کراچی (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ شمال مشرقی چین کے ایک مقام سے کھدائی کے دوران انسان کی ایک نئی نسل کی باقیات دریافت ہوئی ہیں جنہیں ہومو لونگی یا ’’ڈریگن مین‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق، یہ نئی نسل ممکنہ طور پر نینڈرتھال کے مقابلے میں جدید دور کے انسانوں کے قریب ترین آبائو اجداد تصور کیے جا سکتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہومو لونگی نسل کے اس انسان کی کھوپڑی 1930ء میں دریافت ہوئی تھی تاہم اسے جاپانی فوج سے بچانے کیلئے ایک کنویں میں چھپا دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں کھدائی کرکے 2018ء میں اسے ہبئی یونیورسٹی کے پروفیسر جی چیانگ کے سپرد کر دیا گیا۔ نیچرل ہسٹری میوزیم لندن کے کرس اسٹرنگر کے مطابق، تجزیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نسل کے انسان کی کھوپڑی دریافت ہوئی ہے وہ جدید دور کے انسانوں (ہومو سیپئنز) کے قریب ترین معلوم ہوتی ہے۔ یہ رپورٹ دی اینوویشن جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل میں بین الاقوامی ماہرین آثار قدیمہ کو نیشر رملہ نامی مقام پر کی جانے والی کھدائی کے دوران ایک کھوپڑی برآمد ہوئی ہے جس کے متعلق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک لاکھ بیس ہزار سال سے زائد پرانے دور کے انسان کی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس انسان کی کھوپڑی کے ٹکڑے برآمد ہوئے ہیں وہ مکمل طور پر ہومو سیپئنز نسل کا نہیں تھا اور نینڈرتھال نسل کا بھی نہیں تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایسی نسل کا انسان ہو سکتا ہے جو منفرد نسل کا ہے جس کی سائنس نے پہلے کبھی نشاندہی نہیں کی۔ بتایا گیا ہے کہ برآمد کی گئی کھوپڑی کی ہڈی جدید دور کے انسان اور نینڈرتھال کی ہڈی کے مقابلے میں زیادہ موٹی ہے۔