• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو املا کے ضمن میں جہاں کئی اختلافات ہیں وہاں ہمزہ(ء) کا استعمال بھی بعض اوقات اختلاف کا سبب بن جاتا ہے ۔ اس ضمن میں چند گزارشات مختصرا ً پیش ہیں:

٭٭… ہمزہ کی حیثیت

ہمزہ (ء) ایک باقاعدہ حرف ِ تہجی ہے لیکن اس کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ ہے کہ ہمزہ کوئی حرف ِ تہجی نہیں ہے بلکہ محض ایک علامت ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ عربی کے اٹھائیس حروف ِ تہجی میں ہمزہ( بظاہر)شامل نہیں ہے۔ لیکن ہمزہ دراصل الف کا قائم مقام ہے ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہمزہ دراصل الف ہی ہے۔ اردو لغت بورڈ کی لغت کی پہلی جلد میں الف کے تعارف میں لکھا ہے کہ ’’متحرک الف کو عربی میں ہمزہ کہتے ہیں‘‘۔

٭٭… ہمزہ کا اردو میں استعمال

ہمزہ کے استعمال کے ضمن میں بعض اختلافات کے باوجود بیش تر اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ لفظ ’’لیے ‘‘ میں ہمزہ نہیں آئے گا۔ لیکن افسوس کہ بعض اخبارات اور رسائل اب بھی ’’لیے‘‘ کو لئے‘‘لکھ رہے ہیں۔ کچھ عرصے قبل حیدرآباد (سندھ) میں ابتدائی جماعتوں کی اردو کی چند درسی کتب دیکھنے کا اتفاق ہوا جن کے سرورق پر ’’فلاں جماعت کے ’’لئے‘‘ ‘‘چھپا ہوا تھا۔ بہت افسوس ہوا کہ جو لوگ املا کے بنیادی مسائل سے واقف نہیں ہیں وہ ابتدائی درجے کی نصابی کتب کی تیاری اور چھپائی میں مشغول ہیںحالانکہ ابتدائی جماعت کے طالب علم کی عمر ایسی ہوتی ہے جس میں بنیادیں پڑ رہی ہوتی ہیں اور یہ غلط املا پھر تا عمر ذہن میں رہتا ہے۔

بعض حضرات ’’لیے‘‘ میں ہمزہ اور ’’ی‘‘ دونوں لکھ دیتے ہیں یعنی اسے ’’لیئے‘‘ لکھتے ہیں۔ چلیے صاحب چھٹی ہوئی۔ جس کا جو جی چاہے لکھے، آخر جمہوری دور ہے ۔

بنیادی بات یہ ہے کہ ہمزہ ایک حرف ِ تہجی ہے اور اردو لغت بورڈ نے اردو کے جو تریپن (۵۳) حروف اور مقتدرہ قومی زبان (اب اس کا نام ادارۂ فروغ ِ قومی زبان ہوگیا ہے ) نے اردو کے جو چوّن (۵۴) حروف طے کیے ہیں ان میں ہمزہ بھی شامل ہے ۔

ہمزہ دراصل الف کا قائم مقام ہے۔کسی لفظ میں کوئی بھی حرف بغیر کسی وجہ کے نہیں آسکتا اور ہمزہ بھی نہیں آسکتا۔ لیکن بعض لوگ اسے حرف ِ تہجی کی بجاے محض علامت سمجھتے ہیں اور اس کے استعمال میں صحت کا خیال نہیں رکھتے۔ اگر کوئی حرف کسی لفظ میں بلا وجہ آئے گا تو اس لفظ کے ہجے (spelling) غلط ہوجائیں گے۔ کیا ہم انگریزی کے کسی لفظ میں کوئی حرف غیر ضروری طور پر لکھتے ہیں؟ ہرگز نہیں کیونکہ فوراً ’’جاہل‘‘ کا خطاب مل جائے گا۔ اور رہی اردو تو اردو کا اب یہ حال ہے کہ’’ غریب کی جورو سب کی بھابی‘‘۔ لیکن انگریزی تو ’’بیگم صاحبہ ‘‘ ہے ، بھلا کس کی مجال ہے کہ انگریزی میں ایک حرف کی بھی غلطی کرے۔

٭٭… ہمزہ کے استعمال کے اصول

ہمزہ کے استعمال کے سلسلے میں ماہرین نے کچھ اصول طے کیے ہیں، مثلاً:

