• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

میاں بیوی کے مسائل پر مبنی گھریلو فلم ’’شریک حیات‘‘

ہمارے معاشرے میں شریکِ حیات کا لفظ صرف عورت کی ذات کے لیے استعمال ہوتا ہے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر عورت مرد کی شریک حیات ہے، تو مرد بھی عورت کا شریک حیات ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے، جس کی شریک حیات دو سگی بہنیں بن جاتی ہیں۔ مذہبی اور شرعی طور پر تو یہ غلط ہے۔ مسئلہ اتنا نازک تھا کہ بہ ظاہر کوئی حل نظر نہیں آتا تھا، چناں چہ یہی وہ موقع تھا، جہاں پہنچ کر ایک مرتبہ تو خود کہانی نگار اور ہدایت کار بھی اُلجھن میں پڑ گئے، چنانچے کافی غور و خوض کے بعد ایک ایسی شکل نکل آئی کہ ایک غلط چیز بھی صحیح ثابت ہوگئی، فلم میں کہانی کے واقعات کچھ اس طرح سے بنائے گئے کہ ایک بہن کو مردہ سمجھتے ہوئے جو کہ زندہ تھی، مگر بے خبری میں دُوسری بہن سے نکاح پڑھ لیا، جب پہلی بیوی کے زندہ ہونے کا علم ہوا، تو دُوسری کو ایک ایکسیڈنٹ حادثے میں مرنا پڑا۔ 

اس طرح سے یہ اُلجھن سلجھ گئی۔ فلم ساز و ہدایت کار ایس ایم یوسف کا نام پاکستان اور ہندوستان کی فلمی تاریخ میں گھریلو و سماجی مسائل پر فلمیں بنانے میں اپنی ایک علیحدہ شناخت رکھتا ہے۔ بھارت میں اُن کی شہرت فلم نیک پروین، گرہستی، اور گماشتہ جیسی سپرہٹ و کلاسیکل فلموں کی وجہ سے ہر عام و خاص میں ہوئی، 1960ء میں بھارت سے جب وہ پاکستان آئے، تو فلم سہیلی بنا کر انہوں نے اپنی شہرت کو یہاں بھی دوام بخشا۔ ان کی فلموں کی کہانیوں کا مرکزی کردار زیادہ تر عورت ہوا کرتی تھی۔ 

کہانی نویس حسرت لکھنوی کو اس طرح کی فیملی ڈراما کہانیاں لکھنے پر ملکہ حاصل تھا۔ فلم ’’شریک حیات‘‘ میں مصنف نے نکاح اور طلاق جیسے اہم شرعی مسائل کو بڑی خُوب صورتی سے کہانی کا حصہ بنایا، جسے ایس ایم یوسف نے اپنی ڈائریکشن سے اس قدر اسلامی انداز میں پردۂ سیمیں پر پیش کیا کہ فلم کے ذریعے ہر عام و خاص لوگوں میں ان اہم دینی مسئلہ کو سمجھنے کی آگہی پیدا ہوتی ہوئی نظر آئی۔ 

فلم کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے یہ فلم ان کا ایک ایسا کارنامہ ثابت ہوئی، جس نے مسلم معاشرے میں شریک حیات کے معنی اور مطلب کی ہیئت کو لوگوں میں عام کیا۔ نغمہ نگار فیاض ہاشمی اور موسیقار اے حمد نے اس فلم کے لیے بے حد عمدہ اور معیاری گیت تخلیق کیے، جو اُردو فلمی شاعری کا شہ پارہ ثابت ہوئے۔ 

فلم کے فوٹو گرافر بابر بلال نے اس بلیک اینڈ وائٹ فلم میں لائٹنگ کا استعمال نہایت خُوب صورتی سے کیا ہے۔ خاص طور پر فلم کے ایک گانے میں جس کے بول تھے!! ’’کسے آواز دوں تیرے سِوا‘‘ اس گانے میں پُراسرار رُوحوں کے ایفکٹ میں انہوں نے جس کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے، وہ دیکھنے کے قابل تھا۔ تدوین کار نیاز احمد نے اپنے شعبے میں جس انداز سے کام کیا تھا، وہ فلم دیکھنے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ 

