• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کابل۔ دہلی اور تہران سے آنے والی ہوائیں اور ہم

کابل، دہلی ، تہران سے آنے والی ہوائیں اب سرگوشیاں نہیں خبردار کررہی ہیں کہ وہاں برپا ہونے والی تبدیلیاں اس کشورِ حسین پر بھی اثر انداز ہونے والی ہیں۔ افغانستان سے امریکی افواج ذلّت اور رُسوائی کے زخم لے کر اپنے وطن پسپا ہورہی ہیں۔ بھارت کی مودی سرکار کشمیر کے حوالے سے کچھ نیا سوانگ رچانے والی ہے۔ ایران میں سخت گیر رویہ رکھنے والے صدر کو ایرانیوں نے اپنی تقدیر سونپ دی ہے۔ فلسطین میں شدت پسند بنیاد پرست یہودی وزیر اعظم بن گیا ہے۔ امریکہ اور انڈیا مل کر ہمارے دوست محسن چین کے لئے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔کیا ہماری قیادت کی دعویدار حکمراں سیاسی جماعت اور دوسری سیاسی پارٹیوں نے اس بین الاقوامی صورت حال پر اپنی کسی مرکزی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ کیا مسلم لیگ(ن) کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف نے، نائب صدر مریم نواز نے ، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ان عالمی مسائل پر کوئی پالیسی بیان جاری کیا ہے؟

کیا دنیا میں رُونما ہونے والی یہ طغیانیاں سرحدوں پر خاردار باڑ کی وجہ سے پاکستان میں داخل ہونے سے رک جائیں گی۔ کئی کئی سال حکومتیں کرنے والی، عالمی مسائل سے نمٹنے والی یہ پارٹیاں ایسی قیامتوں کے نتائج فراموش کرچکی ہیں۔ کیا ہم بھول چکے ہیں کہ نائن الیون کے بعد پاکستانیوں کو کیسی کیسی آفات کا مقابلہ نہیں کرنا پڑا تھا۔ کیا کسی قومی سیاسی جماعت کو یہ ادراک نہیں ہے کہ افغانستان میں جب موجودہ سرکاری ڈھانچہ طالبان کے سامنے زمیں بوس ہوگا تو وہاں سے پھر مہاجرین کے قافلے طورخم کی طرف نہیں بڑھیں گے۔ طالبان کی مذہبی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نئے نئے ضم ہونے والے اضلاع کو برآمد نہیں ہوں گی۔ کیا پھر ’پختون ولی‘ کی روایتی میزبانی شروع نہیں ہوگی۔

ہم جمہوریت کے عشق میں اکثر جنونی ہوجاتے ہیں۔ آئین کی بالادستی ہمیں بہت ستاتی ہے۔ پارلیمانی نظام سے ہمیں شرعی محبت ہوگئی ہے۔ جمہوریت کا ستون اور پارلیمانی نظام کی طاقت تو ایسی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں جن کی تنظیم ملک گیر ہو۔ جن کی جڑیں ملک کے کونے کونے میں ہوں۔ جن کی رکنیت ہر شہر ہر قصبے میں ہو۔ آئین کی رو سے تو ایسی سیاسی پارٹیوں کو الیکشن میں حصّہ لینے کا اختیار ہوتا ہے جس میں ملک کا ہر شہری مذہب، نسل، علاقے، زبان اور قبیلے کے امتیاز سے بالاتر ہوکر شامل ہوسکے۔ ان کے نام بھی ایسے ہونے چاہئیں جو کسی شہری کے پارٹی میں داخلے میں رکاوٹ نہ ہوں۔ مجھ جیسے تاریخ اور سیاست کے طالب علموں کو دُکھ ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کی پارٹی ہوکر رہ گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت کے دفاتر میں سمٹ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اور وہ بھی دیہی سندھ تک رہ گئی ہے۔کراچی والوں کے دل جیتنے اور یہاں اپنی پارٹی تنظیم موثر کرنے کی کوشش کرتی دکھائی نہیں دیتی۔ صرف سرکاری محکموں پر غلبہ پارہی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام بلوچستان اور کے پی میں ہے یا دینی مدارس میں۔ اے این پی کے پی میں بھی چند اضلاع تک۔ کیا زمانہ تھا کسی وقت پورے ملک میں اس کا غلغلہ ہوتا تھا۔ ایم کیو ایم اپنے گڑھ میں بھی بہت سمٹ کر رہ گئی ہے۔ کسی دَور میں پورے ملک کی سیاسی طاقت کا توازن اس کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ بلوچستان میں علاقائی پارٹیاں ہیں۔ جو وہیں تک اختیار رکھتی ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے کے پی میں ضم ہونے والے اضلاع میں کچھ سیٹیں لی ہیں۔ لیکن اس کا نام اسے علاقائی پارٹی بناتا ہے۔ ایسی پارٹیوں کو الیکشن کمیشن کیسے اجازت دیتا ہے؟ یہ ایک آئینی اور اخلاقی سوال ہے۔

