• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا میں بنیادی سہولتیں دینے کا ٹریبونل کا حکم نامہ منسوخ

راچڈیل (نمائندہ جنگ)برطانوی ہائیکورٹ نے پناہ کے متلاشی افراد کو کورونا بحران کے دوران رہائش فراہم کرنے اور بنیادی سہولیات دینے کا ٹریبونل کا حکم نامہ منسوخ کر دیا۔ ہائیکورٹ کے ایک جج نے فیصلے میں کہا ہے کہ ٹریبونل کا فیصلہ جس کے مطابق مسترد کردہ پناہ کے متلاشی افراد کو وبائی بیماری کے خاتمے یا کورونا لاک ڈائون کی پابندیاں ختم ہونے تک رہائش دینی چاہیے قابل قبول نہیں، باور کیا جا رہا ہے کہ عدالتی فیصلہ کم از کم ایک ہزار کے قریب پناہ کے متلاشی افراد براہ راست متاثر ہونگے۔اپریل میں اسائلم سپورٹ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ کوویڈ کے بڑھتے ہوئے خطرہ کی وجہ سے بے سہارا اور پناہ مانگنے والوں کو سڑکوں پر خوار ہونے سے بچایا جانا چاہیے، ہوم آفس کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب تک روڈ میپ کے مراحل طے نہیں ہو جاتے، اس وقت تک پناہ کے متلاشی افراد کے گروپ کو شامل کرنا جاری رکھا جائے، ہوم آفس نے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر کے عدالت سے ٹربیونل کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی جس پرمسٹر جسٹس چیمبرلین نے اس کی اجازت دی اور گروپ کی حفاظت کے ٹریبونل کے فیصلے کو منسوخ کردیا، انہوں نے فیصلے میں کہا کہ اگرپناہ کے متلاشیوں کو رہائش فراہم نہیں کی گئی تو ہوم آفس انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوگا،تاہم ہوم آفس متاثرہ افراد کو فوری طور پر بے دخل کرنا شروع نہیں کر سکے گا، کیونکہ عدالت معاملہ دوبارہ امیگریشن ٹربیونل کو دوبارہ غور کرنے کے لئے بھیج رہی ہے سیکرٹری داخلہ پریتی پٹیل کے ذریعہ لائے گئے کیس کی کامیابی کے باوجود جج نے کچھ عناصر کو تنقید کا نشانہ بنایا، اس معاملے سے متعلق گزشتہ چند مہینوں سے ہائیکورٹ کے متعدد مقدمات چل رہے ہیں اور سیکرٹری داخلہ کے کچھ پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے کے اختیارات کی جانچ پڑتال کی گئی ہے، پہلے والے معاملے میں پٹیل کے لئے وکیل اس بارے میں کوئی وضاحت دینے سے قاصر تھے کہ وہ کیا اختیارات استعمال کررہی ہیں، ہوم آفس کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے، وبائی امراض کے دوران ، ناکام پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو رہائش اور مالی امداد ٹیکس دہندگان کی رقم سے مہیا کی گئی، عوامی اخراجات پر رہائش کا مطالبہ کرنے کی بجائے انہیں واپس گھروں کو لوٹنا چاہیے ۔
یورپ سے سے مزید