مختلف اُلجھے ہوئے مناظر کو جس طرح سے انہوں نے فلم کے ٹیمپو میں سلجھا کر جوڑے تھے،وہ لائق ستائش ہیں۔ فلم کے مکالمے اور گانوں کے علاوہ بیک گرائونڈ میوزک کی خوش گوار اور واضح آوازوں کو سینئر سائونڈ ریکارڈسٹ افضل حسین نے نہایت عمدگی سے ریکارڈ کیا۔ اداکاری کے شعبے میں اداکار کمال نے پہلی بار ایک سنجیدہ کردار ادا کر کے فلم بینوں کو خوش گوار حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ 

کمال جسے شوخ و چنچل اور مزاحیہ ہیرو کے حوالے سے شہرت حاصل رہی ہے، لیکن اس فلم میں وہ پہلی بار ایک پُروقار سیاست دان کے کرادر میں نظر آئے، جسے انہوں نے بڑی خوبی سے ادا کر کے ثابت کیا کہ وہ مزاحیہ اداکاری کے ساتھ المیہ کردار نگاری بھی کر سکتے ہیں۔ اداکارہ شبنم اور صابرہ سلطانہ جو اس فلم میں عنوانی کرداروں میں تھیں، یہ دو بہنوں کی کہانی پر مبنی ایک بڑی عمدہ معیاری فلم ہے جو ایک ہی شخص کے نکاح میں آ کر ایک مذہبی مسئلہ پیدا کر دیتی ہیں۔ 

شہنشاہ غزل مہدی حسن کو پہلی بار کسی فلم کے لیے غزل گاتے ہوئے پردۂ سیمیں پر دکھایا گیا تھا۔؎ ’’بات کرنی مجھے کبھی ایسی مشکل تو نہ تھی، جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی‘‘ یہ مقبول غزل ان ہی پر فلمائی گئی تھی۔ شبنم کا کردار اس فلم میں خاصا مشکل تھا، جسے انہوں نے اپنی عمدہ اداکاری سے بہ خوبی ادا کیا۔ سنجیدہ گھریلو مسائل پر مبنی اس فلم میں کامیڈی کی بالکل گنجائش نہ تھی، مگر ایس ایم یوسف نے اداکار لہری کو ایک مختصر سا کردار سونپ کر اس کمی کو دُورکرتے ہوئے اُن سے لاجواب مزاحیہ اداکاری کروائی، اپنے کردار میں لہری بے حد کام یاب رہے۔ دیگر اداکاروں میں قوی، لبنیٰ، بے بی جگنو، شوکت اکبر، ذورین، صاعقہ، امداد حسین، کلاوتی، سجاد حیدر، محبوب کشمیری، عالیہ بیگم، دلراج، یاسمین خان، ارم، بے بی ثریا کے نام بھی شامل تھے۔ یہ یادگار فلم 1968ء میں کراچی کے ریوالی سینما میں ریلیز ہوئی تھی۔ 

باکس آفس پر اس نے شان دار کام یابی حاصل کی۔ فلم کی مختصر کہانی کچھ یوں تھی، کہانی دو سگی بہنیں نجمہ (صابرہ سلطانہ) اور ثریا (شبنم) کے گرد گھومتی ہے۔ سلیم (کمال) اپنے ماموں ملک صاحب (قوی) کی چھوٹی بیٹی ثریا کو چاہتا ہے۔ سلیم نے ثریا سے شادی کے لیے ماموں کی رضامندی حاصل کی، لیکن ماموں نے ثریا کے بہ جائے، اس کی بڑی بہن نجمہ (صابرہ سلطانہ) کو سلیم کے نکاح میں دے دیا، جس کا علم سلیم کو شادی کے پہلے دن ہوا۔ سلیم نے اسے تقدیر کا لکھا ہوا سمجھ کر قبول کر لیا۔ ثریا اپنی باجی کے ساتھ رہنے لگی۔ ایک روز ثریا ایک خط لکھ کر اپنی باجی کا گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ ایک حادثے کا شکار ہو کر وہ شوکت اکبر کے کلینک میں نرس بن کر اپنی زندگی گزارنے لگی۔ نجمہ اور سلیم یہ سمجھے کہ ثریا مر گئی ہے۔ 

