• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزادکشمیر کے وزیرِ خزانہ نے کُل 141 اعشاریہ 4 ملین روپے کا بجٹ ایوان میں پیش کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا کُل تخمینہ 31500 ملین روپے لگایا گیا ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وزیرِ خزانہ آزاد کشمیر نے کہا کہ اعزاز کی بات ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت کا پانچواں بجٹ پیش کر رہی ہے، 5 سال قبل جو ترجیحات مقرر کی تھیں ان میں بیشتر پر عمل درآمد کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی آزاد کشمیر حکومت نے اپنے منشور کے 90 فیصد اہداف حاصل کر لیئے، آزاد کشمیر حکومت نے بھارتی جارحیت کی شکار سول آبادی کی بھرپور کفالت کی ہے۔

وزیرِ خزانہ آزاد کشمیر نے کہا کہ انکم ٹیکس سے 22600 ملین روپے جبکہ دیگر ٹیکسز سے 8900 ملین روپے کی آمدن متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی اخراجات کے لیئے 28000 ملین روپے رکھے گئے ہیں، ترقیاتی میزانیے کیلئے رکھے گئے 28 ارب روپے میں سے 2 ارب روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ آزاد کشمیر نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم گزشتہ مالی سال سے 14 فیصد زائد ہے۔

آزاد کشمیر اسمبلی کا اجلاس دن 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

آزاد کشمیر کابینہ کی بجٹ کی منظوری

اس سے قبل آزاد کشمیر کابینہ نے بجٹ کی منظوری دے دی، کابینہ نے فنانس بل کی منظوری بھی دی۔

مظفرآباد میں کابینہ اجلاس وزیرِ اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں آئی پی پی پیز پر ایک فیصد ٹیکس کی شق مسترد کر دی گئی۔

آزاد کشمیر کی کابینہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایک فیصد ٹیکس آزاد کشمیر کے ساتھ زیادتی ہے۔

قومی خبریں سے مزید