کراچی(مانیٹرنگ سیل، ایجنسیاں) سندھ میں سیاسی محاذ آرائی تیز ہوگئی ،ایم کیو ایم صوبائی حکومت کیخلاف سڑکوں پر نکل آئی، وفاقی وزراء اور مشیروں کے بھی لفظی حملے،پیپلز پارٹی نے جوابی وار کیے۔
خالد مقبول صدیقی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوآج ہمارے ساتھ نہیں ان سب کودعوت دے رہا ہوں کراچی مقدمے میں ہمارا ساتھ دیں، خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھو دیش کی حامی حکومت سکیورٹی خطرہ بن گئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نےاپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب اب تک 33 ارب وصول کر چکی ہے اور یہ تقریباً 20کروڑ ڈالر بنتے ہیں، اصل مقدمہ 5000 ارب کے لگ بھگ ہے۔
انہوں نے حکومت سندھ پر درپردہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وصولی سے آپ اندازہ لگا لیں کے اس ملک میں کرپشن کی کیا سطح رہی ہے اور حکمرانوں نے سندھ اور پاکستان کو کیسے لوٹا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت، سندھ سے اکٹھا کی گئی رقم میں سے بہت مختصر حصہ واپس کرتی ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گِل نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اپنا سی وی لے کر واشنگٹن جارہےہیں، وہ امریکا کے تمام مطالبات ماننے کو تیار ہیں لیکن اب وقت بدل چکا ہے،ان کی نوکری پکی نہیں ہونے دیں گے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس کر رہے تھے ۔