بالی ووڈ میں ’شہنشاہِ جذبات‘ کے خطاب سے مشہور یوسف خان المعروف دلیپ کمار نے 1940ء میں ایک فلم کے سیٹ پر دیویکا رانی کو اپنا پہلا انٹرویو دیا اور شاید یہ ملازمت کیلئے پہلا ہی انٹرویو تھا پھر زندگی بھر انہیں کہیں اور انٹرویو دینے کی ضرورت نہیں پڑی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی شُوٹنگ دیکھنے کیلئے وہاں موجود یوسف خان سے دیویکا رانی نے سوال کیا کہ کیا آپ کو اردو آتی ہے؟
یوسف خان کے اثبات میں سر ہلانے کے ساتھ پُراعتماد طریقے سے جواب دینے پر دیویکا خوب متاثر ہوئیں۔
اُس وقت فلمی دنیا کا بڑا نام دیویکا رانی نے دوسرا سوال کیا کہ کیا تم اداکاری کرو گے؟
اس سوال پر یوسف خان کی ہاں پر انہوں نے فوری طور پر ہی یہ ذہن بنا لیا کہ ایک رومانوی اداکار کے طور پر یہ لڑکا ایک بڑا نام کمائے گا۔
یوسف خان اپنے اصل نام کے ساتھ فلم نگری میں نہیں آنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اپنے والد سے چھپ کر یہ کام کر رہے تھے۔
اس مسئلے کے حل کیلئے دیویکا رانی نے ہی ایک شاعر سے یوسف خان کیلئے کوئی رومانوی سا نام تجویز کرنے کیلئے کہا اور بعد ازاں مختلف ناموں میں سے یوسف خان نے اپنے لیے دلیپ کمار کے نام کا انتخاب کیا۔
خیال رہے کہ عظیم اداکار یوسف خان عرف ’دلیپ کمار‘ نے اپنے کامیاب فلمی کیریئر کا آغاز 1944 میں ’جوار بھاٹا‘ کے ساتھ کیا تھا تاہم ان کی مشہور فلموں میں آن، دیو داس، آزاد، مغل اعظم، گنگا جمنا، انقلاب، شکتی، کرما، نیا دور، مسافر، مدھومتی، دل دیا درد لیا، مزدور، لیڈر، جوار بھاٹا، جگنو، شہید، ندیا کے پار، میلا، داغ، دیدار، آگ کا دریا، عزت دار، داستان، دنیا، کرانتی، قانون اپنا اپنا، سوداگر جیسی مایہ ناز فلمیں شامل ہیں جو ان کی مقبولیت کا سبب بنیں۔
انہوں نے 1998ء میں اپنی آخری فلم ’قلعہ‘ میں اداکاری کی۔