• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحولیا ت کے تحفظ کیلئے درخت لگائیں

زمین کو نظام شمسی میں ایک منفرد مقام حاصل ہے کیونکہ صرف اسی سیارے پر زندگی موجود ہے۔ خلا سے انتہائی حسین نظر آنے والی اس زمین پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے جانور اور پودے جنم لیتے گئے۔ بلند و بالا پہاڑ، گھنے جنگلات، سر سبز مرغزار، ہرے بھرے درخت، رنگ برنگے پھول، گنگناتے جھرنے، اٹھلاتی ندیاں، شور مچاتے آبشار اور خوبصورت چرند پرند قدرت کے شاہکار ہیں۔ پاکستان اس معاملے میں خاصا خوش نصیب رہا ہے کہ قدرت نے اسے یہ تمام انعامات بخشنے میں انتہائی فیاضی سے کام لیا ہے۔

انسان کا فطرت سے بڑا گہرا اور قریبی رشتہ رہا ہے۔ صنعتی انقلاب سے قبل کی بات کریں تو انسان قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کو استعمال ضرور کرتا تھا مگر ان کے استحصال اور اس نظام میں مداخلت کا خیال اسے کبھی نہ آیا تھا۔ انسان ماحول کا ایک لازمی عنصر بن کر زندگی بسر کرتا تھا۔

اس نے قدرت کے خزانے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنگلات کی سیر و تفریح اس کی روحانی تر و تازگی اور تسکین کا باعث رہے ہیں ۔ گھنے اور خاموش جنگلوں میں انسان کو روحانی روشنی اور دلی سکون میسر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم میں لوگوں نے قدرتی ماحول سے خوشگوار رابطہ قائم رکھا مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا انسان کی ترجیحات اورت نقطۂ نظر میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ انسان نے قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کو بے دریغ خرچ کرنا شروع کردیا۔ صنعتی ترقی نے اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا۔

دنیا کی آبادی میں ہونے والا مسلسل اضافہ ماحولیاتی مسائل میں اضافے کی ایک وجہ بنتا گیا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو رہائش، غذا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہم کے لیے انسانوں نے جنگلات کو صاف کرنا شروع کیا۔ جنگلات بارش برسانے، آکسیجن کی مقدار متعین کرنے، فضا کو صاف رکھنے، فضائی توازن برقرار رکھنے اور زمین کی تخریب کاری روکنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی اس میں رہنے والے جنگلی جانور ماحولیاتی نظام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

 جنگلات کی کٹائی سے جنگلی جانور اپنا مسکن چھوڑ کر فرار ہوجاتے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے ان کی نسلیں معدوم ہونے لگتی ہیں۔ آج پوری دنیا میں کئی نایاب جانوروں کی نسلیں ناپید ہونے کے قریب ہیں۔ اس کے علاوہ بعض ادویاتی اور آرائشی اہمیت کے حامل پھول پودوں کا نام و نشان بھی مٹ جانے کے قریب ہے۔

زمین کا تقریباً 30فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں مجموعی طور پر47لاکھ ہیکٹر رقبے سے زیادہ کے جنگلات ختم ہورہے ہیں، جو کہ ڈنمارک سے بھی بڑا رقبہ ہے۔ جنگلات کا خاتمہ ماحول کے آلودہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے کیونکہ درختوں کا اہم ترین کام کاربن گیس جذب کرنا ہے۔ اگر جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ کو نہ روکا گیا تو دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی۔

جنگلات کے خاتمے سے قدرتی توازن متاثر ہوا ہے، جس کا نتیجہ موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ فضا جو کہ بڑی حد تک صاف ہوا کرتی تھی، وہ بھی انتہائی آلودہ ہوچکی ہے۔ قحط سالی، خشک سالی اور سیلاب عالمی مسائل بن چکے ہیں۔ سالہا سال تک جنگلات کی کٹائی کے بعد اب انسان کو زندگی میں درختوں کی اہمیت کا احساس ہونے لگا ہے۔ اقوام متحدہ اور مختلف ممالک کی تنظیمیں جنگل، جنگلی حیات اور ماحول کی بحالی کی طرف توجہ دے رہے ہیں۔ 

حکومت پاکستان بھی ٹین بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کررہی ہے، ساتھ ہی جنگلات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جارہا ہے۔ پاکستان نے پودوں کی دیکھ بھال سے لے جنگلات کی حفاظت کے لیے 85ہزار سے زائد ’گرین ملازمتیں‘ پیدا کی ہیں جبکہ پانچ ہزار نوجوانوں کو نیچر گارڈین کے طور پر تیار کیا جارہا ہے۔اس کے علاوہ 15نئے نیشنل پارک بنائے جارہے ہیں۔

درخت لگانے کی اہمیت اب عام انسان پر بھی آشکار ہو چکی ہے۔ مختلف سماجی تنظیمیں بھی عوام کو شجر کاری کی اہمیت بتاکر درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کاٹے گئے ایک درخت کے بدلے دو درخت لگائے جائیں۔ تمام لوگ اگر درختوں کی اہمیت کو سمجھ لیں تو پھر شہروں ، دیہاتوں اور جنگلات کو ہرا بھرا کرنا نہایت آسان ہوجائے گا۔ درختوں اور جنگلی حیات کی بربادی خود انسان کی بقا کے لیے خطرہ ہے کیونکہ یہ جانوروں اور انسانوں کی غذا بنتے ہیں، ساتھ ہی زمین پر آکسیجن کا تناسب بگڑنے نہیں دیتے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ صورتحال مزید خراب ہونے سے پہلے درخت لگالیے جائیں۔

ماحولیاتی آلودگی اور تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں درخت لگانے پر زور دیا جارہا ہے۔ بالخصوص ایسے علاقوں میں جو زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی زد میں رہتے ہیں۔ درخت سورج کی حرارت کو جذب کرکے اپنے پتوں کے ذریعے ماحول کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ یہ آب و ہوا کو صاف کرتے ہیں جس سے ہمیں سانس لینے کے لیے معیاری ہوا ملتی ہے۔ دنیا بھر میں80فیصد سے زائد چرند پرند کا مسکن درخت ہی ہوتے ہیں جبکہ 25فیصد دوائیں درختوں سے تیار کی جاتی ہیں۔ 

کچھ ماہرین درختوں کے لیے کم سے کم اونچائی بھی ضروری سمجھتے ہیں جوکہ3سے6میٹر تک ہے۔ ہمارے ملک میں درخت لگانے کے بہترین مہینے فروری/ مارچ اور اگست/ ستمبر مانے جاتے ہیں۔ سفیدہ، پاپولر، سنبل اور شیشم جیسے درخت جلدی بڑے ہوجاتے ہیں جبکہ دیودار اور دیگر پہاڑی درخت بڑھنے میں وقت لیتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس زائد جگہ ہے تو درخت لگاکر ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