مزید