بجٹ کسی بھی ملک کے سال بھر کے لئے اقتصادی لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ ملک کی جسمانی اور روحانی صحت کا ضامن ہوتا ہے۔ اس کے لئے تیاری بہت پہلے سے ہونی چاہئے۔ واہگہ سے گوادر تک 23کروڑ پاکستانیوں نے دیکھ لیا کہ بجٹ کے اہم اور حساس ترین موقع پر حکمران پارٹی سمیت سب سیاسی پارٹیوں کے کیا رویے تھے۔ کیاانہیں مہذب اور ذمہ دار کہا جاسکتا ہے۔ کیا معیشت جیسی حقیقت سے سنجیدہ برتائو نہیں ہونا چاہئے؟ پارلیمانی نظام کی کامیابی کا دارو مدار صرف حکمراں پارٹی پر نہیں، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں پر ہوتا ہے۔ ہر پارٹی نے ایک متبادل کابینہ تشکیل دی ہوتی ہے جس میں متبادل وزیر اپنے اپنے شعبے کے مسائل اور امور پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ مہذب جمہوریتوں میں تو ہر ماہ ہر شعبے پر پالیسی رپورٹیں بھی جاری کی جاتی ہیں۔ پارٹی کے ماہرین اور محقق سارے شعبوں کے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔ صرف ہلّا گلّا، شور و غل اور دھول دھپا نہیں ہوتا۔ یہ 23 کروڑ عوام کی صحت، روزگار اور بقا کے مسائل ہیں۔

ذمہ دار سیاسی پارٹیاں ہر سال باقاعدگی سے اپنے 1۔ ضلعی۔2۔صوبائی اور 3۔ قومی کنونشن منعقد کرتی ہیں جس کے لئے مندوبین باقاعدہ منتخب کیے جاتے ہیں۔ اس سے ہر پارٹی میں ایک جمہوری تمدن برقرار رہتا ہے اور پارٹی کے ہر کارکن کو یہ اعتماد نصیب ہوتا ہے کہ اسے فیصلہ سازی میں شریک کیا جارہا ہے۔ کیا ایسا ہورہا ہے؟ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پہلے تو یہ بحث ہوتی تھی کہ ہمارے سیاسی رہنما کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے۔ صرف اخبارات پڑھتے ہیں۔ اب تو اخبارات پڑھنا بھی چھوڑ دیے ہیں۔ صرف ٹاک شوز دیکھتے ہیں یاخبریں ۔ الیکٹرانک میڈیا سب سے زیادہ جگہ اور وقت سیاسی رہنمائوں کو ہی دیتا ہےجو قوم کا ایک فی صد حصّہ بھی نہیں ہوں گے۔ اس اہمیت کے باوجود سیاسی رہنما عوام کے ذہنوں میں دیرپا تاثر کیوں قائم نہیں کرپاتے۔ اس لئے کہ ان کی سوچ سطحی ہوگئی ہے۔ ان کے فہم میں گہرائی نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو سیاسی اتحادوں نے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے کیونکہ وہ اپنی پارٹی کی ملک گیر تنظیم کے عمل کو نظر انداز کرکے اتحاد کے جھولوں کے مزے لینے لگ جاتے ہیں۔ان پارٹیوں کی ویب سائٹس ہیں مگر وہاں بھی زیادہ تر بیانات ہیں۔ آپ مختلف اہم موضوعات پر پارٹی پالیسی جاننا چاہیں تو رہنمائی نہیں ملتی۔ کس صوبے کس ضلع میں پارٹی کے رجسٹرڈ ارکان کتنے ہیں۔ دفاتر، اسٹڈی سینٹرز کہاں کہاں ہیں، ایسی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں دنیا کی جمہوریتیں جن بلندیوں پر ہیں ہمیں وہاں تک پہنچنے میں کتنے برس لگیں گے۔ یہ سیاسی پارٹیوں کے رویوں اور ویب سائٹس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اب علاقے میں اور عالمی سطح پر کورونا کے خاتمے کے بعد جس تیزی سے اقتصادی ،سماجی،سیاسی، علمی اور میڈیکل پالیسیاں طے ہونے والی ہیں ، کیا ہماری سیاسی پارٹیاں اس تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکیں گی؟

تازہ ترین