۱۔ جن الفاظ میں ہمزہ آئے گا ان کے لیے شرط ہے کہ ا ن میںہمزہ سے پہلے الف ہو، جیسے :آئیے، جایئے، لایئے، فرمایئے، کھائیے وغیرہ۔ان سب میں ہمزہ آئے گا۔

۲۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ہمزہ سے پہلے واو(و) ہو،جیسے:کھوئیے، رویئے، دھوئیے، سویئے ، وغیرہ ۔ یہ الفاظ بھی ہمزہ کے ساتھ درست ہیں۔

۳۔ایک اور صورت ہمزہ کے استعمال کی یہ ہے کہ ہمزہ سے پہلے والے حرف پر زبر ہو، جیسے: گَئے،نَئے۔’’گئے ‘‘میں گاف پر زبر ہے اور ’’نئے ‘‘میں نون پر زبر ہے ، اس لیے یہاں ہمزہ چاہیے۔

۴۔لفظ ’’لیے ‘‘ کا املا دراصل ’’ل ی ے ‘‘ہے۔ اس لیے اسے ’’لئے ‘‘ (یعنی ل ء ے )نہیں لکھنا چاہیے۔لئے، کئے ، دئے ، سئے، جئے، لیجئے، کیجئے، دیجئے وغیرہ لکھنا غلط ہے ۔ ان کے تلفظ میں ہمزہ کا کوئی کام نہیں اور ان کا درست املا بغیر ہمزہ کے بغیر یعنی لیے، کیے، دیے، سیے، جیے، لیجیے، کیجیے، دیجیے وغیرہ ہے۔ ’’ کیجیے ‘‘ کا املا ’’ک ی ج ی ے‘‘ ہے ۔ اسے کیجئے یعنی ’’ ک ی ج ء ے‘‘ لکھنا کس طرح درست ہو سکتا ہے ، کیونکہ اس طرح تو اس کا تلفظ بھی ٹھیک طرح سے ادا نہیں کیا جاسکتا۔

۵۔ ’’چاہیے ‘‘میں بھی ہمزہ نہیں چاہیے۔اسی طرح جمع کے لیے ’’چاہییں ‘‘ درست ہے، یعنی دو ’’ی‘‘ کے ساتھ ، اور ہمزہ کے بغیر۔

۶۔آزمائش ، نمائش، فرمائش وغیرہ کے ضمن میں رشید حسن خاںصاحب نے فارسی کی سند دی ہے کہ فارسی میں ایسے موقعوں پر ہمزہ کی بجاے ’’ے‘‘ لکھی جاتی ہے یعنی آزمایش، فرمایش، نمایش وغیرہ۔یہاں ہم رشید صاحب سے بصد ادب و احترام اختلاف کی جسارت کرتے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ اردو کے لیے فارسی کی سندلانا بنیادی طور پر غلط ہے۔ 

اگر فارسی کی سند دیں گے تو پھر ہر معاملے میں دی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر اردو لکھنے کی ضرورت ہی کیا؟ پھر فارسی ہی کیوں نہ لکھی جائے۔ہاں جب فارسی لکھیں گے تو فارسی کے اصولوں کی پیروی کی جائے گی۔ سرِ دست اردو لکھ رہے ہیں لہٰذا اردو کے قوانین اور اصولوں پر عمل ہونا چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ ان الفاظ میں ہمزہ لکھنے ہی سے اس کا وہ تلفظ پیدا ہوتا ہے جو اردو میں رائج ہے یعنی مثلاً فرمائش کا صحیح تلفظ ’’فرما اِش‘‘ہے۔ گویا اس میں ہمزہ الف کا قائم مقام ہے اور ہمزہ کی بجاے ’’ی‘‘ لکھنے سے اس کا تلفظ ’’فرما یِش‘‘ کرنا پڑے گا یا ’’فرما یَش‘‘ ۔ اور یہ دونوں تلفظ اردو کے لحاظ سے درست نہیں ہیں۔

نمائش، فرمائش، فہمائش،آزمائش، گنجائش، ستائش، آلائش، آرائش، ان سب میں ہمزہ لکھنا چاہیے۔ ورنہ اردو کا درست تلفظ ادا نہیں ہوسکے گا۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی