• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

5جولائی 1977پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو غیر آئینی طور پر ختم کر کے آرمی چیف جنرل ضیانے ملک میں مارشل لانافذکر دیا، 11برسوں پر محیط اس بدترین دور نے پاکستان کی ریاست کو وہ نا قابل تلافی نقصان پہنچایا کہ 44سال گزر جانے کے باوجود ملک کے سماجی ،سیاسی اور معاشی معاملات آج بھی اس تاریک دور کے اثرات کے زیر اثر ہیں۔پر تشدد اور منتشر معاشرہ ، عوام کی خدمت سے غافل انتہائی کمزور ریاستی ادارے اور تباہ حال معیشت اس پُر آشوب دور کا حاصل ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے عدالت کے روبرو جنرل ضیا کو مخاطب کرتے ہوئے جو کہا تھا وہ ان کے تدبر دوراندیشی اور حقانیت کو ثابت کرتا ہے’’میرا مقام ستاروں پر رقم ہے اورمیرا مقام بندگانِ خدا کے دلوں میںہے ،میں محکوموں اور بے وسیلوں کا نمائندہ ہوں ۔میرے مطابق عوام مملکت کو صحیح تحفظ و سلامتی فراہم کر سکتے ہیں۔میں مفلوک الحال اور بے گھر لوگوں کی نمائندگی کر تا ہوںاور تم اشرافیہ کی نمائندگی کرتے ہو۔میں معاشی مساوات پر یقین رکھتا ہوںاور تم سرمایہ دارانہ نظام پر۔ میرا یقین ٹیکنالوجی پر ہے اور تمہارا ریاکاری پر۔ میراا یمان دستور پر ہے اور تم اسے کاغذ کا پرزہ گردانتے ہو “ ۔شہید بھٹو کے الفاظ کی صداقت تاریخ اور جنرل ضیا کے 5جولائی کے شب خون کے بعد کی چار دہائیوںکے ہر لمحہ نے ثابت کئے ہیں ۔جنرل ضیاکے بہیما نہ اور ظالمانہ دور کے خلاف کی جانے والی بے نظیر جدوجہد بھی نہایت شاندار اور عظیم تھی جس کے نتیجے میں ملک میں کسی حد تک جمہوری نظام اور عوامی حقوق بحال ہوئے اور جسم قید سے آزاد اور گفتار پرتعزیریں ختم ہوئیں مگر اس ضیا دور نے فکری ارتقاکو روک دیا جس کا خمیازہ آج ملک کا ہر فرد ادا کر رہا ہے ۔

جنرل ضیا سے قبل آمرانہ حکومتوں نے بھی سیاست کو ہمیشہ زہر قاتل قرار دیا مگر جس قدر سیاست کی تذلیل ضیادور میں ہوئی وہ ناقابل بیان ہے ۔ اس دور میں سماج کو غیر سیاسی کرنے کے لئے اسے تقسیم در تقسیم کے عمل سے یوں گزارا گیاکہ آج ہمارا معاشرہ ریزہ ریزہ ہو چکا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول عوامی رہنما کو عدالتی قتل کے ذریعے ختم کرکے سمجھا گیا کہ بھٹو کا سحرختم ہو گیا مگر ثابت ہوا کہ فرد کو ختم کرنے سے نظریہ ختم نہیں کیا جاسکتا مگر اس خونِ نا حق نے پاکستان کی سیاست کو خونی لکیر کے ذریعے تقسیم کر دیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قومی حیثیت کو ختم کرنے کےلئے علاقائی ، لسانی، مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کو مضبوط کیا گیا لہٰذا قومی سیاست کمزور ہوئی اور عصبیت کی سیاست کو فروغ حاصل ہوا مقامی سیاست کو فروغ دے کر قومی امور کو جان بوجھ کر بالائے طاق رکھ دیا گیا اور 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے ایسے کٹھ پتلی سیاستدان بنائے گئے جو محدود وژن کے تحت قومی رجحانات سے محروم رہے نتیجتاً ملک کا سیاسی کلچر بدل گیا سرمائے کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز اورکرپشن سیاسی نظام میں سرایت کر گئی اوریوں سیاست کاروبار میں تبدیل ہو گئی ۔ ذات، برادری، مذہبی عقیدہ، لسانی عصبیت اور قومیت کی بنیاد بنا کر پاکستان میں سیاست کے چہرے کو داغ دار کر دیا گیا ۔ تاکہ عوام سیاست سے بیزار ہو جائیں۔ بھٹو صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ملک میں جمہور کوریاست اور سیاست سے جوڑنا تھا ۔ جنرل ضیا اور اس کی سوچ کے پیروکاروں نے جمہور کو سیاست اور ریاست سے لاتعلق کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا ،ریاست کے وسائل کا رخ اس کو سیکورٹی اسٹیٹ بنانے کی طرف موڑ دیا نتیجتاً ریاست کی ترجیح عام آدمی نہ رہا اور فلاحی ریاست کا نظریہ معدوم ہو گیا۔

آج اگر ہمیں پاکستان کو قائد اعظم کے تصورات کے مطابق ایک پر امن ، خوشحال، ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو ہمیں جنرل ضیاکے دور کے آسیب سے نکلنا ہوگا۔ نوجوان نسل کو اس عظیم جدوجہد میں شامل ہو کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری ترجیح رواداری ہے یا انتہا پسندی ہمیں شعور اور جہالت میں سے ایک کو چننا ہوگا ہمیں برداشت اور عدم برداشت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ ہمیں جمہوریت اور آمریت میں سے ایک کے حق میں فیصلہ کرنا ہوگا اور ہمیں فساد اور امن میں سے ایک کواپنانا ہوگا ۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں روحانی سکون ہو نہ کہ تقسیم اور تفرقے کی بنیاد بنے ہمیں عوام کے حق حاکمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ریاستی آئینی اداروں کو بالا دستی دینا ہوگی تاکہ عوام طاقت کا سرچشمہ قرار پائیں اور معاشی مساوات کے ذریعے پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جاسکے ۔ اور اس کے لئے خلق خدا کو بیدار ہونا پڑے گا کیونکہ ان کی بیداری ہی دلیلِ سحر ہے۔

ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے

اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے

تازہ ترین