ملک صاحب ثریا کی موت کا صدمہ برداشت نہ کر پائے اور وفات پا گئے۔ سلیم ایک بچی کا باپ بن گیا۔ نجمہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے وہ اُسے علاج کے لیے مری بھیج دیتا ہے، جہاں سڑک پر بھیک مانگتے ہوئے ایک فقیر فیضی کو نجمہ اپنے پرس سے کچھ پیسے دینے لگتی ہے، تو اس کی بچی سڑک سے لڑھک جاتی ہے، جسے اپاہج فقیر فیضی اپنی جان پر کھیل کر بچا لیتا ہے۔ نجمہ اس حادثے سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔ سلیم کو اس حادثے کی اطلاع ملتی ہے، وہ مری کی طرف روانہ ہوتا ہے، جہاں سلیم کی کار کو حادثہ پیش آتا ہے اور اس حادثے کے نتیجے میں وہ بھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے۔ سلیم کو علاج کے لیے شوکت اکبر کے کلینک لایا جاتا ہے، جہاں ثریا نرس بن کر اپنے بہنوئی کی خدمت کرتی ہے اور اسے ماضی کے واقعات یاد دلا کر اُس کا علاج کرتی ہے۔ 

ڈاکٹر شوکت کو ثریا اور سلیم کی محبت کا علم ہو جاتا ہے۔ ثریا کے علاج سے سلیم بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے، ثریا اور سلیم کی شادی ہو جاتی ہے۔ ایک روز ایک بچی جگنو سلیم کے پاس بھیک مانگنے آتی ہے جو فقیر فیضی کے پاس رہتی تھی، نجمہ بہن اسی فقیر کی کٹیا میں تھی، جہاں بستی کے لوگ اُسے پاگل سمجھتے ہیں۔ سلیم کو اُس بچی سے ہمدردی ہو جاتی ہے اور وہ ایک روز اس کے ساتھ اس کی کٹیا میں جاتا ہے، جہاں وہ نجمہ کو نیم پاگل حالت میں دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔ وہ اُسے مردہ سمجھ رہا تھا۔ نجمہ کے سر پر چوٹ لگتی ہے اور عین اُس وقت سلیم وہاں آتا ہے، تو اُسے دیکھ کر وہ سرتاج کہہ کر لپٹ جاتی ہے۔ سلیم کے لیے اب ایک اُلجھن ہو جاتی ہے کہ دونوں بہنوں کو وہ بیک وقت کس طرح نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ 

سلیم نے ثریا کو ساری کہانی بتا کر کہا کہ میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہُوں۔ ثریا اپنی بہن نجمہ کے زندہ ہونے کی خوشی میں اسپتال جاتی ہے اور سیڑھیوں سے گر جاتی ہے۔ ڈاکٹر اس کے بچے کو بچا لیتے ہیں۔ ثریا اپنی باجی کے پاس پہنچ کر مر جاتی ہے۔ فلم کی کہانی فلش بیک میں جاتی ہے، جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ سلیم کے بچے کی سال گرہ کی تقریب، جس میں وہ ثریا کے بچے کی سال گرہ پر لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنتا ہے اور پھر اس بچے کی کہانی سناتا ہے۔ فلم کے آخر میں نجمہ اپنی بہن ثریا کی تصویر کے سامنے اس کی قربانی کو یاد کر کے اُداس کھڑی ہے۔ سلیم اور نجمہ ثریا کی قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں۔

فلم کے نغمات بہت یاد گار تھے۔ (1) بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی (کلام بہادر شاہ ظفر) (آواز مہدی حسن) (فلم بندی مہدی حسن)۔ (2) میرے دِل کے صنم خانے میں (نغمہ نگار ریاض الرحمٰن ساغر) (آواز مسعود رانا) (فلم بندی کمال)۔ (3) اک تم ملے تو سارا جہاں مل (نغمہ نگار فیاض ہاشمی) (آواز مالا، منیر حسین) (فلم بندی شبنم، کمال)۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید